سینیٹ نتائج ، کپتان اور مسلم لیگ (ن)

سینیٹ نتائج ، کپتان اور مسلم لیگ (ن)
سینیٹ نتائج ، کپتان اور مسلم لیگ (ن)

  


لیجئے !اپنے کپتان صاحب کا تو نیا پاکستان بن گیا ،افسوس کہ جناب عمران خان محترم نوازشریف کی ’’ رِیس ‘‘ نہ کر سکے بلکہ ’’ڈنکے ‘‘کی چوٹ پر یہ اعلان کرنے پر مجبور ہوئے کہ ان کی جماعت کے مختلف گھوڑے سینٹ کی گھوڑا منڈی میں بک گئے ۔

واہ جی کپتان صاحب ! صدقے جاؤں آپ کی سچائی کے ۔جس کھلے ڈھلے انداز میں آپ نے اپنی پی ٹی آئی کے ارکان کی دھرگت بنائی ہے وہ آپ کا ہی شیوا ہے ،اصول تو یہ تھا کہ آپ اپنے بکاؤ مال کے اب تک استعفےٰ لے چکے ہوتے اور انہیں پارٹی سے چلتا کرنے کے ساتھ ساتھ اسمبلیوں کی رکنیت سے محروم کر چکے ہوتے مگر افسوس کہ یہ کام آپ نہیں کریں گے ۔آپ کی خواہش یہی ہو گی کہ کوئی اور آئے اور آپ کی جماعت میں چھپی کالی بھیڑوں کو سزا دے ۔

؟ کیونکہ آپ تو ’’فل ٹائم‘‘ مسلم لیگ (ن) اور میاں نوازشریف کو سزا دلوانے میں ’’مصروف‘‘ ہیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ پارٹی سے باہر کے مسائل کا سامنا بھی آپ کریں اور اپنی جماعت کے گندے انڈوں کو تلف بھی خود ہی کرتے پھریں ، اچھا کیا اس سلسلہ میں آپ نے چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کر دی کہ وہ آپ کی جماعت کے بکاؤ گھوڑوں کو پکڑیں ۔

صاحبو ! جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے ، پیارے کپتان عمران خان نے سب سے پہلا دھرنا کرپشن کیخلاف دیا تھا اور ساتھ میں 35 پنکچر بھی آپ کے دھرنوں کا سبب بن گئے تھے جو آپ کے بقول نگران وزیراعلیٰ پنجاب جناب نجم سیٹھی نے 5سال قبل لگائے تھے ، ہمیں یہ بھی خوب یاد ہے کہ عمران خان کے کئی ہفتوں جاری رہنے والے دھرنوں میں سب سے زیادہ شرکت خیبر پختونخواہ کے ایم این ایز اور ایم پی ایز نے کی تھی جو تب کپتان کے اس بیانیہ کے ساتھ تھے کہ ملک کے اندر سے کرپشن کوجڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے مگر افسوس ہے تو اس بات کا کہ آج وہ ایم این ایز اور ایم پی ایز اپنے لیڈر کے بیانیہ کو بالائے طاق رکھ کر نہ صرف بکنے والے گھوڑے بن گئے ہیں بلکہ کرپشن کے دلدادہ بھی ہیں لیکن عمران خان صاحب ! صرف آپ کی پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ممبران پر ہی اعتراض کیا کرنا ، نیب نے آپ کے وزیراعلیٰ جناب پرویز خٹک اور آپ کی ذاتِ اقدس کیخلاف بھی کرپشن اور بد عنوانی سے متعلق تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور جلد ان اعلانات پر عمل درآمد ہونے جا رہا ہے ۔

پیارے خان صاحب ! کیا کیا جائے کہ یہ دنیا ہے ہی بڑی ظالم ، کوئی بھی آپ کے کرپشن کیخلاف بیانیے کو نہیں دیکھ رہا ، الٹا آپ کے وزیراعلیٰ سمیت آپ کا حساب کتاب شروع کر دیا گیا ہے ، حالانکہ سب کو یاد ہونا چاہیئے کہ کرپشن کیخلاف آپ کے دھرنوں میں نہ صرف آپ کے وزیراعلیٰ جناب پرویز خٹک کئی کئی راتیں اپنے صوبہ کو لاوارث چھوڑ کر بیٹھے رہے ہیں بلکہ ڈی جے کے سروں پر ’’ بریک ڈانس ‘‘ بھی کرتے رہے ہیں ، ہمیں دکھ ہے کہ آپ اور آپ کے وزیراعلیٰ پر کرپشن کا الزام لگایا گیا اور ان الزامات کے پیچھے کوئی آپ کا مخالف یا عام آدمی نہیں بلکہ وہ ادارے ہیں جن سے آپ دوسروں کے احتساب کا مطالبہ کرتے رہے ہیں ۔

پیارے پڑھنے والو ! سنجیدگی سے اگر سینٹ الیکشن کے تمام معاملات کو دیکھا جائے تو یہ کہنا سو فیصد درست ہو گا کہ جس جماعت کو سب سے زیادہ توڑنے کی کوشش کی گئی وہ جماعت پوری ثابت قدمی سے اپنے تا حیات قائد جناب نوازشریف کے پیچھے کھڑی ہے ، اس جماعت کا کوئی گھوڑا بکا نہ جھکا جبکہ الٹا ٹوٹ پھوٹ اور کرپشن کا بازار ان جماعتوں میں گرم ہو گیا جو میاں نوازشریف کو کمزور اور بدنام کرنا چاہتی تھیں ،سب نے دیکھا کہ سینٹ الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے سبھی ارکان نے بغیر نشان کے نہ صرف اپنی جماعت سے وفاداری نبھائی بلکہ مسلم لیگ (ن) کو سینٹ کی سب سے بڑی پارٹی بنایا ،جبکہ دوسری جانب وہ جماعتیں رسوا ہوئیں جو میاں نوازشریف اور ان کی پارٹی کو چور ثابت کرنے میں سب سے آگے تھیں ، یقیناًسینٹ الیکشن نے آئندہ جنرل الیکشن کے حوالہ سے بہت سے رازوں پر سے پردہ اٹھا دیا ہے اور یہ سمجھنے میں بہت آسانی ہو رہی ہے کہ جن کی کارکردگی سینٹ الیکشن میں اعلیٰ اور ارفع رہی وہی جماعتیں عام انتخابات میں بھی فتح مند ہونگی اور جن پارٹیوں کے ایم این ایز ، ایم پی ایز سینٹ الیکشن میں غداری اور بے وفائی کے مرتکب ہوکر مال بنانے میں جت گئے، ان پارٹیوں کی عوامی پذیرائی تباہی کے دہانے پر آن پہنچی جبکہ یہی تباہی عام انتخابات میں بھی ان پارٹیوں کا پیچھا کرے گی ، بالکل ان چڑیلوں اور بھوتوں کی طرح جو کسی انسان کو چمٹ جائیں تو لاکھ ’’دم دارُو ‘‘کے باوجود بھی جان نہیں چھوڑتیں۔ سچ یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کل بھی ایک بڑی جماعت تھی ، آج بھی ہے اور آئندہ انتخابات میں بھی بہت بڑی طاقت بن کر ابھرے گی ،ہم نے دیکھا کہ پانامہ کی بجائے اقامہ کے الزام میں میاں نوازشریف کی نااہلیت،پھر پارٹی صدارت سے نا اہلیت اور نیب کیسز کے باوجود میاں نوازشریف اور ان کی جماعت کی پوزیشن کمزور نہیں ہوئی الٹا میاں نوازشریف اور ان کی جماعت کی عوامی پذیرائی میں اضافہ ہوا ، میاں نوازشریف کا بیانیہ ’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ نہ صرف عوام میں مقبول ہوا بلکہ بقول مریم نوازشریف بعض منافقوں کے لئے شرمندگی اور دل کا بوجھ بھی بن گیا ، ایسے میں یہ قیافہ لگانا بے جا نہیں کہ آئندہ عام انتخابات میں نہ صرف مسلم لیگ (ن) بھاری اکثریت حاصل کرے گی بلکہ پی ٹی آئی سمیت بعض مخالفین کا سیاسی نام و نشان مٹا دے گی ،پی ٹی آئی کے بکاؤ مال نے یہ بھی قبل از وقت ثابت کر دیا ہے کہ آئندہ الیکشن میں کے پی میں تحریک انصاف خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں اور پی ٹی آئی کو خیبر پختونخوا میں حکومت بھی ملنے والی نہیں ،سینٹ الیکشن اور لودھراں سمیت سرگودھا کے ضمنی انتخابات نے اس بات کی بھی نشاندہی کر دی ہے کہ پی ٹی آئی آئندہ الیکشن میں صوبہ پنجاب میں کوئی خاطر خوا کامیابی دکھانے والی نہیں جبکہ سندھ اور بلوچستان میں پہلے ہی اس جماعت کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ان حالات و واقعات کو ذہن میں رکھتے ہوئے با آسانی قیاس آرائی کی جا سکتی ہے کہ کپتان اور ان کی جماعت کا 2018ء کے عام انتخابات میں کچھ خاص حصہ نہیں البتہ عمران خان اور ان کے ساتھی احتجاج کی سیاست جاری و ساری رکھتے نظر آ رہے ہیں اور الیکشن نتائج کو نہ ماننے والی اپنی پرانی ہٹ دھرمی پر کاربند بھی نظر آئیں گے ،بیشک ہمارے ملک کی سیاست کا المیہ رہا ہے کہ ہمارے سیاستدان اپنی کارکردگی پر غور کرنے کی بجائے دوسروں میں کیڑے نکالتے ہوئے زندگی بسر کر دیتے ہیں ، یہی سب محترم عمران خان نے میاں نوازشریف اور ان کی مسلم لیگ کے حوالہ سے کیا ہے ،یقیناًاس کا نتیجہ یہی برآمد ہوا ہے کہ میاں نوازشریف اور ان کی جماعت عوام کی نظروں میں سرخرو ہیں جبکہ عمران خان اور ان کی پارٹی اپنی ساکھ برباد کر بیٹھی ہے ۔آخر میں ہمیں میاں محمد بخش کی سیف الملوک کے چند اشعار یاد آرہے ہیں ، آپ بھی پڑھتے اور سنتے جایئے، میاں صاحب فرماتے ہیں کہ

دشمن مرے تے خوشی نہ کریے

سجناں وی مر جانا

ڈِیگر تے دن گیا محمد

اوڑک نوں ڈب جانا

افسوس کہ دشمنوں کی نااہلیت کا جشن منانے والوں کا اپنا ’’دن‘‘ ڈوبنے کو ہے اور ’’ نااہل‘‘ عوام کی نظروں میں ایک بار پھر اہلیت کی اعلیٰ مثال بننے جا رہے ہیں ۔

واہ ری سیاست ۔۔۔تیری کون سی کل سیدھی ۔۔۔

مزید : رائے /کالم