عالمی سطح پر غذائیت کی قلت کے سبب2011میں 31لاکھ بچے موت کا شکار ہوئے :رپورٹ

عالمی سطح پر غذائیت کی قلت کے سبب2011میں 31لاکھ بچے موت کا شکار ہوئے :رپورٹ

لاہور(خبر نگار خصوصی)حکومت پنجاب کے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اورپنجاب پالیسی اینڈ سٹریٹجک پلاننگ یونٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ ، ورلڈ بنک ، یونیسیف و ہینڈز کے باہمی اشتراک و تعاون سے ’’سٹینٹنگ پریوینشن ورکشاپ‘‘ (5 سال سے کم عمر بچوں میں غذائی قلت کی وجہ سے پست قد) گذشتہ روز محکمہ پی اینڈ ڈی کمپلیکس لاہور میں منعقد ہوئی۔ چیئرمین پنجاب پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ محمد جہانزیب خان نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر غذائیت کی قلت میں اضافہ ہوا ہے ۔ تقریباً 2 ارب لوگ غذائی قلت سے متاثر ہوتے ہیں اور جبکہ 2011 میں عالمی سطح پر خوراک کی کمی کے باعث 31 لاکھ بچے موت کا شکار ہوگئے۔ 9.6 ملین سے زائد پاکستانی بچے غذائی قلت اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال پست قدکا شکار ہوئے ہیں۔ پست قد کی شرح مرد بچوں میں 48 فیصد جبکہ بچیوں میں 42 فیصد تک پائی جاتی ہے۔اس طرح سے پاکستان میں شہری اور دیہی آبادیوں میں پست قد بچوں کی شرح بالترتیب 37 فیصد اور 46 فیصد ہے۔ آبادی کی بنیاد پر پست قد بچوں کی تعداد کا تعلق زیادہ تر غریب بچوں کی اقتصادی حالت اور ان میں تیزی کے ساتھ بیماریوں کے حملے کے باعث ہوتا ہے۔ اس طرح سے قومی سطح پر سٹینٹنگ ریٹ میں کمی کا ہونا کسی بھی ملک کی اقتصادی حالت میں بہتری کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ صوبہ پنجاب میں مکس رپورٹ 2014 کے مطابق سٹینٹنگ ریٹ 33.5 فیصد ریکارڈ کیا گیا جو کہ 6 فیصد شرح کے ساتھ سے 2011 میں 39.2 فیصد کے مطابق کم پایا گیا ہے ۔چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد جہانزیب خان نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب کی اولین ترجیحات میں ہیلتھ سیکٹر کی پروموشن سر فہرست ہے ۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تمام حکومتی ڈیپارٹمنٹس بشمول دیگر سٹیک ہولڈرز کو سٹینٹنگ سے بچاؤ کیلئے اہم پالیسی سٹریٹجی ترتیب دینی چاہیے اور اس ضمن میں اس ورکشاپ جیسی سہولیات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مستقبل میں غذائیت کی کمی جیسے مسئلے کو دور کرنے اور خاص طور پر سٹینٹنگ جیسے مسئلے پر فوری خصوصی غور کرنا چاہیے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ پی اینڈ ڈی کی جانب سے مذکورہ مسئلے پر غورو خوض اور اس کے فوری حل اور بچاؤ سے متعلقہ کوششوں کیلئے بھرپور اشتراک و تعاون فراہم کیا جائے گا۔ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ پی اینڈ ڈی کی ممبر ہیلتھ ڈاکٹر شبانہ حیدر نے کہا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ خاص طور پر صوبہ پنجاب میں سٹینٹنگ سے بچاؤ میں کمی لانا نہ کہ اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ اس سے بڑا اقتصادی اثر نظر آتا ہے۔اگر سٹیٹنگ جیسے مسئلے کو فوری بنیادی سطح پر درست کر لیا جائے تو بڑے منفی اثرات سے بچا جا سکتا ہے۔ 5 سال سے کم عمر 26 فیصد بچے پست قد (سٹینٹنگ گروتھ) ہیں۔ اور سٹینٹنگ کی وجہ سے سالانہ 10 لاکھ بچے موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے صوبہ پنجاب میں سٹینٹنگ کی شرح بہتر نہ ہے بلکہ اس مسئلے پرفوری طور پر توجہ کی خاص ضرورت ہے۔ صوبہ پنجاب میں 50 بچوں میں سے 17 بچے پست قد یعنی سٹنٹنگ گروتھ پائے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر شبانہ حیدر نے مزید بتایا کہ اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد صوبے میں نیوٹریشن پارٹنرز کا باہمی تجربات وگفتو شنید سے مستفید ہونا ہے اور اس کے لئے ایک جامع پالیسی سٹریٹجی کو ترتیب دینا اور اس پر فوری عمل درآمد کروانا ہے۔ ورکشاپ کے دوران دیگر سٹیک ہولڈروں نے غذائیت کی کمی کے ساتھ ساتھ سٹینٹنگ سے بچاؤ کے مسئلے پر بحث میں حصہ لیااور سٹینٹنگ کی اہم وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ماں کی کمزور صحت ، بچوں کو کمزور ماں کا دودھ پلانا، بار بار ماں کا بیمار ہونا ، گھریلو صفائی ستھرائی کا نہ ہونا سٹینٹنگ کا باعث بنتا ہے۔ ورکشاپ میں سٹیک ہولڈر کی جانب سے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ سٹینٹنگ جیسے مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے جامع موثر ایکشن پلان ترتیب دیا جائے۔ ورکشاپ میں علی جان سیکرٹری پرائمری ہیلتھ کئیر پنجاب، علی بہادر قاضی پروگرام ڈائریکٹر پی ایس پی یو، سلیم سندھو چیف ہیلتھ پی اینڈ ڈی، ڈاکٹر زاہدہ سرور، ڈاکٹر طیب مسعود، ڈاکٹر طاہر منظور، ڈاکٹر طلعت پاشا، ڈاکٹر شیخ تنویر، انجیلہ اور دیگر نے شرکت کی۔

مزید : علاقائی