مصر، حماس اور اخوان پر پراسیکیوٹر جنرل کے قتل کا الزام

مصر، حماس اور اخوان پر پراسیکیوٹر جنرل کے قتل کا الزام

قاہرہ(آن لائن)مصر نے کالعدم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے جلاوطن عہدے داروں پر غزہ کی حکمراں فلسطینی جماعت حماس کے ساتھ مل کر پراسیکیوٹر جنرل ہشام برکات کو گذشتہ سال جون میں بم دھماکے میں ہلاک کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور واقعے میں ملوّث ہونے کے الزام میں چودہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔مصر کے وزیر داخلہ مجدی عبدالغفار نے اتوار کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ہشام برکات پر حملے کا حکم ترکی میں مقیم اخوان کے لیڈروں نے جاری کیا تھا اور اس کو حماس کے ساتھ مل کر عملی جامہ پہنایا گیا تھا۔انھوں نے حماس پر حملہ آوروں کو تربیت دینے اور دھماکا خیز مواد مہیا کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ حکام نے اخوان المسلمون کے اڑتالیس ارکان کو حملوں کی سازش کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے اور ان میں سے چودہ نے ہشام برکات کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت بڑی سازش تھی،اس کا آغاز بہت عرصہ قبل ہوا تھا اور اس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔مصر کے ایک عدالتی ذریعے کا کہنا ہے کہ ہشام برکات کے قتل کے الزام میں چھے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔سرکاری مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی (مینا) کی رپورٹ کے مطابق جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے،ان پر دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں حصہ لینے ،دھماکا خیز مواد رکھنے، اس کو استعمال کرنے اور ایک دہشت گرد گروپ میں شمولیت کا الزام ہے۔مصر کے پراسیکیوٹر جنرل ہشام برکات 29 جون 2015ء کو دارالحکومت قاہرہ میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ وہ قریباً دوسال تک مصر کے پراسیکیوٹر جنرل رہے تھے اور انھیں جولائی 2013ء4 میں عبدالمجید محمود کے مستعفی ہونے کے بعد اس عہدے پر مقرر کیا گیا تھا۔کسی گروپ نے ان پر بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی تھی لیکن شورش زدہ جزیرہ نما سیناء میں مصری سکیورٹی فورسز کے خلاف برسر پیکار جنگجوؤں پر اس حملے میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

وہ جولائی 2013ء سے شمالی سیناء4 میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر بم حملے کررہے تھے لیکن سکیورٹی فورسز کی اپنے خلاف کارروائی کے ردعمل میں انھوں نے ملک کے دوسرے علاقوں میں عدلیہ سے وابستہ شخصیات کو بھی اپنے حملوں میں نشانہ بنانا شروع کردیا تھا۔جولائی 2013ء میں مصر کی مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے ملک کے مختلف علاقوں میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔شورش زدہ جزیرہ نما سینائی میں داعش سے وابستہ جنگجو حملے کررہے ہیں۔تاہم حالیہ چند ہفتوں کے دوران سیناء4 میں تشدد کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔گذشتہ اڑھائی سال کے دوران مصر میں اخوان المسلمون کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کیا گیا ہے اور اس قدیم جماعت کے ہزاروں کارکنان کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا گیا ہے۔ مصری عدالتیں ان میں سے سیکڑوں افراد کو لمبی مدت کی قید یا سزائے موت سنا چکی ہیں۔مصری عدلیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ حکومت اور فوج سے آزاد ہے لیکن اخوان کے حامیوں کو سزائیں سنانے والے ججوں پر متعصب ہونے کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔کالعدم اخوان المسلمون کے حامی مصری عدلیہ پر سیاسی فیصلے جاری کرنے اور اس جماعت کے مرشد عام محمد بدیع اور برطرف صدر محمد مرسی سمیت اعلیٰ قائدین کو معمولی جرائم پر موت اور دوسری سنگین سزائیں سنانے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔تاہم سیاسی کارکنان کو سنائی گئی پھانسی کی سزاؤں پر ابھی تک عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...