عمران خان کو چیلنج کرتا ہوں وہ شریف فیملی کی بینک ڈیفالٹر ثابت کریں :حسین نواز

عمران خان کو چیلنج کرتا ہوں وہ شریف فیملی کی بینک ڈیفالٹر ثابت کریں :حسین ...

اسلام آباد (اے پی پی) وزیراعظم محمد نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے کہا ہے کہ شریف فیملی کسی بھی بینک کی ڈیفالٹر نہیں ہے، عمران خان کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ شریف فیملی کے بینک ڈیفالٹ کو ثابت کریں، وزیراعظم محمد نواز شریف نے احتساب کے عمل میں کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ یا مداخلت نہیں کی، پنجاب میں احتساب کے عمل میں کوئی امر مانع نہیں،ہم نے آج تک کبھی بھی اپنے ذرائع آمدنی نہیں چھپائے،میری ملکیت میں تین آف شور کمپنیاں ہیں اور ہم وہاں قانون کے مطابق ٹیکس بھی ادا کر رہے ہیں، مشرف نے تسلیم کیا تھا کہ شریف فیملی کے خلاف کرپشن کے کوئی ثبوت نہیں، رائیونڈ شریف فیملی کا ڈکلیئرڈ اثاثہ ہے،ملک کو نقصان پہنچانے والوں کو معاف کرنے کا اختیار ہمارے پاس نہیں تاہم مشرف نے میرے ساتھ جو کیا میں اسے معاف کرتا ہوں۔ پیر کو نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز نے کہا کہ کرپشن جہاں بھی ہو اسکا شفاف اور غیر جانبدارانہ طریقے سے احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات درست نہیں کہ میاں نواز شریف یا میاں شہباز شریف نے متعلقہ اداروں یا نیب کو پنجاب میں کسی قسم کی کرپشن کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات سے روکا ہو یا ان کی طرف سے متعلقہ اداروں کو کسی قسم کی ہدایات جاری کی گئی ہوں یا پھر انکی تحقیقات میں مداخلت کی گئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ سمجھا جاتا ہے کہ پنجاب میں بعض ایسے معاملات ہیں جن کی تحقیقات ہونی چاہئیں تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ تحقیقات ہوئی چاہیں۔ تحقیقات اس بنیاد پر کی جانی چاہئیں کہ کہاں بے قاعدگیاں ہوئی ہیں اور اس میں کیا کمی بیشی رہ گئی ہے، یہ تحقیقات غیر جانبدارانہ اور شفاف انداز میں کی جانی چاہئیں اور ان تحقیقات کا جو بھی نتیجہ نکلے اس میں ملوث افراد کے ساتھ کسی قسم کی رو رعایت نہیں برتی جانی چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قائداعظم سولر پارک اور نندی پاور پراجیکٹ سمیت کسی بھی منصوبے میں متعلقہ اداروں کو کبھی بھی احتساب سے نہیں روکا گیا۔ حسین نواز نے کہا کہ میاں نواز شریف یا میاں شہباز شریف کی طرف سے اس سلسلے میں ایسی کوئی کوششیں نہیں کی گئیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میٹرو منصوبے سے متعلق اعداد و شمار بتانے والے یہ بتائیں کہ انہوں نے یہ اعداد و شمار کہاں سے حاصل کئے ہیں کیونکہ میٹرو منصوبہ جو ایک اہم منصوبہ ہے، کی لاگت کا دوسرے ملکوں میں چلنے والے میٹرو منصوبوں سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ خود اس طرح کے منصوبے شروع نہیں کر سکتے ان کو بے جا تنقید نہیں کرنی چاہیے۔ حسین نواز نے کہا کہ بھارت میں میٹرو پر اٹھنے والے اخراجات کا تو مجھے پتہ نہیں ہے تاہم استنبول اور دیگر ملکوں میں میٹرو کیلئے حاصل کی گئی زمین کی قیمت پاکستان کے مقابلے میں مختلف ہے اور شاید استنبول میں میٹرو منصوبے کیلئے لینڈ ایکوزیشن کے اخراجات لاہور میں میٹرو منصوبے کی لاگت سے بھی زیادہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں بننے والے میٹرو منصوبے کی دوسرے ملکوں کے ساتھ موازنہ نہیں کر سکتے کیونکہ زیادہ تر ملکوں میں یہ میٹرو منصوبے زیر زمین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں اراضی کی قیمت کہیں زیادہ ہو چکی ہے اور ہم نے میٹرو منصوبے کیلئے بہت زیادہ اراضی حاصل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ جو اس منصوبے پر تنقید کر رہے ہیں کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ کیا ان کے پاس یہ مصدقہ اعداد و شمار ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان لاہور میٹرو بس منصوبے کا ترک دارالحکومت استنبول میں چلنے والی میٹرو سے مقابلہ کر رہے ہیں تو وہ ترک حکومت سے اس کے اعداد و شمار لائیں اور پھر دونوں کے اخراجات کا موازنہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو بس منصوبہ کے بارے میں اعداد و شمار فراہم کرنے والوں کو میٹرو بس منصوبے میں فراہم کردہ سہولیات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر موازنہ کرنا ہے تو صرف اور صرف کنسٹرکشن کی قیمت کا موازنہ ضرور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والوں کے پاس جب منصوبے کے بارے میں صحیح اعداد و شمار ہی نہیں ہیں تو ان کے بتائے گئے اعداد و شمار کو کیسے تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے منسلک متعلقہ افسران نے کئی بار ٹیلی ویژن چینلز پر آ کر اس منصوبے کے بارے میں تفصیلات بتائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا سیاست اور حکومت پنجاب سے کوئی تعلق نہیں ہے تاہم وزیراعلی پنجاب شہباز شریف سے درخواست کی جا سکتی ہے کہ وہ متعلقہ افسران کو بلائیں اور اس بارے میں تفصیلات سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ خود میٹرو استعمال نہیں کرتے وہ بے جا تنقید نہ کریں۔ حسین نواز نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ میری دعا ہے کہ اللہ کرے دنیا کے سب سے زیادہ ارب پتی اس ملک سے ہوں، انہوں نے کہا کہ جب جدہ بھیجا گیا تو ہمارے پاس کوئی خاص خزانہ نہیں تھا اور ہمیں جدہ میں شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وہاں کام شروع کرنے کیلئے میرے پاس دو ذرائع تھے، جن میں سے ایک کچھ قریبی غیر ملکی دوست جنہوں نے بغیر کسی شرط کے پیسے دینے کا کہا اور ہم نے انکے پیسوں کو قرض کے طور پر لیا اور دوسرا ذریعہ سعودی بنک کی طرف سے فراہم کردہ فنڈز تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت کم سرمائے سے مل لگائی، دبئی میں اپنے ہی خاندان کی لگائی گئی ایک مل موجود تھی جو کافی عرصے سے بند تھی اور اس کا مالک سمجھا کہ یہ مل اب کامیاب نہیں ہو سکتی اس لئے میں وہ مل انتہائی ارزاں نرخوں میں خریدنے میں کامیاب ہوا اور اسے جدہ لا کر کامیاب کاروبار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فنڈز کی کمی کے باعث مل چلانے میں مجھے دشواری پیش آ رہی تھی، جس کے بارے میں یہاں موجود بنکرز اور قریبی دوست بھی جانتے ہیں تاہم ایک گروپ آف انڈسٹریز نے مل کو کامیاب بنانے میں تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی بھی غیر ملکی حکومت یا بھارتی بزنس مین نے قرض نہیں دیا بلکہ ہمارے ذاتی مخلص دوستوں نے ہمارے حالات کو دیکھتے ہوئے ہمیں قرض دیا جو ہم نے انہیں مقررہ وقت سے پہلے واپس کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں عمران خان کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ بتائیں کہ شریف فیملی کن بینکوں کی ڈیفالٹر ہے، انہوں نے شریف فیملی کے 6 ارب روپے بینک ڈیفالٹر ہونے کی جو بات کی ہے، انہیں چاہیے کہ وہ اس کے ثبوت سامنے لائیں، اگر انہوں نے ثبوت فراہم کر دیئے تو ہم سزا کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شریف فیملی کبھی بھی کسی بھی بینک کی ڈیفالٹر نہیں رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لندن میں ہماری پراپرٹی ہے اور ہم اسے تسلیم کرتے ہیں، لندن پارک لین اپارٹمنٹس ہماری ملکیت ہیں، ہم نے آج تک کبھی بھی اپنے ذرائع آمدنی نہیں چھپائے، حسن نواز لندن میں پرانی جائیدادیں ری فرنش کر کے فروخت کرتے ہیں، میری ملکیت میں تین آف شور کمپنیاں ہیں اور ہم وہاں قانون کے مطابق ٹیکس بھی ادا کر رہے ہیں۔ حسین نواز نے کہا کہ لندن میں ہمارے اثاثوں، جائیداد کا وزیراعظم محمد نواز شریف کے ساتھ قانوناً تو کوئی تعلق نہیں لیکن کیونکہ وہ میرے والد ہیں اور والد ہونے کے ناطے سے میرا سب کچھ انہی کا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شریف فیملی اور موجودہ حکومت پر کرپشن کا کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہو سکا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر میں پاکستان میں خود کو غیر محفوظ تصور کرتا تو آج یہاں کیوں بیٹھا ہوتا؟ ایک وقت تھا جب ہمارے سارے خاندان کو ملک سے نکال دیا گیا اور مجھے بغیر کسی وجہ کے 14 مہینے جیل میں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد صاحب کے خلاف ایک بے بنیاد کیس بنایا گیا اور میں نے مشرف صاحب کو آن ریکارڈ سنا جس میں انہوں نے کہا کہ اس بات میں صداقت ہے کہ شریف فیملی کے خلاف کرپشن کے کوثی ثبوت موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک غیر سیاسی آدمی ہوں اور آصف زرداری کے خلاف مقدمات کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا، ہمارے کیس میں اور آصف زرداری کے کیس میں آپ لوگوں کو فرق معلوم ہونا چاہیے۔ پاکستان میں بزنس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک شوگر مل مشترکہ اور ایک شہباز شریف خاندان کی ہے، رائیونڈ فارم ڈکلیئرڈ اثاثہ ہے اور یہ زمین ہم نے 20، 25 سال پہلے خریدی۔ حسین نواز نے کہا کہ میرے ساتھ مشرف نے جو زیادتیاں کیں اس پر میں نے انہیں معاف کیا اور دعا ہے کہ اللہ تعالی میری غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف فرمائے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس اختیار نہیں ہے کہ مشرف نے جو نقصان پاکستان کو پہنچایا وہ معاف کر سکوں، پرویز مشرف کا احتساب ہونا چاہیے تاہم یہ اصطلاح درست نہیں کہ میاں صاحب مشرف کا احتساب کریں ۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا اس پر ذاتی طور پر افسردہ ہوں تاہم اس افسردگی کو کبھی کہیں آڑے نہیں آنے دیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس بات میں صداقت ہے کہ جنرل مشرف مسلم لیگ (ن) کا سربراہ اپنی پسندیدگی سے بنانا چاہتے تھے، جس کیلئے انہوں نے مجید نظامی کو میاں صاحب کے پاس بھیجا، یہ سب میری موجودگی میں ہوا تاہم مجید نظامی نے میری موجودگی میں پرویز مشرف کا پسندیدہ نام نہیں بتایا۔

مزید : صفحہ اول