بھارت جانے والی جائزہ ٹیم آج وزیر اعظم نواز شریف کو رپورٹ پیش کرے گی

بھارت جانے والی جائزہ ٹیم آج وزیر اعظم نواز شریف کو رپورٹ پیش کرے گی

بھارت میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے لئے پاکستانی کرکٹ ٹیم بھیجنے سے پہلے جو جائزہ ٹیم بھیجی گئی ہے وہ آج پی سی بی کے سرپرست اعلیٰ وزیراعظم نواز شریف کو یہ رپورٹ پیش کرے گی کہ کیا کرکٹ ٹیم کے لئے بھارت جانے کے حالات سازگار ہیں یا نہیں ؟اور کیا ان حالات میں ٹیم وہاں بھیجنا مناسب ہوگا یا نہیں۔پی سی بی کے چیئرمین شہریار خان کی پیر کے روز ہونے والی پریس کانفرنس اور اس دوران ان کی باڈی لینگویج سے یہ تاثر پختہ ہوتا تھا کہ جائزہ ٹیم یہی رپورٹ دے گی کہ ٹیم کو ورلڈ کپ کھیلنے کے لئے بھیج دیا جائے، بھارت کی مرکزی وزارت داخلہ نے ان ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو جہاں جہاں پاکستان کی ٹیم کے میچ ہونے ہیں سختی سے یہ ہدایت کی ہے کہ ٹیم کی حفاظت کے فول پروف انتظامات کئے جائیں۔ ویسے بھی اس موقع پر بھارت عالمی برادری کے سامنے شرمسار نہیں ہونا چاہے گا اس لئے امکان یہی ہے کہ انتظامات تسلی بخش ہونے کی رپورٹ ہی آئے گی اور ٹیم وقت پر بھارت روانہ ہو جائے گی کرکٹ بورڈ کی اپنی تیاریاں مکمل ہیں اور جونہی پازٹیوسگنل مل گیا، ٹیم روانہ ہو جائے گی۔ بنگلہ دیش سے ہارنے کے بعد ٹیم میں جو تبدیلیاں کی گئی ہیں وہ مثبت ہیں اور توقع ہے کہ ٹیم اب کی بار بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرنے والے دو کھلاڑیوں کو ٹیم سے نکال دیا گیا ہے۔ 15رکنی سکواڈ میں خرم منظور کی جگہ احمد شہزاد اور افتخار احمد کی جگہ خالد لطیف کو شامل کیا گیا ہے ۔

ٹیم کے ساتھ پی سی بی کے گیارہ آفیشلز بھی جارہے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ان حکام کا ٹیم کے ساتھ جانا ضروری ہے اور اگر یہ نہیں جاتے تو کیا ٹیم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکے گی ؟ ٹیم کے ساتھ منیجر تو ہوگا اس کی معاونت کے لئے مزید ایک دو حکام کو بھیجا جاسکتا ہے لیکن یہ گیارہ آفیشلز کس لئے؟ اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ جیسے کہاجاتا ہے کہ ایک سے زیادہ باورچی کھانے کو بدمزہ کردیتے ہیں تو کیا ایسا تو نہیں ہوگا کہ اتنے سارے آفیشلز جن میں ہرطرح کے کوچ شامل ہیں مل کر ٹیم کو کنفیوز کردیں، برطانیہ سے کھیلنے کے لئے بھی اتنی بڑی ٹیم کو بھیجا گیا تھاکیا یہ تجربہ کامیاب رہا اور ٹیم کے کسی کام آیا ؟اس کا جائزہ لے لیا جائے تو بہتر ہوگا۔ گیارہ رکن آفیشلز کے ساتھ ان کی بیگمات بھی ہوں گی جنہیں مختلف ادارے سپانسر کردیتے ہیں اور حکام یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ فیملی کے اخراجات کرکٹ بورڈ برداشت نہیں کررہا۔

ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ کوچ وغیرہ میچ کے دوران ڈکٹیشن دیتے اور آمرانہ احکامات جاری کرتے ہیں جس کی وجہ سے اچھا بھلا کھیلتا ہوا کھلاڑی کنفیوژ ہوجاتا ہے، ماضی میں چونکہ آفیشلز کی ٹیم کی کوئی افادیت سامنے نہیں آئی اس لئے اب بھی بظاہر ان کو بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ بھی معلوم کرلیا جائے کہ جو باقی ٹیمیں کھیلنے کے لئے بھارت آرہی ہیں کیا ان کے ساتھ بھی اتنے ہی آفیشلز آرہے ہیں اگر ایسا ہے تو پھر بھی کوئی نہ کوئی جواز بنتا ہے۔

مزید : تجزیہ