شاہد آفریدی کی اپنی کارکردگی سب سے بڑا مسئلہ ہے؟

شاہد آفریدی کی اپنی کارکردگی سب سے بڑا مسئلہ ہے؟
 شاہد آفریدی کی اپنی کارکردگی سب سے بڑا مسئلہ ہے؟

  


قدرت کی ستم ظریفی دیکھیں ۔ شاہد آفریدی ناراض ہیں۔وہ تو ایسے نخرے کر رہے ہیں ۔ جیسے فتوحات کے انبار لگا دئے ہوں۔ جیسے ورلڈ ریکارڈ پر ورلڈ ریکارڈ بنا دیا ہو۔ شاہد آفریدی مزید کھیلنا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے جیسے مصباح الحق کو ٹیسٹ کرکٹ جاری رکھنے کے لئے درخواست کی گئی ہے ویسے ہی ان کو بھی ٹی ٹونٹی کرکٹ جاری رکھنے کی درخواست کی جائے ۔کون شاہد آفریدی کو سمجھائے کہ مصباح الحق کی اپنی پرفارمنس بھی بہت اچھی ہے۔ ان کی قیادت میں ٹیم بھی جیت رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف شاہد آفرید ی کی نہ تو اپنی پرفارمنس اچھی ہے اور نہ ہی ان کی قیادت میں ٹیم جیت رہی ہے۔

شاہد آفریدی کے حامیوں کی اس دلیل میں بھی کوئی وزن نہیں کہ آپ شاہد آفریدی کی دو سال قبل ایشیا کپ میں پرفارمنس دیکھیں۔ تب تو سب آفریدی آفریدی کر رہے تھے۔ آج جب وہ برا کھیل رہا ہے ۔ تو کسی کو وہ پرفارمنس یاد نہیں۔ کتنی فضول اور جا ہلانہ دلیل ہے۔ جیسے ایک بچے نے پانچویں جماعت میں بہت اچھے نمبر لئے ہوں۔ اور وہ اگلے سال چھٹی جماعت میں فیل ہو جائے ۔ اور اس کو ڈانٹ پڑے ۔ سب اس کو برا بھلا کہیں تو وہ کہے کسی کو میرا پانچویں جماعت کا نتیجہ یاد نہیں۔ اور آج اگر میں چھٹی جماعت میں فیل ہو گیا ہوں تو کیا ہوا۔ ہم سب اپنے روزگار کے لئے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کام کرتے ہیں۔ اور ہمارے روزگار اور ہماری ترقی کا براہ راست دارومدار ہما ری کارکردگی پر ہوتا ۔ گزشتہ سال کی کارکردگی پر ہم اس سال ترقی نہیں مانگ سکتے۔ لیکن شائد شاہد آفریدی کو یہ معلوم نہیں۔

نیوزی لینڈ سے ہارنے کے بعد شاہد آفریدی نے سارا غصہ احمد شہزاد پر نکال دیا۔ اور انہیں ٹیم سے ڈراپ کروا دیا۔ حالانکہ پہلے وہ خود ہی اتنے سال احمد شہزاد کو کھلاتے رہے ہیں۔ لیکن اب دوستی ٹوٹ جانے کے بعد اپنی ہار کا ملبہ اس پر ڈال دیا۔ وہ تو اللہ بھلا کرے نجم سیٹھی صاحب کا کہ انہوں نے بیان دیا کہ شاہد آفریدی کو ہار کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی بجائے خود قبول کرنی چاہئے۔ اور پھر شاہد آفریدی خاموش ہوئے ۔ اور اب پھر ٹیم ہار گئی ہے۔ اور اس بارانہوں نے وزیر اعظم سے مدد طلب کی ہے کہ نئے ٹیلنٹ کو آگے آنے نہیں دیا جا رہا۔

جہاں تک سلمان بٹ کی واپسی کا تعلق ہے ۔ توا ن کی واپسی میں کوئی اصولی رکاوٹ نہیں ہے۔جب محمد عامر واپس آگیا تو ہم سلمان بٹ کی واپسی کیسے روک سکتے ہیں۔ سوال سلمان بٹ کی فارم کا ہے۔ اگر بیٹنگ نہیں چل رہی ۔ اور بار بار نا کام ہو رہی ہے۔ تو سلمان بٹ کی واپسی کی بجائے مصبا ح الحق سے درخواست کرنا زیادہ مناسب ہو گا کہ وہ ٹی ٹونٹی میں ٹیم کو سہارا دیں۔ حال ہی میں مصباح الحق نے پی ایس ایل میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔ اور ان کی ٹیم نے پی ایس ایل جیتی بھی ہے۔ اسی طرح اگر شاہد آفریدی کی جگہ سرفراز احمد کو کپتان بنا دیا جائے تو یہی ٹیم اچھی پرفارمنس دکھا سکتی ہے۔ حال ہی پی ایس ایل میں سرفراز احمد نے ایک کمزور ٹیم کی کپتانی کر کے شاندار نتائج دئے ہیں۔ اسی طرح ون ڈے کپتان اظہر علی کو نہ جانے کیوں نہیں کھلا یا جا رہا۔ کم ازکم موجودہ بیٹسمینوں سے تو ان کی کارکردگی بہتر رہی ہے۔ وہ ذمہ دار بھی زیادہ ہیں۔

ماضی میں بھی کرکٹرز نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی ہے اور ان کی شاندار کارکردگی کی وجہ سے انہیں ریٹائرمنٹ واپس لینے پر مجبورکیاگیاہے۔ اس ضمن میں عمران خان کی مثال سب کے سامنے ہے۔ ان کی قیادت میں ٹیم لاہور میں سیمی فائنل ہار بھی گئی لیکن پھر بھی قوم نے انہیں ریٹائرمنٹ واپس لینے پر مجبور کیا۔ اس لئے شاہد آفریدی کو کبھی ہار کی ذمہ داری احمد شہزاد پر ڈالنے کبھی وزیراعظم کو ٹویٹ کرنے بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دینی چاہئے۔ ورنہ جس جس طرح ان کی کارکردگی خراب ہو رہی ہے ۔ اس طرح ان کی مقبولیت میں کمی ہو رہی ہے۔ اور شائد ان کی باتوں میں اب وہ دم بھی نہیں۔ وہ بس اب جلد قوم کی جان چھوڑ ہی دیں تو ان کے لئے بہتر ہو گا۔

اس وقت ورلڈ ٹی ٹونٹی سر پر ہے۔پی سی بی کسی ایڈونچر کی پوزیشن میں نہیں۔ شائد اسی لئے شاہد آفریدی کی تمام تر حرکتوں کو برداشت کیا جا رہا ہے۔ اسی لئے پی سی بی کے چیئرمین شہر یار خان نے یہ کہہ کر جان چھڑا لی ہے کہ کپتان کا منہ بندنہیں کیا جا سکتا۔ بات تو ٹھیک ہے پی سی بی کیا کرے اگر شاہد آفریدی کو خود ہی شرم نہیں آرہی۔

ورلڈ ٹی ٹونٹی کے لئے ٹیم میں جو تبدیلی کی گئی ہے ۔ اس میں احمد شہزاد کو واپس لے لیا گیا۔ شائد پی سی بی شاہد آفریدی سے اس سے بہتر بدلہ نہیں لیاجا سکتا تھا۔ اگر شاہد آفریدی سلمان بٹ کو شامل کرنے کے خلاف تھے۔ اور انہوں نے سلمان بٹ کو روکنے کے لئے ٹویٹ کیا تھا ۔ تو وہ احمد شہزاد کی شمولیت پر بھی خوش نہیں ہو سکتے۔ اس طرح شاہد آفریدی کے لئے ایک طرف کھائی تھی تو دوسری طرف بھی کنواں ہی تھا۔ شاہد آفریدی کو یہ سمجھنا ہو گاکہ وہ جب تک اپنی کارکردگی ٹھیک نہیں کریں گے تب تک وہ کسی کو بھی کوئی بات نہیں کر سکتے۔یہی کرکٹ کا بنیادی اصول ہے۔ ان کو اپنے خلاف ہونے والی تمام سازشیں اپنی کارکردگی سے نا کام بنانی ہیں۔ یہی کرکٹ کا اصول اور کرکٹ کی شان ہے۔ سرفراز احمد کی مثال سب کے سامنے ہے۔ وقار یونس سے لیکر کوئی بھی انہیں نہیں کھلانا چاہتا تھا۔ لیکن اس نے اپنی کارکردگی سے سب سازشیں نا کام بنائی ہیں۔

اگر شاہد آفریدی ورلڈ ٹی ٹونٹی میں اچھی کارکردگی نہیں دکھاتے تو ان کے مستقبل کے سیاسی عزائم کو بھی نقصان پہنچے گا ۔ شائد انہیں سیاست میں بھی وہ کامیابی نہ ملے جس کی وہ توقع کر رہے ہیں۔ اور یہ شاہد آفریدی کے پاس آخری موقع ہے۔

مزید : کالم