کراچی بد امنی کیس ،سندھ حکومت اور پولیس ٹارگٹڈ آپریشن میں رکاوٹ ہیں ،رینجرز کی عدالت عظمٰی میں رپورٹ

کراچی بد امنی کیس ،سندھ حکومت اور پولیس ٹارگٹڈ آپریشن میں رکاوٹ ہیں ،رینجرز ...

کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے بد امنی کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت رینجرز کے وکیل نے رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ 6 ہزار ملزم گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کئے۔ پولیس اور حکومت سندھ رینجرز کے ٹارگٹد آپریشن میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ پولیس دہشت گردی اور بھتہ خوروں کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی میں بھی رکاوٹ ہے۔ ڈاکٹر عاصم کیس کے پراسیکیوٹر کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ پولیس کو غیر سیاسی نہیں کیا جا رہا۔

کراچی(آن لائن) سپریم کورٹ نے کراچی بد امنی کیس کی سماعت کے دوران امن و امان کے حوالے سے آئی جی سندھ کی پیش کردہ رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف قرار دے دیا۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ کراچی رجسٹری میں کراچی بد امنی کیس کی سماعت کررہا ہے، سماعت کے دوران آئی جی سندھ نے پولیس کی کارکردگی رپورٹ پیش کی، رپورٹ میں کہا گیا کہ شہرمیں ہونے والے جرائم میں نمایاں کمی آئی ہے،24 جولائی 2014 سے اب تک بھتہ خوری میں 60 فیصد ، بینک ڈکیتیوں میں 58فیصد،اسٹریٹ کرائم میں 20 فیصد، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں 100 فیصد جب کہ ٹارگٹ کلنگ کے و اقعات میں69فیصدکمی ہوئی ہے۔چیف جسٹس نے پولیس کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ آپ کے سارے اعداد و شمار کا تعلق 2015 سے ہے جب رینجرز نے آپریشن شروع کیا، وہ جس کارکردگی کا ذکر کررہے ہیں اس میں رینجرز، پولیس اور دیگر ایجنسیوں کا مشترکہ کردار ہے، پولیس کا کام صرف اعداد و شمار جمع کرنا نہیں بلکہ تفتیش کرنا ہے، وہ یہ بتائیں کہ 2015 میں ٹارگٹ کلنگ کی جتنی وارداتیں ہوئی ہیں ان میں سے کتنے واقعات کے ملزمان پکڑے گئے، عدالت میں کتنے چالان پیش کئے گئے۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ کوئی ایسا ملزم جسے پکڑا گیا اور اس کے خلاف چالان بھی عدالت میں پیش کیا گیا ہو اس کی تفصیل دیں، جس پر آئی جی سندھ نے کہا کہ پولیس بہت کام کررہی ہے، ہم نے 451 اشتہاری ملزمان کو پکڑا ہے، صفورا گوٹھ،عباس ٹاؤن اور ایئر پورٹ حملہ کیس میں ملزمان پکڑے، غلام حیدر جمالی کے جواب پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے استفسار کیا کہ اگر 4 ہزار اشتہاری ملزمان شہر میں آزاد دندنا رہے ہوں تو امن وامان کی صورت حال کا کیا بنے گا،2 ہزار دہشت گرد آزاد گھوم رہے ہیں اور آپ کہہ رہے ہیں کہ امن ہوگیا۔ وہ جس کیسز کی بات کررہے ہیں وہ 2015 کے کیس نہیں ہیں اور وہ بھی ہماری مداخلت پر آپ نے پکڑے ہیں۔ 47 افراد کی لسٹ ہے اور آپ کہتے ہیں کہ اغوا برائے تاوان کے واقعات ختم ہوگئے۔عدالت نے استفسار کیا کہ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں کمی آئی ہے لیکن شارٹ ٹرم کڈنیپنگ بڑھ گئی ہے، پولیس کے بھی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، آپ کو معلوم ہے کہ شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کیا ہے، اس سلسلے میں عامر فاروقی تحقیقات کی ہے اس بارے میں آپ کیا جانتے ہیں، آئی جی سندھ کی جانب سے تحقیقات کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرنے پر سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ اگر آپ کو اتنا بھی نہیں معلوم تو پھر آپ کو وردی میں رہنے کا بھی حق نہیں ہے۔ جن کیسز کی تفتیش ہوئی ان کے ملزمان کے نام اور پتے موجود ہیں مگرآپ ان پر ہاتھ نہیں ڈالتے، بتائیں مفرور ملزمان کو کیوں نہیں پکڑے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پے رول پر رہا کیے گئے لوگوں کی گرفتاری کے لیے کیا کیا گیا،جس پر پراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ 70افراد کو پے رول پر رہا کیا گیا تھا، جن میں سے 54 کے مقدمات نپٹا دیئے گئے۔ 16 مقدمات زیر التواء ہیں۔18 ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے

مزید : صفحہ اول