سعودی قانون میں ’آزاد ویزے‘ کی کوئی اصطلاح نہیں:سفیر پاکستان منظور الحق

سعودی قانون میں ’آزاد ویزے‘ کی کوئی اصطلاح نہیں:سفیر پاکستان منظور الحق
سعودی قانون میں ’آزاد ویزے‘ کی کوئی اصطلاح نہیں:سفیر پاکستان منظور الحق

  


جدہ (محمد اکرم اسد) سفیر پاکستان منظور الحق نے کہا ہے کہ سعودی قانون محنت میں آزاد ویزے کی اصطلاح نہیں ہے، سعودی عرب آنے والے ہم وطنوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ وہ سعودی عرب آنے سے قبل باقاعدہ ورک ویزوں پر ہی آئیں اور جس کمپنی کے ویزے پر آرہے ہیں ان کی جانب سے کئے جانے والے معاہدے کو اچھی طرھ پڑھ لیں کہ تنخواہ کے ساتھ ساتھ ان کو کیا سہولیات دی گئی ہیں خاص طور پر میڈیکل انشورنس تاکہ بعد میں کسی مشکل میں مبتلا نہ ہوں۔

سعودی عرب میں فنگر پرنٹس سسٹم مکمل طور پر نافذ ہے اور ایسے افراد جو آزاد ویزے پر آکر کسی اور جگہ کام کرتے ہیں (یعنی جس کفیل کے ویزے پر آئے ہیں اس کے علاوہ کسی دوسری جگہ کام کرتے ہیں) تو قانون شکنی کے دائرے میں آتے ہیں جو بعد میں اپنے لئے مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سفیر پاکستان نے یہاں پاکستان قونصلیٹ میں صحافیون سے ملاقات میں کیا۔ پاکستانی سکولوں کے معاملات کا ذکر آتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت کے قانون کے مطابق تعلیمی معاملات کی دیکھ بھال کے لئے سکول مینجمنٹ کونسل بنائی جاتی ہے جس کا کام ہوتا ہے کہ تعلیمی معاملات کو بہتر اور ارکان کو معمولی مسائل میں خود کو نہیں الجھانا چاہیے تاکہ سکولوں میں بہتری قائم ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ عزیزیہ سکول کی عمارت آزمین کو مستقل طور پر سکول کے نام کروانے کے لئے متعلقہ وزارت سے درخواست کی گئی ہے، سکول کی زمین کو مستقل طور پر سکول کے نام کردیا جائے تاکہ معاملات مستقل طور پر حل ہوجائیں۔ سفیر پاکستان نے مملکت میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اور معتمرین وزائرین سے کہا ہے کہ سعودی قانون کا احترام کریں تاکہ کسی قسم کی مشکل میں مبتلا نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی سکولوں میں بہتری لائی جائے گی، ہمیں ہزاروں بچوں کا مستقبل عزیز ہے جسے کسی طور پر ہزاروں بچوں کا مستقبل داﺅ پر نہیں لگاسکتے۔ انہوں نے کہا کہ مملکت میں مقیم کمیونٹی کے مسائل حل کرنا ذمہ داری ہے تاہم اس امر کا ادراک ضروری ہے کہ مسائل کا آغاز قانون پر عمل نہ کرنے سے ہوتا ہے۔ اس لئے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھیں کہ مقامی قوانین کی کسی طرح خلاف ورزی نہ ہو، جیلوں میں موجود پاکستانی قیدیوں کے حوالے سے سفیر پاکستان نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ وہ قیدی جن کی مدت قید مکمل ہوچکی ہے، انہیں جلد از جلد وطن بھجوایا جائے جس کے لئے مملکت کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی اور ان کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا ہے جس کا ان کی جانب سے کافی مثبت جواب ملا ہے۔ وہ قیدی جو جرمانوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے مزید قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں ان کے جرمانوں کی ادائیگی کیلئے کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ہنگامی طور پر پاسپورٹ کی معیاد تھوڑی بڑھادی جاتی ہے تاکہ وہ ایمرجنسی میں کام کرسکے اور یہ بغیر کسی فیس کے ہوتی ہے۔ اس موقع پر موجود قونصل جنرل شہریار اکبر خان نے جدہ میں قونصلیٹ کی تعمیر کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں وزارت خارجہ کو تجاویز ارسال کی گئی ہیں وہاں سے جواب آنے پر کام شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قونصلیٹ میں آنے والے ہم وطنوں کو سہولتیں فراہم کرنے کے لئے کام کررہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ معاملات کو بہتر سے بہتر کیا جائے جس کے لئے کمیونٹی تعاون کرے۔ انہوں نے کہا کہ قونصلیٹ نے پاسپورٹ کی ڈلیوری کے لئے سروس شروع کرائی ہے جو ان کے شہروں اور گھروں میں پاسپورٹ پہنچائے گی، اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ جہاں ان کو فائدہ ہو وہیں قونصلیٹ سے رش کم ہوگا۔ قونصل جنرل نے کہا کہ پاسپورٹ ہال کی حالت بہتربنانے کے لئے کام جاری ہے جبکہ گرم موسم کے پیش نظر قونصلیٹ کے باہر شیڈ میں نمی پیدا کرنے والے خصوصی پنکھے نصب کئے جائیں گے۔

مزید : عرب دنیا