شہر کی روح تھک گئی

شہر کی روح تھک گئی
شہر کی روح تھک گئی

  


ہمیں یہ سوال کرنے کی اجازت تو نہیں کہ ملک کو افغانوں کی اس جنگ میں کس نے دھکیل کے وسیع پیمانے پر موت کا خوف اور افلاس پھیلائی، جس نے پاکستانیوں کی روح کو تاریک کر دیا،اس سے بھی بڑھ کر مہیب دہشت گردی نے معاشرے کو ریگولیٹ کرنے والی سویلین فورس کی ہیت ترکیبی بدل ڈالی،پولیس جیسی کرائم فائٹنگ فورس اب عسکری تنظیموں کو طرح غیر لچکدار رویّوں میں ڈھل کے نظر نہ آنے والے دشمن سے نبرد آزمانے ہونے کے خبط میں معاشرے کے فطری بانڈ کو توڑ رہی ہے،تشدد کی اس لہر میں اگرچہ ستر ہزار سے زیادہ شہری جاں بحق،ہزاروں زخمی اور سینکڑوں عمر بھر کے لئے معذور ہوئے، لیکن یہ ساری ٹریجیڈی سماج کی فطری لچک میں تحلیل ہو گئی اور افق کے اس پار جانے والے مظلوم شہریوں کے صرف اعداد و شمار باقی رہ گئے، لیکن پولیس کے شہدا کی یادگاریں اور چوکوں و چوراہوں پر سجی قدآدم تصاویر ہمیں ہر روز فورسز کی قربانیوں کی یاد دلا کے اپنی پیٹھ پر انتظامی کوڑے کھانے کی ہمت عطا کرتی ہیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ معاشرہ اگر مدد نہ کرے تو پولیس کام نہیں کر سکتی ،لیکن عہد جدید کے دہشت گردوں نے اپنی سائنسی حکمت عملی سے پولیس فورس کو معاشرے کے خلاف صف آرا کر کے نئی صورت حال پیدا کر دی،جب بھی شہر میں ٹارگٹ کلنگ کی واردات ہو تو شہری سہم جاتے ہیں ،کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ پولیس دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کی بجائے موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی اور شہریوں کو ہراساں کرنے کی مہم تیز کر کے نقل و حمل کی آزادیوں کو محدود اور سماجی سکون چھین لے گی۔

فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کی حالیہ لہرکے بعد آئی جی پی خیبر پختون خوا نے ڈی آئی جی فدا حسن اور ڈی پی او عبدالصبور کو بیک جنبش قلم تبدیل کرکے شہر کی عنان تازہ دم پولیس افسران کے حوالے کر دی،اگرچہ حساس علاقوں میں بالعموم دونوں سینئر افسران کی بیک وقت تبدیلی سے اجتناب کیا جاتا ہے،تاکہ ڈی پی او تبدیل ہو تو شہر کے مسائل کو سمجھنے کے لئے پہلے سے موجود ڈی آئی جی نئے آنے والے ڈسٹرک پولیس آفیسر کی رہنمائی کر کے انہیں پاوں جمانے میں مدد دے،اسی طرح اگر ڈی آئی جی کا تبادلہ ہو تو پہلے سے موجود ڈی پی او نئے آر پی اوکو مقامی مسائل سے آگاہی دیکر چین آف کمانڈ میں توازن قائم کر لے، لیکن اس دفعہ بوجوہ انتہائی حساس ضلع کے ڈی آئی جی اور ڈی پی او کو ایک ہی وقت میں تبدیل کر کے نئے ذمہ داروں کی مشکلات بڑھا دی گئیں،شاید اسی لئے پولیس افسران تسلسل کے ساتھ معاشرے کے مختلف طبقات سے ملاقاتیں کر کے شہر بے نوا کے مزاج کو سمجھنے کی کوشش میں سرگرداں ہیں ،تاہم وہ ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی جلدی میں کئی سماجی تنازعات میں بھی الجھ گئے اور اسی بہاؤ میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے آر پی او نے صحافیوں کے انتہائی متنازعہ اور غیرفعال ادارے کے پروگرام میں شرکت کر کے مقامی پریس کے بڑے حصہ کو منفی پیغام بھیجا جسکا ردعمل لوکل اخبارات کی شہ سرخیوں میں نمایاں نظر آیا۔

قبل ازیں ان کے پیش رو ڈی آئی جی فدا حسن اور ڈی پی او عبدالصبور نے مبینہ گروہ کے شدید اصرار کے باوجود پریس کلب جانے سے گریز کر کے صحافتی تنظیموں کے تنازعات میں ٹانگ اڑانے سے دامن بچائے رکھا،اگرنئے افسران عوامی رابطہ مہم کی بجائے اپنی توجہ پولیس کا مورال بہتر بنانے پر مرکوز ر کھتے تو بہتر ہوتا ،کیونکہ اب تو یہ تاثر عام ہو رہا ہے،اگر فوجی دستے مدد نہ کریں تو پولیس دہشت گردوں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہو گی،امر واقعہ بھی یہی ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے پولیس اہلکار بغیر کسی موثر مزاحمت کے دہشت گردوں کے ہاتھوں جس بیکسی کی موت مر رہے ہیں،اس نے فورس کے مورال کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،ان حالات میں بہتر ہوتا کہ پولیس شہر کے انتظامی امور اپنے سر لینے کی بجائے اگر تھوڑی سی گنجائش ڈپٹی کمشنر کو دیتی تو انہیں پبلک ڈیلنگ کی سرگرانی سے نجات ملتی اور پولیس کا ڈیٹرنٹ زیادہ موثر ہوتا۔

ہرچند کہ مجموعی طور پر خیبر پختون خوا پولیس کی شہرت اچھی بتائی جاتی ہے، لیکن افسوس کہ اس (Myth) میتّھ کے برسرزمین آثار دکھائی نہیں دیتے، مردان کی چار سالہ عاصمہ اورکوہاٹ میں میڈیکل کالج کی طالبہ عاصمہ رانی کے بہیمانہ قتل کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان کی شریفاں بی بی بے حرمتی کیس میں اعلیٰ عدالتوں نے خیبر پختون خوا پولیس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کرتے ہوئے کئی سنجیدہ سوالات اٹھائے ،لیکن اس سے بھی بڑھ کر فرقہ واران دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی انتظامات کے دوران پولیس کی طرف سے فرسودہ طور طریقوں کو آزمانے کی مشق ستم کیش نے شہریوں کی بنیادی آزادیوں کو پامال کر کے پولیس اور سوسائٹی کے درمیان خلیج بڑھا دی۔

پولیس کی اعلیٰ کمانڈ کو اس بات کا ادراک ضرور ہو گا کہ تاجروں،صحافیوں، وکلاء اور مختلف مکاتب فکر کے صاحب الرائے افراد ان سے کیا تقاضے کرتے ہیں،وہ امن و امان کی دگرگوں صورت حال سے قطع نظر کر کے یہاں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر غیر معینہ مدت کی پابندی اور مصروف ترین شاہراوں پر قائم ان درجنوں چیک پوسٹوں کو ہٹانے کی التجا کر رہے ہیں،جن پر ہر روز پرامن شہریوں کی تذلیل پولیس کلچر کا حصہ بنتی جا رہی ہے،اس شہر کی روح اور جسم اب تھک چکا ہے،بے بس شہریوں نے فیس بک پر ایسی پوسٹیں شیئر کیں جن میں کہا گیا کہ ’’پولیس ناکوں پر تذلیل اور جامہ تلاشیوں کی اذیت سے موت بہتر ہے،خدا را فورسز ہٹا کے انہیں آزادی سے مرنے کا مہلت دی جائے‘‘۔انتہائی مصروف ترین سرکلر روڈ پر جی پی او سے لے کر اسلامیہ سکول تک صرف آدھ کلو میٹر فاصلہ کے اندر قائم چھ چیک پوسٹوں پر ہر شہری کو دن میں کئی بار قومی شناختی کارڈ دکھانے کی زحمت گوارہ کرنے کے علاوہ جامہ تلاشی کے اذیت سے گزرنا پڑتا ہے، جس سے شہر کا ماحول شام و لبنان کی طرح جنگی تمدن سے مماثل دکھائی دیتا ہے۔

اب توتکرار سے بچنے کی خاطر کئی منچلوں نے قومی شناختی کارڈ کی جمبو سائز کاپی بنا کے موٹر سائیکل کے آگے آویزاں کر کے اپنی بے بسی کا پردہ فاش کر دیا،گرڈ روڈ، جی پی او چوک اور وینسم کالج کے ناکوں پر چیکنگ کے دوران طویل ٹریفک جام میں پھنسے بوڑھے، بچے، خواتین، مریض اور مجبور شہری مدد کے لئے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں،اپنے خون پسینہ کی کمائی سے ٹیکس ادا کر کے پولیس کی تنخواہوں اور مراعات کا اہتمام کرنے والے شہریوں کو جوتے کھانے پر تو اعتراض نہیں البتہ وہ وقت بچانے کی خاطر جوتے مارنے والوں کی تعداد میں اضافہ کی آرزو کرتے ہیں،لوگ پوچھتے ہیں جن چیک پوسٹوں پر شہریوں کو شب و روز رسوا ہونا پڑتا ہے،پولیس نے وہاں کبھی کسی دہشت گرد کو بھی پکڑا ؟حضرت عیسٰی علیہ السلام نے کہا تھا کہ ’’ اگر تم چپ رہے تو پتھر چلّا اٹھیں گے‘‘ حقیقت یہ ہے کہ شہریوں کی حفاظت کے ان فرسودہ طریقوں نے ماحول میں ایسی گھٹن پیدا کر دی جو اس بے مقصد جبریت کو کسی ناگہانی حادثہ سے دوچار کر کے سماجی تشدد میں بدل دے گی۔

پچھلے بیس سالوں میں جنگ دہشت گردی کے خلاف مزاحمت کے دوران پولیس نے لاشعوری قربانیوں کے عوض غیر معمولی مراعات اور لامحدود اختیارات توسمیٹ لئے، لیکن ان اذیت ناک تجربات سے سیکھاکچھ نہیں جو سینکڑوں انسانوں کو نگل گئے۔

پولیس اپنے تجربات و مشاہدات سے استفادہ کرکے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے سیکیورٹی کا کوئی ایسا میکنزم تشکیل دے سکتی تھی جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق تلف کئے بغیر فرائض منصبی ادا کئے جاتے، دنیا بھر میں پولیس اورسیکیورٹی ادارے شہریوں کے جان و مال اور عزت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے دن رات کام کرتے ہیں ،لیکن وہ شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کرتے ہیں نہ شہری آزادیوں کو محدود کرنے پراصرار کرتے ہیں، ہماری فرض شناس پولیس نے اپنی حفاظت کے لئے تو شہر کی تین اہم ترین شاہراہوں کو دس سالوں سے مستقلاً بند کر کے نقل و حمل کی آزادیوں کو محدود کر دیا،ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود پولیس لائن شارع عام سڑک کھولنے سے انکار کردیا،ڈی پی او آفس کے تحفط کی خاطر سرکٹ ہاوس کی تینوں خوبصورت سڑکوں میں پختہ دیواریں چن دیں، بلاشبہ کوئی بھی شہری مرنے کے لئے پولیس میں بھرتی نہیں ہوتا،دنیا بھر میں پولیس کا ماٹو یہی ہے کہ خدمت کے لئے زندہ رہوِ، لیکن پولیس کے اعلیٰ افسران کو اگر اپنی جانیں اتنی عزیز ہیں تو وہ ان پولیس اہلکاروں کو بھی ایسی ہی سیکیورٹی دیں جو کلاچی،درابن اور کڑی شموزئی جیسے دور افتادہ علاقوں کی چیک پوسٹوں پر دن رات ڈیوٹی دیتے ہیں،یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ انسان کی انفرادی جبلتیں ریاست کے قانونی ڈھانچہ اور اس سماجی نظام سے زیادہ طاقتور ہیں جس نے ہمارے معاشرے کی حرکیات کو لپیٹ میں لے رکھا ہے،اگر افسران اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کی خاطر شہر کو قید خانہ میں تبدیل کر دیں گے تو فطری جبلتیں مقہورمعاشروں کو مزاحمت پر مجبور کریں گی۔

مزید : رائے /کالم