گھریلو تشدد ایکٹ،کے پی کے حکومت کی طرف سے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جانے والا مسودہ تاحال واپس نہ مل سکا

گھریلو تشدد ایکٹ،کے پی کے حکومت کی طرف سے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جانے ...
گھریلو تشدد ایکٹ،کے پی کے حکومت کی طرف سے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جانے والا مسودہ تاحال واپس نہ مل سکا

  


پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخواہ ھکومت کی جانب سے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جانے والا گھریلو تشدد کے قانون کا مسودہ تاحال واپس نہیں مل سکا جس وجہ سے صوبے میں گھریلو تشدد کے حوالے سے قانون سازی میں مزید تاخیر کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔

میڈ یا رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کو گھریلو تشدد سے متعلق بل واپس ملنے کا انتظارہے، صوبائی حکومت نے اسلامی نظریاتی کونسل کو گھریلو تشدد کے قانون کا مجوزہ مسودہ جائزہ لینے کیلئے بھیجا تھا جو ایک ماہ سے اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس ہے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

صوبائی حکومت نے بل میں جسمانی، مالی اور نفسیاتی نقصان پہنچانے پر ایک سے پانچ سال قید کی سزا تجویز کی ہے ۔ اس کے علاوہ بل میں تجویز دی گئی ہے کہ کمیٹی متاثرہ افراد کو چھت اور قانونی مدد فراہم کرے گی اورکمیٹی درخواست کے علاوہ ازخود بھی کارروائی کرسکے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے گھریلو تشدد سے متعلق بل میں تحصیل کی سطح پر گھریلو تشدد سے بچاو¿ کی کمیٹیاں بنانے اور ہرتحصیل میں گریڈ 17 سے اوپر کا افسر پروٹیکشن آفیسر مقرر کرنے کی تجویز بھی دی ہے تاہم اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے بل واپس ملنے اور اس پر لگائے جانے والے اعتراضات کا جائزہ لے کر حتمی مسودہ تیار کیا جائے گا۔۔

مزید : پشاور