فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کا چالیس لاکھ مالیت کا امدادی سامان تھر روانہ

فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کا چالیس لاکھ مالیت کا امدادی سامان تھر روانہ

لاہور(نمائندہ خصوصی) جماعۃ الدعوۃ کے رفاہی ادارے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن نے چالیس لاکھ روپے مالیت پر مشتمل امدادی سامان کی کھیپ قحط سے متاثرہ علاقے تھر سندھ میں روانہ کر دی۔ کراچی سے روانہ کئے گئے امدادی سامان میں خشک راشن،کپڑے و دیگر اشیاء ضروریہ شامل ہیں۔یہ سامان تھر کے دور دراز گوٹھوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ تھری عوام کی مشکلات کو معمول کا حصہ قرار دے کر نظر انداز کرنا ظلم ہے۔ صحرائے تھر میں پانی کی قلت کا خاتمہ اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی فراہمی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز خالد بن ولید پی ای سی ایچ سوسائٹی میں تھرپارکر کے لیے امدادی سامان کی روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر فلاح انسانیت فاؤنڈیش کے وائس چیئرمین شاہد محمودبھی موجود تھے۔مزمل اقبال ہاشمی نے کہا کہ جماعۃ الدعوۃ کے رضاکار تھرپارکر کے دوردراز علاقوں میں متاثرہ خاندانوں کی امداد کے لیے روز اول سے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ تھر کے گوٹھوں میں صاف پانی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ طبی سہولیات اور راشن کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ حالیہ روانہ کیے گئے کھیپ میں 1300 خاندانوں کے لیے ماہانہ راشن بیگ اور 1500 سوٹ شامل ہیں۔ متاثرین کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے کراچی سے مرحلہ وار بنیادوں پر ماہانہ راشن اور دیگر اشیائے ضروریہ روانہ کر رہے ہیں۔ گزشتے دنوں 10 ٹن آٹا تھرپارکر میں تقسیم کیا گیا۔ متاثرین کے لیے خشک دودھ کی بڑی مقدار بھی روانہ کی جائے گی۔ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے وائس چیئرمین شاہد محمود نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی ایف تھرپارکر میں 13 سال سے خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ اب تک تھر کے 3700 گوٹھوں میں امدادی سامان تقسیم کرچکے ہیں۔ جبکہ واٹر پروجیکٹ کی تعداد بھی 1100 سے تجاوز کرچکی ہے۔ حالیہ روانہ کیے گئے امدادی سامان کی کھیپ اسلام کوٹ، چھاچھرو، مٹھی، کلوئی اور عمر کوٹ کے دور دراز گھوٹھوں میں تقسیم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی ایف نے کنوؤں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ سولر انرجی کی تنصیب بھی شروع کردی ہے، تاکہ تھری باشندے انتہائی گہرائی سے باآسانی پانی نکال سکیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1