ایم کیو ایم کا ایک اور پنچھی اُڑ کر مصطفٰے کمال کی پرواز میں شامل ہو گیا

ایم کیو ایم کا ایک اور پنچھی اُڑ کر مصطفٰے کمال کی پرواز میں شامل ہو گیا

ایم کیو ایم کی چھتری سے ایک اور پنچھی اڑ گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں مزید ایک یا دو پنچھی اڑ جائیں گے۔ ڈاکٹر صغیر تین بار صوبہ سندھ کے وزیر صحت رہے، اب بھی وہ صوبائی اسمبلی کے رکن تھے، انہوں نے یہ رکنیت بھی چھوڑ دی ہے جس کا مطلب ہے کہ اگلے دو مہینوں بعد کراچی میں ایک اور ضمنی الیکشن کا، رن پڑے گا۔ ابھی یہ کہنا تو مشکل ہے کہ اس کی شکل کیا ہوگی اور مزید ارکان سندھ اسمبلی متحدہ کو چھوڑ جائیں گے، تو کیا وہ بھی مستعفی ہو جائیں گے؟ اگر چند مزید ارکان اسمبلی چھوڑ جائیں تو بیک وقت کئی حلقوں میں ضمنی الیکشن ہوسکتا ہے تاہم ابھی اس سلسلے میں کوئی حتمی بات نہیں ہوسکتی۔ لگتا ہے یہ حکمت عملی ابھی تک مصطفی کمال سامنے نہیں لانا چاہتے لیکن یہ امر تو طے ہے کہ 2018ء کے الیکشن کیلئے وہ بھرپور تیاری کریں گے۔

متحدہ اس وقت پارٹی کے اندر جس کشمکش سے دوچار ہے شاید ماضی میں اسے ایسا تجربہ کبھی نہیں ہوا۔ اول تو کسی نے کھل کر اختلاف کی جرأت ہی نہیں کی۔ 92ء میں جب ایک دھڑا حقیقی کے نام سے الگ ہوا تو اسے بھی کوئی خاص پذیرائی یا کامیابی نہ ملی، یہ دو لیڈر تھے، ایک عامر خان اور دوسرے آفاق احمد۔ ان میں اول الذکر تو کئی سال بعد سجدہ سہو کرکے واپس چلے گئے، آفاق احمد نے اپنے گروپ کا نام مہاجر قومی موومنٹ رکھ لیا لیکن اس کا دائرہ اثر وسیع نہ ہوسکا۔ اب مصطفی کمال اور انیس قائم خانی جس انداز میں سامنے آئے ہیں لگتا ہے وہ پارٹی کو کم از کم اتنا ڈینٹ ضرور ڈال دیں گے جو نظر آئے۔ ڈاکٹر صغیر تیسرے شخص ہیں جو ان کے ہمنوا بن کر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے تقریباً انہی باتوں کو دہرایا جو مصطفی کمال اور قائم خانی کرچکے تھے لیکن طرز تکلم کے اعتبار سے وہ ایک قدم اور آگے بڑھ گئے، پہلے الطاف حسین کیلئے الطاف صاحب، آپ اور یہ آدمی جیسے الفاظ استعمال کئے گئے، لیکن آج ڈاکٹر صغیر نے ایک موقع پر کہا ’’آپ تو چاہتے ہیں کہ لاشیں گرتی رہیں‘‘ پھر کہا ’’تم یہ تو سوچو، تمہیں کس نے بنایا‘‘ اگر اس کا اشارہ الطاف حسین کی طرف تھا تو یہ کہا جاسکتا ہے۔ بقول داغؔ دہلوی:

رنج کی جب گفتگو ہونے لگی

آپ سے تم، تم سے تو ہونے لگی

ایم کیو ایم کی قیادت کی جانب سے اس پر ردعمل تو آ رہا ہے لیکن جو الزام لگائے جا رہے ہیں ان کا عمومی نوعیت کا جواب دیا جا رہا ہے یا پھر کہا جا رہا ہے کہ پہلے بھی ایسے الزامات لگتے رہے جو درست نہیں تھے لیکن پہلے اگر الزامات لگتے تھے اور ان کا جواب نہیں دیا جا رہا تھا تو اس وقت کا منظر نامہ مختلف تھا، اس میں وہ بیانیہ چل جاتا تھا اب بدلے ہوئے حالات میں جوہری تبدیلی رونما ہوچکی ہے، اس میں پرانے بیانیے سے کام نہیں چلے گا، نئے ماحول میں نیا بیانیہ سامنے لانا ہوگا، اگرچہ وزیر داخلہ چودھری نثار نے مصطفی کمال کے الزام کو لفاظی قرار دیا اور اس ضمن میں کسی قسم کی انکوائری کے مطالبے کو سنجیدگی سے نہیں لیا تاہم سرفراز مرچنٹ کے الزامات کی تحقیقات کیلئے اگر کمیٹی قائم کی گئی ہے تو کل کلاں مصطفی کمال کے الزامات کی تحقیقات کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے۔ مصطفی کمال کا تو یہ کہنا ہے کہ وہ جو باتیں کہہ رہے ہیں ان کا ریکارڈ حکومت کے پاس بھی ہے، مجھ سے اگر کچھ پوچھا جائے گا تو بتا دوں گا۔ مصطفی کمال الطاف حسین اور را کے تعلقات کے حوالے سے جو کچھ کہہ رہے ہیں چلیے ان کی حقیقت تو اسی وقت سامنے آئے گی جب کوئی اس کی تحقیقات کی ضرورت محسوس کرے گا لیکن بعض باتیں تو سامنے کی ہیں جن کا مشاہدہ ہم اور آپ کرتے رہے ہیں اس کی کچھ جھلکیاں بھی مصطفی کمال نے دکھائی ہیں ۔ دنیا چینل کے پروگرام ’’محاذ‘‘ میں انہوں نے کہا ’’ایم کیو ایم پانچ مرتبہ حکومت میں شامل ہوئی اور نکل گئی، جس کی وجہ سے نہ پی پی کا اعتماد حاصل کیا اور نہ اسے ہٹاسکی، اس رویئے کی وجہ سے لوگ ایم کیو ایم کا مذاق اڑاتے تھے، پہلے پیپلز پارٹی سے ناتہ توڑا جاتا پھر حکم آتا کہ ان لوگوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرو‘‘! ایسے معلوم ہوتا ہے کہ مصطفی کمال اپنے حامیوں کو ایک ایک کرکے منظرعام پر لائیں گے اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ ایم کیو ایم کا ردعمل بھی ’’ٹوٹوں‘‘ کی شکل میں سامنے آئے گا اور جوابی حملہ یکبارگی نہیں ہوگا۔ پھر یہ ہے کہ اگر ایک تلخ نوائی گوارہ کرلی جائے گی تو نفسیاتی طور پر دوسری کیلئے تیار بھی رہا جائے گا۔ اگلے مرحلے میں انیس ایڈووکیٹ، رضا ہارون اور فیصل سبز واری کی جانب سے مصطفی کمال کی حمایت متوقع ہے۔ ان کے بارے میں خیال ہے کہ اگر وہ خود نہ آئے تو انہیں ایم کیو ایم سے نکال کر ادھر بھیج دیا جائے گا، اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں ان کے متعلق کوئی نہ کوئی فیصلہ سامنے آنے کی امید ہے۔

ایم کیو ایم جنرل (ر) پرویز مشرف کے پورے دور میں وفاقی اور سندھ حکومت کا حصہ رہی، ایم کیو ایم کی سفارش پر ڈاکٹر عشرت العباد کو سندھ کا گورنر بنایا گیا، ان پر بعض الزامات بھی تھے، انہیں ان سے پاک صاف کیا گیا۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے سندھ کے گورنر کو خصوصی طور پر ایسے اختیارات بھی دیئے جو نہ تو آئین کے تحت گورنر کو حاصل تھے اور نہ کسی دوسرے صوبے میں ان اختیارات کی مثال موجود تھی۔ ایم کیو ایم کو خوش رکھنے کیلئے یہ اختیارات دیئے گئے، سندھ میں پارٹی اس سرپرستی کی وجہ سے پھلتی پھولتی رہی تاہم اب کوئی ایک سال سے متحدہ نے گورنر سے لاتعلقی ظاہر کردی ہے۔ پرویز مشرف کے دور کے خاتمے کے بعد پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی تو بھی متحدہ شریک حکومت رہی اور ہمیشہ وفاق اور سندھ میں پسند کی وزارتیں لیں، ان وزارتوں کے حصول کا ایک خصوصی ہدف تھا جو حاصل کیا گیا، مثلاً بابر غوری ہمیشہ پورٹ اینڈ شپنگ کی محبت میں گرفتار رہے، اب ان کے پاس وزارت نہیں تو ملک چھوڑ کر باہر جاچکے ہیں۔ حکومت میں عہدے تو ایم کیو ایم کے پاس رہے لیکن جب اسے فرائض کی یاد دلائی گئی تو اس نے ہمیشہ یہی موقف اختیار کیا کہ یہ ہماری حکومت نہیں۔ گویا حکومت میں رہنے کے تمام فوائد تو سمیٹے گئے لیکن ذمہ داریوں سے پہلو تہی کی گئی، ڈاکٹر صغیر نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں یہی بات کہی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی کارکردگی بطور وزیر اچھی نہیں تھی تو انہوں نے جوابی استفسار کیا کہ اگر ایسا تھا تو انہیں تین بار وزیر کیوں بنایا گیا؟ پریس کانفرنسوں میں اخبارات کے رپورٹروں کو بحث میں نہیں الجھنا چاہئے ورنہ جواب تو یہ دیا جاسکتا تھا کہ ایم کیو ایم وزارتیں اور وزیر اپنی مرضی سے منتخب کرتی تھی اور اگر اس کا مطالبہ نہ مانا جاتا تو حکومت چھوڑ دیتی تھی یہ الگ بات ہے کہ کچھ عرصے کے بعد مان بھی جاتی تھی اور اس ضمن میں عبدالرحمان ملک کا خصوصی کردار تھا، اگر کراچی میں گورنر کے ساتھ مذاکرات کے بعد بات نہ بنتی تو وہ بھاگم بھاگ لندن جاتے وہاں الطاف حسین سے ملاقات کرتے اور وہاں سے حکومت میں دوبارہ شمولیت کا حکم آ جاتا۔ اس حکم کو ٹالنے کی مجال اس وقت تو کسی میں نہ تھی لیکن اب مصطفی کمال کہتے ہیں ’’حکومت چھوڑ کر کچھ عرصے بعد دوبارہ کم تنخواہ پر جوائن کرلی جاتی‘‘۔

مزید : تجزیہ