مشرق وسطیٰ میں افراتفری، امریکہ کے اصل ارادے سامنے آنے لگے، ایسے ملک میں 2 فوجی اڈے قائم کردئیے جہاں پہلے اس کا تصور بھی نہ کیا جاسکتا تھا

مشرق وسطیٰ میں افراتفری، امریکہ کے اصل ارادے سامنے آنے لگے، ایسے ملک میں 2 ...
مشرق وسطیٰ میں افراتفری، امریکہ کے اصل ارادے سامنے آنے لگے، ایسے ملک میں 2 فوجی اڈے قائم کردئیے جہاں پہلے اس کا تصور بھی نہ کیا جاسکتا تھا

  


دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ نے کرد جنگجوﺅں کے زیرقبضہ شام کے شمالی علاقوں میں اپنے 2 فوجی اڈے قائم کر دیئے ہیں جس سے امریکہ کے اصل مقاصد سامنے آ گئے ہیں اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔ویب سائٹ بیس نیوز(BasNews) کی رپورٹ کے مطابق تیل کی دولت سے مالامال اس علاقے کے ایک قصبے رمیلن(Rmeilan) میں ایک رن وے تعمیر کر دیا گیا ہے جو امریکی افواج کے زیراستعمال ہو گا۔ اس سے شام سے وابستہ امریکی مفادات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دوسراامریکی فوجی اڈا جنوب مشرقی شہر کوبانی(Kobani) میں قائم کیا جا رہا ہے جو ترکی کے بارڈر کے قریب واقع ہے۔رپورٹ کے مطابق ان دونوں اڈوں کی تعمیر میں امریکی ماہرین بھی کرد جنگجوﺅں کے ہمراہ کام کررہے ہیں۔ اس سے قبل کردحکام اعتراف کر چکے ہیں کہ امریکی فضائیہ ہیلی کاپٹرز پر سامان کی نقل و حمل کے لیے رمیلن کی فضائی حدود استعمال کر رہی ہے۔

مزید جانئے: ایٹمی حملوں کے لیے ہتھیار تیار رکھنے کے حکم کے بعد شمالی کوریا کے سربراہ نے سب سے سنگین دھمکی دے دی

گزشتہ سال امریکہ نے اپنے درجنوں فوجی شام کے ان شمالی علاقوں میں بھیجے تھے جو داعش اور بشارالاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے کرد جنگجوﺅں کو تربیت دیتے رہے اور انہیں اسلحہ فراہم کرتے رہے۔2011ءسے شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران کرد شمالی شام کے وسیع علاقے پر قبضہ کر چکے ہیں اور ان کی ملیشیا پیپلزپروٹیکشن یونٹ(YPG) داعش کے خلاف امریکی اتحاد میں اہم اتحادی کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔رپورٹ کے مطابق نیٹو کے اتحادی ملک ترکی کے شدید تحفظات کے باوجود امریکہ اور شامی کردوں کے تعلقات انتہائی دوستانہ اور گہرے ہو چکے ہیں۔ ترکی پیپلزپروٹیکشن یونٹ نامی کرد ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے ، کیونکہ اس تنظیم کے ترکی میں حکومت کے خلاف لڑنے والی علیحدگی پسند کرد جماعت کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ تعلقات ہیں اور یہ اسے مدد بھی فراہم کرتی رہتی ہے۔

مزید : عرب دنیا