’’ توہین عدالت کا مرض‘‘

’’ توہین عدالت کا مرض‘‘
’’ توہین عدالت کا مرض‘‘

  


بظاہر یہ میرا معاملہ نہیں، یہ میرے ان منصفوں کامسئلہ ہے جو فیصلے دیتے ہیں مگر ان پر عمل نہیں ہوتا کہ حکمرانوں کے پیارے بیوروکریٹوں میں توہین عدالت کی بیماری چھوت کے کسی مرض کی طرح بڑھتی چلی جا رہی ہے اوراس میں ہماری منفردشہرت کی حامل پنجاب پولیس کے سربراہ سب سے آگے ہیں، آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کی اٹھانوے درخواستیں دائر ہوچکی ہیں، وہ دن دور نہیں جب یہ تعداد ایک سو ہوجائے گی اور وہ عدالتی فیصلوں کو ہوا میں اڑادینے والے ایسے سرکاری کھلاڑی ہوں گے جن کی سنچری کا ریکارڈ توڑنا کسی بھی دوسرے بیوروکریٹ کے لئے آسان نہیں ہوگا۔مجھ سے کسی نے پوچھا کہ خیبرپختونخواہ کی پولیس کی بہت تعریفیں ہوتی ہیں، آپ کے خیال میں کے پی کے پولیس میں وہ کون سی خوبیاں ہیں جو پنجاب پولیس سے مختلف بناتی ہیں، میرا جواب تھا، ایک خوبی باہر ہے اور دوسری ان کے اندر، باہر والی خوبی وہ معاشرتی روایات ہیں جو کسی ظالم کوظلم کر کے گھرمیں آرام سے بیٹھنے نہیں دیتیں، وہاں کا ایس ایچ او پٹھانوں پر وہ ظلم ڈھانے کا سوچ ہی نہیں سکتا جو پنجاب کا ایس ایچ او پنجابیوں پرعملی طور پر ڈھاتا اور موٹی توند سہلاتے ہوئے سو جاتا ہے ۔ اندر والی خوبی ان کا سربراہ ہے جو کسی سیاسی دباو میں نہ آنے کی شہرت رکھتا ہے۔ جس فورس کا سربراہ ہی کم زور شہرت کا حامل ہو گا وہ فورس کبھی طاقت ور نہیں ہو سکتی۔ سعدی کی حکایات کو پڑھیں، آپ کو مضبوط اور باکردار قیادت کی اہمیت کا اندازہ ہوجائے گا،گیڈروں کی قیادت اگر شیر کے پاس ہو تووہ ڈٹ کر مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن اگر شیروں کی قیادت گیڈر کے پاس ہو تو انہیں بھاگنا پڑ جائے گا۔ میں ایوان وزیراعلیٰ میں پولیس کی کارکردگی بارے رانا ثناء اللہ خان، زعیم قادری اور بعض دوسروں کی پریس کانفرنس میں موجود تھا جب میرے ایک دوست صحافی نے سامنے بیٹھے ہوئے پولیس افسر بارے کہا کہ اس نے بائیس کروڑ کا گھرچھ ، سات کروڑ میں خرید لیا ہے۔

خیر بحث کا موضوع پنجاب پولیس نہیں ہے بلکہ وہ افسران ہیں جو توہین عدالت کرنے میں بہت آگے ہیں، ریکارڈ بتاتا ہے کہ ایک وقت میں رنر اپ پنجاب کے چیف سیکرٹری خضر حیات گوندل تھے مگر ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ نے انہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بنیادی طور پر توہین عدالت ایک ایسا مقدمہ ہے جو عدالت کے فیصلے کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر دائر کیا جاتا ہے۔ اگر ہم صرف سرکاری ملازمین کی ہی بات کریں تو انہیں اپنی پروموشن، ٹرانسفر یا واجبات کی ادائیگی میں افسران کی پسند نا پسند کا شکار ہونا پڑ سکتا ہے۔ جب میرٹ پر فیصلے نہیں ہوتے اور جب من پسندوں کو نوازا جاتا ہے تو پھر ظلم اور زیادتی کا شکار ہونے والوں کے پاس ایک ہی آئینی اور قانونی راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ اس ظلم اور زیادتی کو عدالت میں ثابت کریں۔ وہ عدالت جاتے ہیں اور آئین اور قانون میں دئیے ہوئے رہنما اصولوں کی مدد سے اپنا موقف ثابت کرتے ہیں۔ جب یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ اختیار رکھنے والوں ناانصافی کی ہے تو پھر عدالت اس کا ازالہ کرتی ہے۔ بیوروکریٹوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ مظلوم کی داد رسی کریں مگر افسران نجی محفلوں میں کہتے ہیں کہ ججوں کو دفتری معاملات چلانے کا کیا علم لہذا وہ اپنے خلاف فیصلہ آنے کے بعد بھی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ مقدمہ جیتنے والے عدالتی فیصلے کی نقل لے کر ایک دفتر سے دوسرے دفتر اور ایک افسر سے دوسرے افسر تک دھکے کھاتے پھرتے ہیں اور پھر آخر کار انہیں دوبارہ عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ توہین عدالت کی رٹ دائر کی جاتی ہے او ر سائل کے پہلے خرچ کئے ہوئے پیسے اور وقت دونوں ضائع ہو چکے ہوتے ہیں۔

اگر افسران عدالتی فیصلوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے احکامات ہی درست تھے تو پھر انہیں عدالت میں ثابت کرنا چاہئے تھا۔ یہ میں نہیں کہتا بلکہ ان امور پر گہری نظر رکھنے والے کہتے ہیں کہ جو بھی افسر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے جتنا قریب ہے وہ وزیراعلیٰ کی قربت کے نشے میں اتنی ہی زیادہ اختیاراتی مستی کا مظاہرہ کرتا اور توہین عدالت کا مرتکب ہوتا ہے حالانکہ میرے خیال میں وزیراعلیٰ پنجاب کا منشاء و مقصد کبھی بھی یہ نہیں رہا کہ عدالتوں کے فیصلوں کو مذاق بنا دیا جائے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ بہت سارے معاملات میں محض حکومتی معاملات میں روڑے اٹکانے کے لئے اور سپیڈ کے سامنے بریکر بنانے کے لئے بھی منصوبوں اور معاملات کو عدالتوں میں چیلنئج کیا جاتا ہے مگر دوسری طرف میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ اگر کوئی بے بس اور بے کس حقیقی تکلیف کا حامل اور اصلی شکایت کے ساتھ دربدر پھر رہا ہو تو وہ داد رسی کے لئے عدالتوں کے سوا اور کہاں جائے۔ اب ہر سائل کویہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ریلیف کے لئے آرمی چیف کو پکارتا پھرے کہ انہیں مدد کے لئے پکارنا آئینی نہیں ہے۔ آئین کہتا ہے کہ تمام سرکاری عمائدین قانون کی بالادستی کے لئے عدالتوں سے نہ صرف مکمل تعاون کریں گے بلکہ وہ ان کے فیصلوں پر عملدرآمد کے بھی پابند ہوں گے۔ مجھے یہاں یہ بھی کہنا ہے کہ عدالتی فیصلوں پرعملدرآمد کو یقینی بنانا یقینی طور پر کسی صحافی کی ذمہ داری نہیں ہے یہ پہلی ذمہ داری وقت کے حکمرانوں کی ہے کہ وہ اپنے من پسند افسران کو سرکشی سے روکیں۔ جس افسر کے خلاف توہین عدالت کی زیادہ درخواستیں ہوں وہ بغیر کسی تحقیق کے جان لیں کہ وہ ریاستی معاملات نمٹانے میں اتنا ہی زیادہ فارغ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے اس نے فیصلوں میں نااہلی دکھائی یا اپنے فرائض کی ادائیگی میں بددیانتی کا مظاہرہ کیا اور جب وہ فیصلے چیلنج ہوئے تووہ ان کا دفاع کرنے میں بھی ناکام ہو گیا۔ اب یہ بدترین حکمرانی میں سونے پر سہاگہ ہو گا کہ وہ عدالتی فیصلوں پر بھی عملدرآمد نہ کرے اور سائل کو ایک مرتبہ پھر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے۔ یہاں دوسری اور سب سے اہم ذمہ داری میرے لئے بہت ہی محترم منصفوں پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں کا احترام یقینی بنائیں۔ کیا یہ دلچسپ نکتہ نہیں کہ توہین عدالت کی سینکڑوں اور ہزاروں درخواستوں میں شائد ہی کبھی کسی افسر کو سزا دی گئی ہو۔دوستوں نے بہت یاد کیا تو یاد آیا کہ سابق چیف جسٹس لاہو ر ہائی کورٹ خواجہ محمد شریف نے کسی ایس پی لیول کے افسرکو سزا دی تھی۔ میں حیرت زدہ ہوں کہ اگر ایک وزیراعظم کو توہین عدالت میں سزا دی جا سکتی ہے تو کیا یہ چھوٹے موٹے بیوروکریٹ ایک منتخب وزیراعظم سے بھی زیادہ طاقت ور ہیں؟

یہ عین ممکن ہے کہ جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا سنچری کر چکے ہوں۔ میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی طرف سے گڈ گورننس کے دعوے سنتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ کیا اس اکیلے شخص نے ہی سارے معاملات میں گڈ گورننس دکھانی ہے۔ کیا یہ پنجاب کے محنتی اور ان تھک وزیراعلیٰ کی بدقسمتی ہے کہ وہ ایک اچھی ٹیم بنانے میں ناکام رہتے ہیں اور سارے بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں۔ جس محکمے کے سب سے بڑے افسر کے فیصلے عدالتوں میں چیلنج ہوتے اورغلط قرار پاتے ہیں ،وہ محکمہ بیڈ گورننس کی سب سے بڑی مثال ہوتا ہے اور وہاں نیچے تک تباہی مچ جاتی ہے۔مثال کے طور پر جب ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل عدالتی فیصلوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیں گے تو پھر ایک کلرک بھی اپنے باس کی راہ پر چلنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرے گا۔ مجھے کہنے دیجئے کہ جس ریاست میں آئین ، قانون، میرٹ اور عدالت کو مذاق بنا دیا جاتا ہے پھر وہاں انتشار اور تباہی ہی ہوتی ہے ، کیا آپ کو اپنی موجودہ بدترین صورتحال اس کی عکاسی کرتی ہوئی نظر نہیں آ رہی؟

مزید : کالم