2016ء پاکستان فلم اندسٹری ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن

2016ء پاکستان فلم اندسٹری ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن

لاہور(حسن عباس زیدی) پاکستان فلم اندسٹری ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہے گزشتہ تین سالوں سے مسلسل ہماری فلموں کی اکثریت کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہے۔اس وقت ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جاتاہے حالات اور واقعات میں ویسے ویسے تبدیلی آتی جاتی ہے یہ ایک قدرتی عمل ہے ۔ لوگوں کی سوچ اور فکر بدلتی ہے اوران کی پسند اور ناپسند کا معیار بھی بدلتاہے۔ اس لیے عقل مند لوگ بدلتے ہوئے رجحانات کو نظر انداز نہیں کرتے اوراس ڈگر پر چل پڑتے ہیں جو موجودہ وقت کا تقاضا ہوتاہے۔2016ء کے پہلے دو ماہ میں اب تک دو پاکستانی فلمیں’’ہومن جہاں‘‘اور’’بچانا‘‘عام نمائش کے لئے پیش کی گئیں ریلیز ہونے والی دونوں فلمیں کامیاب ہوئیں اور ان فلموں نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں شاندار بزنس کیا۔’’ہومن جہاں‘‘اور’’بچانا‘‘کی کامیابی کو فلمی صنعت کیلئے انتہائی خوش آئند مانا جا رہا ہے ۔پاکستانی فلموں کی گزشتہتینسالوں میں کامیابی کو دیکھتے ہوئے اس بات کی امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان فلم انڈسٹری کا بہت جلدختم ہو جائے گا۔2016ء آنے والے مہینوں میں جن فلموں کی نمائش متوقع ہے ان میں ’’ہجرت‘‘،یلغار‘‘،’’مالک‘‘،’’تم ہی تو ہو‘‘،’’چھپن چھپائی‘‘،’’عشق2020‘‘،’’بلائنڈ لو‘‘، ’’کمبخت‘‘،’’ریونج آف دی ورتھلیس‘‘،’’گدھ‘‘،ڈانس کہانی‘‘،’’8969‘‘،’’جاناں‘‘،’’ارتھ ٹو‘‘،’’سکندر‘‘،’’ٹو پلس ٹو‘‘،’’کوئٹہ اے سٹی آف فارگوٹن ڈریمز‘‘،’’موسم‘‘،’’مشن5‘‘،’’را دی کور وار‘‘، ’’سیاں‘‘،’’دوبارہ پھر سے‘‘،’’ہم پانچ‘‘،’’بھائی وانٹڈ‘‘، ’’سوال سات سو کروڑ ڈالر کا‘‘، ’’کپتان‘‘اور’’دیوسائی‘‘ شامل ہیں۔فلمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ فلمیں کامیابی حاصل کرلیں تو لالی ووڈ ایک بار پھر اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرلے گا۔

مزید : کلچر