سانحہ ماڈل ٹاؤن ،عوامی تحریک کی عدم پیشی پر لاہور ہائیکورٹ کااظہار برہمی

سانحہ ماڈل ٹاؤن ،عوامی تحریک کی عدم پیشی پر لاہور ہائیکورٹ کااظہار برہمی

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے سابق آئی جی پولیس پنجاب مشتاق سکھیرا کی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے استغاثہ میں طلبی پر عمل درآمد روکنے کے احکامات میں مزید توسیع کرتے ہوئے سابق آئی جی کو عدالت میں پیشی سے استثنیٰ دے دیا ۔پاکستان عوامی تحریک کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فاضل بنچ نے ریمارکس دئیے کہ کیوں نہ وکیل کی عدم پیشی پر عدالت اپنا فیصلہ سنا دے ۔ جسٹس عبدالسمیع خان کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے سابق آئی جی پولیس پنجاب کی درخواست پر سماعت کی جس میں عوامی تحریک کے استغاثہ پر انسداد دہشت گردی کی عدالت کے طلبی کے نوٹسز کو چیلنج کیا گیا ہے۔ سماعت کے دوران سابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا عدالت میں پیش ہوئے اور ان کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے موقف اختیار کیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دو مقدمات درج ہوئے سابق آئی جی پولیس پنجاب

کو ملزم نامزد نہیں کیا گیا لیکن سانحہ ماڈل ٹاؤن کے 24ماہ بعد انہیں استغاثہ میں ملزم نامزد کرکے طلب کرلیا گیا۔ مشتاق سکھیرا کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ استغاثہ میں ان کا موقف سنے بغیر انسداددہشت گردی کی عدالت نے انہیں طلبی کے نوٹس جاری کر دیئے جو بلاجواز ہیں، اس لئے ان نوٹسز کوکالعدم قرار دیا جائے۔ فل بنچ نے پاکستان عوامی تحریک کے وکیل رائے بشیر کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور قرار دیا کہ کیوں نہ پاکستان عوامی تحریک کے وکیل کی عدم پیشی پر عدالت فیصلہ سنا دے ،بنچ کے سربراہ جسٹس عبدالسمیع خان نے وکیل کی عدم پیشی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے جونیئر وکیل کو مخاطب کرکے مزیدریمارکس دئیے کہ آپ لوگوں نے عدالتوں کو مذاق بنا رکھا ہے ،آپ کہیں تو فروری 2017 ء میں دائر ہونے والا مقدمہ 2030 ء میں سماعت کے لئے مقرر کر دیں؟جس پر عوامی تحریک کے جونئیر وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ ایڈووکیٹ رائے بشیر سپریم کورٹ مصروف ہیں ،آئندہ سماعت پر پیش ہو جائیں گے ۔،اس کیس کی مزید سماعت ایک ہفتے بعد ہوگی۔

مشتاق سکھیرا

مزید : علاقائی