پنجاب یونیورسٹی آفس آف ریسرچ انوویشن کے زیر اہتمام پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے اشتراک سے نمائش کا انعقاد

پنجاب یونیورسٹی آفس آف ریسرچ انوویشن کے زیر اہتمام پاکستان سائنس فاؤنڈیشن ...

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)پنجاب یونیورسٹی آفس آف ریسرچ انوویشن کے زیر اہتمام پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے اشتراک سے نیو کیمپس کے مین کاریڈور میں ساتویں دو روزہ انوینشن ٹو انوویشن سمٹ کے افتتاحی روز پانچ سو سے زائد دیسی مگر جدید ٹیکنالوجیز جبکہ تقریباًدو سو نئے شروع ہونے والے پراجیکٹس کی نمائش کیلئے سٹالز لگائے گئے۔ پاکستان بھر کے سو سے زائداداروں کی جانب سے ادارہ تعلیم و تحقیق کے برآمدے میں نئے انوویٹو آئیڈیاز پر مبنی پراجیکٹس کی نمائش جاری ہے۔اس سلسلے میں افتتاحی تقریب فیصل آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی جس میں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ وائس چانسلر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آبادپروفیسر ڈاکٹر محمد علی ، صدر ای سی او پاکستان سائنس فاؤنڈیشن ڈاکٹر منظور احمد سومرو، چیف ایگزیکٹیو آفیسر آئی آر پی عابد شیروانی ، سیکریٹری لائیو سٹاک نسیم صادق، نائب صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز ذیشان ، یونیورسٹی آف نارتھ کیورلینا پروفیسر ڈاکٹر مارٹن فنگ،مختلف صنعتوں کے چیف ایگزیکٹیو آفیسران ، سائنسی اداروں کے نمائندگان،فیکلٹی ممبران اور طلباؤ طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد زکریا ذاکر نے تعلیمی اداروں، صنعتوں اور معاشرے کے مابین روابط کو فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے علم پیدا کرتے ہیں ہیں جبکہ معاشرہ علم کا صارف ہوتا ہے اور ان تینوں شعبوں کے درمیان فاصلے سے ہماری لئے معاشی و اقتصادی مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی صنعتوں اور معاشرے کے درمیان روابط کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔انہوں نے کہا کہ وہ بند الماریوں میں پڑی ایسی تمام تحقیق بے سود ہے جو لوگوں کی فلاح و بہبود اور معیار زندگی کی بہتری میں کام نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ملک میں سائنسی علوم کے فروغ اور کیمپسز میں نئے آئیڈیاز پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جس کے لئے ہمیں اپنے معاشرے اور انڈسٹریز کی ضروریات بارے بخوبی علم ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ ہماری چھوٹی سے مشکلات بھی اہم ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس بہت سے وسائل ہیں لیکن درست سمت اور رہنمائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں کیمپسز میں انوویشن اینڈ کمرشلائیزیشن کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔ڈاکٹر منظور سومرو نے کہا کہ ہمارے پاس لامحدود وسائل اور بہترین آئیڈیاز ہیں جن کو ملکی ترقی کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سائنس فاؤنڈیشن ایسی سرگرمیوں کے انعقاد سے نچلی سطح پر سائنس کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سائنس کی تاریخ کو جاننے کی بھی ضرورت ہے۔ عابد شیروانی نے حکومت سے تعلیم، تحقیق اور ڈیویلپمنٹ کے بجٹ کو دوگنا کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سائنس اور جدید ٹیکنالوجیز کے فروغ کیلئے سات برس قبل سمٹ کے انعقاد کے آئیڈیا پر کام شروع ہوا۔انہوں نے کہا کہ تعلیم و تحقیق پر پیسہ خرچ کرنے والی اقوام ترقی کی جانب گامزن ہیں۔ تقریب سے دیگر شرکاء نے بھی خطاب کیا۔ بعد ازیاں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر داکٹر زکریا ذاکر نے دو روزہ نمائش کا افتتاح کرنے کے بعد مختلف سٹالز کا دورہ کیا۔ طلباؤ طالبات کی جانب سے جدید ٹیکنالوجیز سے لبریز کئی اشیاء کی نمائش کی گئی جس میں شرکاء نے خصوصی دلچسپی ظاہر کی۔ ان میں روبوٹ ، سمارٹ سٹی پراجیکٹ ،واٹر ری سائیکلنگ و دیگر منفرد منصوبے قابل ذکر ہیں۔ سمٹ بروز جمعرات (آج) بھی جاری رہے گا۔

مزید : کامرس