ہوٹلوں ،شادی ہالوں پر چھاپے بے سود ،فوڈاتھارٹی کھانوں کے نمونوں کی رپورٹس حاصل کرنے میں ناکام

ہوٹلوں ،شادی ہالوں پر چھاپے بے سود ،فوڈاتھارٹی کھانوں کے نمونوں کی رپورٹس ...

لاہور(جاوید اقبال) پنجاب فوڈ اتھارٹی 53ہوٹلوں اور شادی ہالوں سے پکڑے گئے ناقص مصالہ جات اور کھانوں کی رپورٹس حاصل نہ کر سکی جس کے باعث ان ہوٹل اور شادی ہالز کے مالکان سزاؤں اور جرمانوں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں تفصیلات کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی نے گزشتہ کارروائیوں کے دوران درجنوں ہوٹلوں اور شادی ہالوں میں دوران انسپکشن کھانوں کو ناقص قرار دیا، مصالحہ جات کو ملاوٹ زدہ قرار دے کر نمونہ جات حاصل کئے ان میں اندرون شہر میں ایک شادی ہال میں کھانا کھانے سے 200افراد بیہوش ہونے پر ہسپتال داخل ہو گئے تھے بتایا گیا ہے کہ اس شادی ہال سمیت 53ہوٹلوں اور شادی ہالوں سے حاصل کئے گئے نمونہ جات مزید تجزیہ کے لئے فوڈ لیبارٹری میں بھجوائے گئے ان کی رپورٹس حاصل کرنا فوڈ اتھارٹی کی ذمہ داری ہے اور ان پر لازم ہے کہ وہ رپورٹس حاصل کر کے متعلقہ ہوٹلوں کے مالکان کے خلاف کارروائی کرنا تھی فوڈ ایکٹ کی سیکشن 24کے تحت ایسا ہوٹل یا شادی ہال جس سے ناقص کھانا پکڑے جانے اور یا ملاوٹ شدہ جو انسانی صحت کے لئے نقصان کرنا ثابت ہو اس کی رپورٹ ثابت ہونے پر 10لاکھ جرمانہ اور 3سال قید یا دونوں میں سے ایک سزا یا دونوں سزائیں بیک وقت دی جا سکتی ہے جبکہ متاثرین کو ملزمان 5لاکھ روپے فی کس معاوضہ دینے کے پابند ہیں مگر رپورٹس نہ آنے سے ان ہوٹلوں کے کیسز پر فیصلہ نہیں ہو سکے اور نہ ہی فو ڈ عدالت میں چالان جمع کرائے جا سکے ہیں جس سے فوڈ اتھارٹی کی ان کیسز کے حوالے سے خاموشی سوالیہ نشان بن گئی ہے اس حوالے سے فوڈ اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے رپورٹس آئی ہیں رپورٹس کی روشنی میں کارروائی جاری و ساری ہے ترجمان نے کہا کہ ہم پابند نہیں کی رپورٹس حاصل کریں اور اس کی 14دن میں رپورٹس کرنا لیبارٹری کی ذمہ داری ہے ان کیسز کا فالو اپ کریں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1