قیدی کو جرم کے وقت نابالغ ہونے کی بدولت رعایت دینے کا حکم

قیدی کو جرم کے وقت نابالغ ہونے کی بدولت رعایت دینے کا حکم

لاہور(نامہ نگارخصوصی) لاہور ہائی کورٹ نے ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو سزائے موت کے قیدی محمدااقبال کو جرم کے وقت نابالغ ہونے کی وجہ سے ملنے والی رعایت پر کارروائی دو ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس شہرام سرور پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سزائے موت کے قیدی محمد اقبال کی درخواست پر سماعت کی۔قیدی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 1999ء میں محمد اقبال کو 17سال کی عمر میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔محمد اقبال کا نام ان قیدیوں کی فہرست میں شامل تھا جنہیں جووینائل جسٹس سسٹم آرڈیننس کے اجراء کے بعد رعایت ملنا تھی۔اس قانون کا نوٹیفیکیشن 2001 ء میں جاری کیا گیا تھا اور اس کا مقصد ایسے نابالغ مجرمان کی سزائے موت ختم کرنا تھا جنہیں جووینائل جسٹس سسٹم آرڈیننس کے اجراء سے قبل سزائے موت سنائی گئی تھی۔ملزم کے وکیل نے مزید بتایا کہ محمد اقبال کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے آسیفیکیشن ٹیسٹ کے بعد نابالغ تسلیم کیا تھا،ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں بھی محمد اقبال کو نابالغ ہی تسلیم کیا گیا تھا۔محمد اقبال گزشتہ 20برس سے سزائے موت کا قیدی ہے۔ ملزم کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ محمد اقبال کو کم عمری کی رعایت فراہم کی جائے۔عدالت نے کاروائی کرتے ہوئے درخواست ہوم ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کرتے ہوئے دو ہفتوں میں کاروائی کرنے کا حکم دے دیاہے۔محمد اقبال کو 1999 ء میں گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ڈکیتی کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکت کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی۔

قیدی

مزید : علاقائی