وزیراعظم کے زیر صدارت ایکنک کا اجلاس ،8بڑے منصوبوں کی منظوری

وزیراعظم کے زیر صدارت ایکنک کا اجلاس ،8بڑے منصوبوں کی منظوری

اسلام آباد (آئی این پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ایکنک کے اجلاس میں 8بڑے منصوبوں کی منظوری دے دی گئی اجلاس کو 11ویں 5سالہ منصوبے (2013-2018)پر بھی بریفنگ دی گئی اور اس دوران حاصل کی گئی کامیابیوں کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا گیا، اجلاس کو بتایا گیا کہ جون 2018تک 3,163میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کردی جائے گی۔بدھ کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت میں قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ ایکنک اجلاس میں آٹھ منصوبوں کی منظوری دی گئی، این ٹی ڈی سی ٹیلی کمیونی کیشن اور سکاڈ نظام کی توسیع اور اپ گریڈیشن کی منظوری دی گئی، منصوبے کیلئے 11ارب 63کروڑ روپے سے زائد رقم کی منظوری دی گئی، راولپنڈی میں 5ارب 30کروڑ کی لاگت سے 200بستر کے زچہ و بچہ ہسپتال بنانے کی بھی اجلاس میں منظوری دی گئی، جنوبی پنجاب میں غربت کے خاتمے کیلئے 7ارب 56کروڑ روپے کے منصوبے کی منظوری دی گئی، منصوبے کے باعث گھرانہ آمدنی میں اضافے اور روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے اور خواتین کو فنی تربیت فراہم کی جائے گی، اس کے علاوہ 4ارب 87کروڑ روپے سے ڈیرہ غازی خان بائی پاس کی تعمیر کے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی، 16ارب 75کروڑ روپے سے چترال ،بومی، مستوج، شندور روڈ کو کشادہ کرنے کی منظوری دی گئی، راولپنڈی کہوٹہ روڈ کو دو رویہ کرنے، حصول اراضی اور معاوضے کیلئے 13 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں زیارت موڑ، کیچ، ہرانی روڈ، ہرنائی، سنجاوی روڈ کی تعمیر کیلئے 8ارب38کروڑ کی منظوری دی گئی، حویلیاں ، تھاکوٹ سڑک منصوبے کیلئے 12ارب 61کروڑ روپے کی منظوری دی گئی، منصوبے کے تحت رقم سے اراضی کا حصول اور معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ اجلاس کو 11ویں 5سالہ منصوبہ (2013-18)پر بھی بریفنگ دی گئی اور اس دوران حاصل کی گئی کامیابیوں پر آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جون 2018تک 3,163میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کر دی جائے گی۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت اجلاس میں قومی اقتصادی کونسل نے آزاد جموں کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا کے ترقیاتی اختیارات میں اضافے کی منظوری دیتے ہوئے ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کیلئے منظور شدہ حد بڑھا کر40کروڑ روپے کردی جبکہ 12 ویں پانچ سالہ منصوبے (2018-23) کے سماجی و اقتصادی مقاصد کی منظوری دیتے صوبائی حکومتوں کو پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کیلئے ضلعی سطح پر ادارہ جاتی نظام قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اجلاس میں آزاد جموں کشمیر ‘ گلگت بلتستان اور فاٹا کے ترقیاتی فورموں کے منظور شدہ اختیارات میں اضافے کی منظوری دی گئی لہٰذا ان تین خطوں کی ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے لئے منظور شدہ حد میں 40کروڑ روپے تک اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ ترقیاتی کمیٹی کو ایک ارب روپے تک ترقیاتی اخراجات منظور کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا ۔اجلاس کو گیارہویں پانچ سالہ منصوبے (2013-18) کے دوران اب تک ہونے والی کامیابیوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا اس عرصے کے دوران حاصل ہونے والی مختلف کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ امن وامان اور مجموعی توانائی کی صورتحال میں بہتری آئی اس کے علاوہ 2012-13ء میں دستیاب 20ہزار میگا واٹ کی نصب شدہ مجموعی استعداد میں دسمبر 2017ء تک 7653میگا واٹ بجلی کا اضافہ کیا گیا ہے۔2012-13ء میں 76 ہزار بیرل یومیہ کے مقابلے میں 100698 بیرل یومیہ کی بلند ترین مقامی تیل پیداوار دیکھنے میں آئی۔گیارہویں منصوبے میں حاصل ہونے والی اقتصادی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ جی ڈی پی کی سالانہ شرح نمو جو 2012-13ء میں تین فیصد تھی اس میں 2016-17ء میں 5.3 فیصد کی عشرے کی بلند ترین شرح نمو کے ساتھ تقریباً 5فیصد کا اضافہ ہوا ۔صنعتی پیداواری شرح نمو 2.7 سے بڑھ کر 5.6 فیصد ہوگئی جبکہ 2015-16ء میں9سال میں 5.8 فیصد کی بلند ترین صنعتی نمو حاصل کی گئی۔ مینوفیکچرنگ شعبے کی شرح نمو 1.6 سے بڑھ کر 5 فیصد ہوگئی اور بڑے پیمانے پر مینو فیکچرنگ 0.6 فیصد سے 4.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ افراط زر کی شرح جو اوسطاً 12 فیصد تک تھی اس عرصہ کے دوران 5.2فیصد تک لائی گی۔اجلاس کو آئندہ پانچ سالہ منصوبے کے لئے سماجی اور اقتصادی مقاصد کے ساتھ ساتھ صوبوں کی ترجیحات کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا جو قومی سطح کے مقاصد سے ہم آہنگ ہوں گی۔ این ای سی نے 12 ویں پانچ سالہ منصوبے (2018-23) کے سماجی و اقتصادی مقاصد کی منظوری دیتے ہوئے پلاننگ کمیشن کو صوبائی حکومتوں اور دیگر فریقین کی مشاورت سے منصوبے کا مسودہ تیار کرنے کا اختیار دیا۔ اجلاس کے دوران سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی 2017-18ء اور پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) نیشنل فریم ورک کا جائزہ لیا گیا۔ قومی اقتصادی کونسل نے ایس ڈی جیز نیشنل فریم ورک اور صوبائی پائیدار ترقیاتی اہداف کی بھی منظوری دی۔ این ای سی نے صوبائی حکومتوں اور وفاقی وزارتوں / متعلقہ اداروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی پالیسیاں / منصوبہ جات اور مختص مطلوب وسائل کو قومی فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔اجلاس نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے ضلعی سطح پر ادارہ جاتی نظام قائم کری۔

مزید : صفحہ اول