’’مٹی کی پیالی‘‘

’’مٹی کی پیالی‘‘
 ’’مٹی کی پیالی‘‘

  

آدم کی پسلی سے جنم لینے والی مخلوق ’’عورت‘‘ جس نے کل انسان کی پیدائش، افزائش اور زیبائش سے لے کر اخلاقی درسگاہوں کا مرکز نہ صرف اپنے بیرونی، بلکہ باطنی ماحول میں بھی کھولا ہے، لیکن مزے کی بات ہے کہ عورت کو نہ صرف اپنی شخصی حیثیت کے ساتھ ساتھ اپنے کام کاج کے لوہے کو منوانے کے لئے اِس دم زدہ ماحول میں شناخت کروانا کیوں لازم ہوگیا۔

کیا ہماری وفا شعاریاں، فرض شناسیاں یا ہمارا عورت ذات ہونا جو تصویر کائنات کو ہر طرح کے رنگ و نسل کا سب سے اہم حصہ ہے، کافی نہیں تھا۔

اسی لئے تو 1910ء سے 8مارچ کو عورتوں کا عالمی دن قرار دیا گیا تاکہ خواتین کی جدوجہد اور محنت کو مانا اور عورت کو مرد کے برابر مساوی بنیادوں پر ایک آلۂ کار سمجھا جانے لگے۔ آج کے سائنسی افق پر پہنچے ہوئے ماحول میں جینیاتی ترقی کی معراج بھی عورت کو ’’بانجھ پن‘‘ جیسے لقب سے آزاد کیونکر نہیں کراسکی۔

کیا اس وقت تک عورت مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ بیوی اور پھر ماں نہیں، اگر وہ کوکھ سے نہیں تو ماحول سے تو بچے جن سکتی ہے۔ مجھے یاد ہے ہمارے کانونٹ سکول میں ننیں (Nunns) ہوتی تھیں، انہوں نے اپنے جسم سے کسی بچے کو نہیں جنا تھا، لیکن بڑے وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ اُن کے دلوں میں ہزاروں ماؤں جیسی محبت کے چشمے پھوٹتے تھے، جن کووہ سالہا سال اپنی نفسی خواہشات کوکچل کر محنت کی، اُس زمین کو زرخیز کرتیں، جس کا براہ راست تعلق معاشرے کی ترقی و خوشحالی کی ضمانت ہوتا تھا۔

مدر ٹریسا جیسی جفا کش اور جانثار خواتین ہر دور میں دنیا میں موجود رہی ہیں اور ہمیشہ آتی رہیں گی، اُن لئے زمان و مکان کی قید، مذہب کے تفرقات،معاشروں کی تبدیلیاں اوررنگ و نسل کے امتیازات کسی اہمیت کے حامل نہیں ہوتے۔

حضرت خدیجہؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت فاطمہؓ، بیگم لیاقت علی خان، بے نظیر بھٹو، اندرا گاندھی، میڈم کیوری سے لے کر میری ماں، آپ کی ماں اور ہم سب کی بیٹیاں سب کی سب اس وقت امن کا نوبل پرائز وصول کرلیتی ہیں، جب اُن کو معاشرے میں یاد رکھا جاتا ہے۔

لیکن بات تو یہ ہے کہ کیا کریں، اُس عورت کا جس کو زندہ جلا دیا جاتا ہے، حسن کے بیو پار کے بازاروں میں بٹھا دیا جاتا ہے، پسند کی شادی کرنے پر اُن کے غیرت مند بھائیوں اور باپ کواِس کا اختیار دے دیا جاتا ہے کہ گھر میں ایک میز یا کرسی کی طرح ان سے برتاؤ کریں اور ان کی مرمت کرکے دوبارہ سے کیل لگا کر کھڑا کریں اور اگر درست نہ ہو تو توڑ پھوڑ کر کباڑیے کو دے دیں۔

آج بھی یہ مرد عورت کو گھر سے لے کر دفتر تک ہر جگہ پر اپنی جاگیر اور ملکیت سمجھ کر مخاطب ہوتے ہیں، حالانکہ خدا نے آدم سے زن کو پیدا ہی اس لئے کیا تھا، ان کو برابر اور مساوی حیثیت مل سکے، ان کو ایک دوسرے کا عکس اور لباس سمجھا جاسکے جو ایک دوسرے کے بغیر کچھ بھی نہیں، کیا یہ عورت اور مرد دونوں کو ایک ہی سانچے میں رکھتے، دیکھتے، پرکھتے اور برتتے ہیں؟

دورِ حاضر کے جدید معاشرے بھی مغربی خواتین سے لے کر مشرقی خواتین کو بھی ان کے استحصال سے مکمل بچا نہیں پائے۔ ہماری روشن خیالی ہماری مساوات، انصاف کی قدریں خطرے میں پڑنے لگتی ہیں، کیونکہ ان پر رائے دینے کا اختیار بھی مردوں ہی کے پاس ہوتا ہے، گزشتہ برس ساؤتھ ایشین وومن رائٹس کانفرنس کے سلسلے میں انڈیا کے شہر دہلی جانے کا اتفاق ہوا۔ گروپ کو لیڈ کرنے کے حوالے سے مجھے بے شمار ایسے سوالوں کا جواب دینا پڑا، جس کی آگہی شاید ہم خواتین کو خود بھی نہیں ہوتی۔

بلاشبہ یہ تمام تحریکیں، کانفرنسیں اور سیمینار معاشروں میں عورتوں کی بدحالی کو اُجاگر کرکے اُن کو تجاویز تو دیتی ہیں، لیکن اصل کام خواتین پر مکمل نافذ ہونا ضروری ہے، تاکہ معاشروں میں وہ تمام خوبیاں نظر آنے لگیں، جن کے ہم خواہاں ہیں۔

آج بھی پاکستان میں خواتین کو اگر کسی شعبے میں معتبر عہدے پر فائز کردیا جاتا ہے، تو اس عہدے کو قائم رکھنے یا ختم کرنے کا مکمل اختیار مرد کے پاس ہی ہوتا ہے۔ ہماری قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مثال ہی لیجئے، وہاں پر عورتوں کو خصوصی نشستیں اس لئے دی گئی ہیں کہ اُن کی نمائندگی ہوسکے، یعنی ہماری نمائندگی سے مراد ’’کہیں کوٹہ‘‘ پورا کردینا تو نہیں؟

کیونکہ قوانین بنانے اور توڑنے والے مردوں کے ہاتھوں ہی عورت کبھی جنسی زیادتیوں کا نشانہ بنتی ہے تو کبھی شخصی استحصال کی سولی پر چڑھتی ہے۔

آخر میں ایک بات غور طلب یہ ہے کہ کیا آج عورت کے دشمن صرف مرد ہیں تو مَیں اس بات سے مکمل طور پر متفق نہیں، کیونکہ ہمارے معاشروں میں آج بھی عورتیں خود ہی عورتوں کو اپنی نفرت کا نشانہ بناتی ہیں، جس کی وجہ سے کمزور عورت کمزور تر اور لاچار ہوجاتی ہے۔

بہتر ہے، اگر ہم سب اس جنڈر ریس (Gender race) سے نکل کے ہیومین ریس(Human race) میں کھڑے ہو جائیں تو شاید دنیا میں اس قدر نفرت، دہشت اور بربادی نہ ہو اور نہ ہی کسی بھی عورت کو مٹی کی پیالی بننا پڑے:

مٹی کی پیالی

چکر کھاتی چرخی پر

گھوم کر تیرے ہاتھوں میں

پانی کے چند ہی قطروں سے

مَیں اپنے آپ سمٹ جاتی

کبھی گول رکابی کے جیسی

کبھی چپٹی کا سوں کی پیالی

کبھی گرم الاؤ اور ٹھنڈے جذبے

مَیں اپنے اندر سمو جاتی

مزید :

رائے -کالم -