نئی پارٹی کا مجوزہ نام مسلم قومی موومنٹ ،عشرت العباد سرپرست اعلیٰ ،مصطفی کمال فیس ہونگے: رپورٹ

نئی پارٹی کا مجوزہ نام مسلم قومی موومنٹ ،عشرت العباد سرپرست اعلیٰ ،مصطفی ...
نئی پارٹی کا مجوزہ نام مسلم قومی موومنٹ ،عشرت العباد سرپرست اعلیٰ ،مصطفی کمال فیس ہونگے: رپورٹ

  


لاہور (ویب ڈیسک)ڈاکٹر صغیر احمد کے ایم کیو ایم چھوڑنے کے اعلان کے بعد ایم کیو ایم لندن اور کراچی میں ایک ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی ، مصطفی کمال انیس قائم خانی اور اب ڈاکٹر صغیر کی نئی جماعت میں شمولیت کے اعلان کے بعداس بات کے امکانات انتہائی روشن ہیں کہ ان تینوں کی اس جماعت میں ایم کیو ایم کے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں موجودتقریباً پانچ ممبران اور 17 کے قریب سیکٹرز انچارج مہاجروں کی اس نئی تحریک میں شمولیت کا علان کرنے والے ہیں اوریہ اعلانات اگلے دس روز میں متوقع ہیں۔گورنر عشرت العباد اس نئی پارٹی جس کا نام مسلم قومی موومنٹ پاکستان تجویز کیا جارہا ہے کہ سرپرست اعلیٰ ہونگے جبکہ ڈاکٹر صغیر احمد کی نئی پارٹی میں شمولیت کو بھی گورنر سندھ کی آشیرباد حاصل ہے، یہ تمام ممبران جو اس وقت سکرین پر نظر آرہے ہیں ان کی مشاورت سے کام کرینگے۔

روزنامہ ’خبریں‘ کے مطابق موجودہ ایم کیو ایم کے سینئر رہنما عامر خان‘ آفاق احمد اور ڈاکٹر صغیر پارٹی کے سینئر عہدیدار ان بننے سے قبل اپنے اپنے علاقوں کے سیکٹر انچارج تھے اور عموماً ایم کیو ایم کے تنظیمی ڈھانچے میں سیکٹر انچارج کی طاقت ایم پی اے اور ایم این اے سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ تھی جس کی بنیاد پر اس وقت کے ناراض کارکنان اور سیکٹر انچارج پر اثرورسوخ رکھنے والے عامر خان کو نہ صرف دوبارہ سینئر لیڈرشپ میں شامل کیا گیا اور ان کی اس وقت پارٹی کے صف اول کے لیڈر ان میں تصور کیا جات تھا۔ انیس قائم خانی متحدہ کے وہ پارٹی کارکن تھے جو کہ تمام سیکٹر انچارج کے کوآرڈنیٹرز اور ان کے ساتھ رابطے میں رہنے والوں کی براہ راست لندن میں ایم کیو ایم کی قیادت کو فیڈ بیک مہیا کرتے تھے۔ مصطفی کمال کی نظامت کے دوران ان کے براہ راست پاکستان کی سٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بنے جس کی وجہ سے ان کی نظامت کے دور میں کراچی کے ترقیاتی کاموں میں بروقت فنڈنگ یقینی ہوتی چلی گئی۔ نئے دھڑے میں شامل ہونے والے ڈاکٹر صغیر تین بار وزیر رہے جن میں دوبارہ وزیر صحت کے قلمدان پر براجمان تھے اور ان کے پاس کراچی میں آنے والی حالیہ گرمی کی لہر کے دوران اور صاف پانی نہ ملنے کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی وجوہات او ر اس سلسلہ میں ایم کیو ایم لندن سے براہ راست موصول ہونے والے وہ پیغامات موجود ہیں جو وہ عنقریب عوام کے سامنے لائیں گے لیکن یہ پہلا پتا نہیں جو کہ انیس قائم خانی اور مصطفی کمال کے ہاتھ پر لبیک کہنے گیا ہے۔ اس کے پیچھے صوبہ سندھ کے بڑے عہدے پر بیٹھے گورنر سندھ اہم کردار کر رہے ہیں۔

یادرہے کہ گورنر سندھ عشرت العباد کافی عرصے تک ایم کیو ایم کی موجودہ اعلیٰ قیادت کراچی و لندن دونوں سے نالاں رہے اور تاحال ہیں اور ایم کیو ایم کی قیادت کے کہنے کے باوجود گورنری نہیں چھوڑی۔ ان کے علاوہ موجودہ ایم کیو ایم کے سیکٹر انچارج صاحبان اور ایم این اے و ایم پی اے ان سے اور مصطفی کما ل سے رابطے میں تھے اور ہیں۔ اگلے چند روز میں یہ لوگ آہستہ آہستہ لوگوں کی شمولیت کے ساتھ عوام میں نکل کر کراچی کے چھوٹے چھوٹے بنیادی مسائل حل کرنے کی چھوٹی چھوٹی تحریکیں شروع کرینگے جنکی سرپرستی عشرت العباذ گورنر سندھ کرتے نظر آئینگے۔ مسلم قومی موومنٹ پاکستان (پارٹی کا مجوزہ نام) کو مکمل جمہوری انداز میں چلانے کیلئے ہر دو سال بعد اس کو Feoe یعنی لیڈر تبدیل کیا جائیگا جبکہ فیصلہ سازی میں ایگزیکٹو کمیٹی موجود رہے گی جس کے سرپرست اعلیٰ بھی تبدیل ہوتے رہیں گے اور پارٹی کے بنیادی مقاصد پاکستان خصوصاً کراچی اور صوبہ سندھ کے دیہی علاقوں کے بنیادی مسائل حل کرنا ہوگا۔ اس بات کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ مستقبل قریب میں یہ پارٹی پاکستان میں مزید صوبوں کو نعرہ بھی بلند کرے گی جس کا مقصد اختیارات کی نچلی سطح پر منتقل ہو گا جس میں وزرائے اعلیٰ سے طاقتور متعلقہ شہروں کا میئر اور ناظم ہوگا۔

مزید : لاہور


loading...