پروفیسر ز کیلئے لازمی قرار دیا گیا وارڈوں کا ایوننگ راؤنڈ کا پلان ناکام

پروفیسر ز کیلئے لازمی قرار دیا گیا وارڈوں کا ایوننگ راؤنڈ کا پلان ناکام

لاہور(جاوید اقبال) محکمہ صحت کی طرف سے ٹیچنگ ہسپتالوں کے پروفیسرز کو قابو کرنے کا پلان ناکام ہو گیا ہے محکمہ صحت سپیشلائزڈ اور ٹیچنگ کی طرف سے تمام ہسپتالوں کے تمام یونٹوں کے پروفیسرز کے لیے وارڈوں کاایوننگ راونڈ لازمی قرار دیا گیا تھا ہر پروفیسر نے مارننگ راونڈ کے بعد دوپہر ایک سے دو بجے اپنے اپنے وارڈوں کا ایوننگ راونڈ شروع کرنا تھا جو شروع ہونے سے پہلے ہی ناکامی کی طرف چلا گیا ہے پہلے ہفتہ کے دوران اس پلان پر 22سے 32فیصد پروفیسرز نے عمل درآمد کیا مگر ان کی اکثریت نے بھی اپنے پرفارمے مانیٹرنگ افسروں کے پاس جمع نہیں کروائے اور نہ ہی ایوننگ راونڈ کو یقینی بنایا ہے بلکہ اپنے راونڈ رجسٹرار یا اسسٹنٹ پروفیسر کے ذمہ لگا کر خود بر الزماں ہو گئے مگر پروفیسرز کی عدم موجودگی میں ان دو عہدوں کے ڈاکٹروں نے بھی 70فیصد ایوننگ راونڈ نہیں کیے جس سے محکمہ صحت کے نئے سیکریٹری نجم احمد شاہ کی طرف سے جاری کیا گیا سیکنڈ راونڈ ایکشن پلان عملا ناکام ہو گیا ہے تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت کے سیکریٹری نجم احمد شاہ کو بتایا گیا کہ ٹیچنگ ہسپتالوں میں پروفیسرز بے قابو ہو چکے ہیں ،آؤٹ ڈورز میں جاتے ہیں نہ ان ڈورز میں وزٹ کرتے ہیں اور ایم ایس کی سنتے ہیں نہ پرنسپلز کی اور وارڈوں کے اندر زیر علاج مریض پروفیسرز کے تجربات سے محروم ہو گئے ہیں جس پر سیکریٹری صحت نے گزشتہ ہفتے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس کا مقصد پروفیسرز کی ہسپتالوں میں مقررہ اوقات کار صبح آٹھ بجے سے دوپہر 2بجے تک ان کی حاضری کو یقینی بنانا تھا اور اس کے لیے سیکنڈ ایوننگ راونڈ کے نام سے نیا ایکشن پلان جاری کیا گیا جس کے تحت ہر پروفیسر کو پرفارمے دیئے گئے کہ ہر پروفیسر اہنے یونٹ کے پرفارموں میں اپنے دو راونڈ درج کرے گا پہلا راونڈ وارڈوں کے اندر صبح آٹھ بجے سے صبح 9بجے تک ہو گا جبکہ دوسرا راونڈ جسے فالواپ راونڈ یا ایوننگ راونڈ کا نام دیا گیا اس کے لیے دوپہر 1بجے سے 2بجے تک کا وقت مقرر کیا گیا اس کے لیے پروفیسرز کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنے پہلے اور دوسرے راونڈ پرفارمے میں نوٹ کریں گے اور یہ پرفارمے روزانہ ہر ہسپتال کے ایم ایس کو جمع کروائے جائیں گے ہر ہسپتال کے ایم ایس کو مانیٹرنگ اینڈ ایمپلی مینٹیشن آفیسر کا اختیار دیا گیا یہ افسر ہر پروفیسر کے پرفارمے کو یومیہ بنیادوں پر سیکریرٹری صحت کو پیش کرنے کا پابند بنایا گیا مگر اس پلان پر ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود 25فیصد سے زائد پروفیسرز نے عمل درآمد نہیں کیا جبکہ 75فیصد پروفیسرز پرانی روایات کو برقرار رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے محکمہ صحت اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود گریب مریض کو پروفیسرز کی دستیابی ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکے اور عملا یہ پلان بھی ناکام ہو گیا ہے جس کی تصدیق مختلف ہسپتالوں کے سپریٹنڈنٹس نے کی ہے جن کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت نے ایک اچھا پلان بنایا مگر پروفیسرز مافیا اس پر عمل کرنا اپنی توہین سمجھ رہا ہے بعض ہسپتالوں کے پروفیسرز اپنی رپورٹس پرنسپلز اور وائس چانسلرز کو دے رہے ہیں جو داخل دفتر کرتے جا رہے ہیں جبکہ بعض ے یہ ڈیوٹیجونیئر ڈاکٹروں کو دے دی ہے جو اس پر عمل نہیں کر رہے اور اصل بات یہ ہے کہ اس پلان کی کامیابی کے راستے میں سب سے بڑا پتھر میڈیکل کالجز کے پرنسپلز ہیں جو ایم ایس کو اپنا غلام سمجھتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ایم ایس صاحبان کے ذریعے اس مریض دوست پلان پر عمل ہو اس حوالے سے سیکریٹری صحت نجم احمد شاہ سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ایوننگ راونڈ پر جن پروفیسرز نے عمل درآمد نہ کیا ان کے خلاف کارروائی کریں گے ۔سب سے زیادہ عزیز مریض ہیں اور جو پروفیسرز ہوں یا ڈاکٹرز مریض کے لیے مسائل پیدا کریں گے تو ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...