پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، سات زیر التوا بل، منظوری کے لئے اتفاق رائے کی کوشش

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، سات زیر التوا بل، منظوری کے لئے اتفاق رائے کی کوشش

تجزیہ:چودھری خادم حسین

سینٹ نے حکومت کی طرف سے پیش کردہ پی۔ آئی۔ اے کی نجکاری کے لئے اسے کارپوریشن سے لمیٹڈ کمپنی بنانے کا مسودہ قانون مسترد کر دیا ہے۔ یہ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی مخالفت کے باوجود منظور کر لیا گیا تھا تاہم حکومت کے پاس سینٹ میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے ایوان بالا سے منظوری نہ مل سکی اور اب اس کے لئے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس کی ضرورت ہے جو 10 مارچ کو طلب کیا گیا ہے حکومت نے اسے اور اس کے ساتھ دوسرے زیر التوا 7 قوانین منظور کرانے کے لئے لابنگ شروع کر دی اور پارلیمان میں نمائندگی کی حامل جماعتوں سے رابطے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاع یہ ہے کہ وزیر اعظم نے چار وزراء پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو مختلف جماعتوں سے رابطے کر کے ہم آہنگی کی کوشش کریں گے۔

بہت دیر کی مہربان آتے آتے کے مصداق حکومت کو مشکل پیش آئی تو رابطوں کا بھی خیال آ گیا۔ خصوصاً پی آئی اے کے حوالے سے بل نے مجبور کر دیا ہے۔ سینٹ میں حزب اختلاف نے یہ مسودہ قانون اس لئے منظور نہیں ہونے دیا کہ حکومتی نمائندے ان کو پی آئی اے کے مالی امور، اثاثوں، مستقبل اور کارکنوں کی ملازمتوں کے تحفظ پر مطمئن نہیں کرسکے۔ حزب اختلاف کے مطابق پی آئی اے قومی وقار کا ادارہ ہے اسے نجی شعبہ میں دینے کے لئے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے حتیٰ کہ نئی ایئر لائن بنانے کی تیاریاں بھی مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ ہڑتالی ملازمین سے اب نمٹا جا رہا ہے۔ حزب اختلاف نے یہ بھی الزام لگایا کہ قومی ایئر لائن اور اس کے اثاثے سستے داموں دینے کے لئے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے حکومت کی طرف سے وضاحت یہ ہے کہ نقصان کے ازالے کے لئے یہ سب ضروری ہے اور کسی کارکن کو بے روز گار نہیں کیا جائے گا، ان اسباب کی بنا پر حزب اختلاف نے قانون منظور نہیں ہونے دیا اب مشترکہ اجلاس پارلیمینٹ میں عددی اکثریت کی بناء پر اسے منظور کرایا جائے گا۔

یہ اطمینان بخش ہے کہ مجبوراً ہی سہی حکومت نے نہ صرف پارلیمینٹ سے رجوع کیا ہے بلکہ افہام و تفہیم پیدا کرنے کے لئے ٹیم بھی بنا دی گئی ہے جو اتفاق رائے حاصل کرنے کی مکمل کوشش کرے گی کہ دوسری طرف ضد نہیں تحفظات ہیں، جہاں تک پارلیمان کی افادیت کا تعلق ہے تو ہم عرصہ سے پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ انفرادی فیصلے نہ کئے جائیں، پارلیمینٹ پر بھروسہ کریں جہاں بحث تو ہو جاتی ہے لیکن کوئی نقصان نہیں ہوتا اور یہی پارلیمینٹ بہتر حالات اور نظام کے تحفظ کی ضامن ہے ورنہ یہاں تو تاریخیں دی جاتیں اور صدارتی نظام کا شوشا چھوڑ دیا گیا ہے۔

یہ بات ایسے موقع پر سامنے لائی گئی ہے جب عوام کا پارلیمینٹ کی ناکامی کے حوالے سے ذہن بنانے کی کوشش کی گئی ہے، سیاسی رہنما خود تو پارسا اور دوسروں کو کرپشن میں ملوث ملک کو نقصان پہنچانے والے قرار دے رہے ہیں۔ یوں پروپیگنڈے کے لئے خود ہی مواد فراہم کر رہے ہیں۔ یہ تو حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ پارلیمینٹ کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہ کریں بلکہ اسے ایک صحیح جمہوری ادارہ بنا کر اس کے ذریعے حالات کو سدھاریں تو پذیرائی بھی حاصل کریں گے۔

حکومت نے اگرپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے زیر التوا قوانین منظور کرانے کے لئے وزرا کی چار رکنی کمیٹی قائم کی ہے اور اس طرح افہام وتفہیم کی کوشش ہوگی کہ یہ ایک مرتبہ پھر سے شروع کی گئی ہے اور اب تو وزیراطلاعات پرویز رشید بھی میثاق جمہوریت کی بات کرتے ہیں، کیا حسن اتفاق ہے کہ محترم پرویز رشید اور قائد حزب ختلاف دونوں ہی میثاق جمہورت میں احتساب کی شق کا ذکر کرتے ہیں تو محترم آپ حضرات کو زیر التوا احتساب بل پر اتفاق رائے سے کس نے روکا؟ یا پھر عمران خان صحیح کہتے ہیں کہ ہر دو پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ن) کو خود مختار احتساب بیورو قابل قبول نہیں ہے، اس افہام وتفہیم کو صرف پارلیمنٹ سے زیر التوا سات اور پی۔ آئی۔ اے والے قانون بھی منظور کرانے تک اکتفا نہ کریں بلکہ وسیع تر اتفاق رائے تک لے جائیں کہ قومی مسائل بہت ہیں، ملک کے اندر نئی صف آرائی شروع ہے، مولانا فضل الرحمن کی سرگرمیاں قابل غور ہیں تو عدالت عظمیٰ کی کراچی رجسٹری میں امن وامان کے حوالے سے جو سماعت آج (سوموار) ہوئی اس میں رینجرز اورپولیس سندھ حکومت کے موقف میں فرق اور تضا د سے بھی سیکھیں یہ معمولی بات نہیں کہ عدالت اعظمی کے روبرو یوں تضاد نظر آیا، اوراسی سے ڈاکٹر عاصم، عزیر بلوچ اور مصطفےٰ کمال والے معاملات کا اندازہ لگائیں اور پھر غور کریں کہ ملک میں صدارتی نظام کی بات کیوں ہورہی ہے؟

آج بات اس ایک اپیل اوردرخواست کے ساتھ ختم کرتے ہیں کہ ہمارے دینی راہنماملک وقوم پر رحم کریں، وہ اپنے مطالبات جمہوری انداز میں پیش کرنے اوران کے لئے جدوجہد کا بھی پورا حق رکھتے ہیں، لیکن اس کے نام پر معاملات کو 60اور 70کی دہائی کی طرف نہ لے جائیں، مولانا فضل الرحمن کو یاد کرا دیں کہ ان کی جماعت نے تو ترقی پسندی کا ساتھ دیا اور محاذ آرائی کو روکا تھا

مزید : تجزیہ