پارٹی کے صدر کے ریفرنس کے بغیر باغی رکن اسمبلی کو نا اہل نہیں کیا جا سکتا

پارٹی کے صدر کے ریفرنس کے بغیر باغی رکن اسمبلی کو نا اہل نہیں کیا جا سکتا
پارٹی کے صدر کے ریفرنس کے بغیر باغی رکن اسمبلی کو نا اہل نہیں کیا جا سکتا

  


تجزیہ :سعید چودھری

ایم کیو ایم کی رکن سندھ اسمبلی ہیر سوہوپاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئی ہیں ۔پیپلز پارٹی کے راہنما نثار کھوڑو نے ایم کیو ایم کی ایک اورخاتون رکن اسمبلی نائلہ منیر کی بھی پیپلز پارٹی میں شمولیت کا دعویٰ کیا ہے ۔حالیہ سینیٹ انتخابات میں بھی چاروں صوبائی اسمبلیوں میں متعددارکان پرپارٹی پالیسی کے مطابق ووٹ نہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں ۔کیا پارلیمانی پالیسی سے انحراف پر ان کے خلاف نااہلی کی کارروائی ہوسکتی ہے ؟ جہاں تک اپنی پارلیمانی جماعت کو چھوڑ کر کسی دوسری سیاسی جماعت میں شامل ہونے کا تعلق ہے ،ایسے ارکان کے خلاف آئین کے آرٹیکل63(اے)کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے جبکہ سینیٹ الیکشن میں پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے پر اس آرٹیکل کے تحت کسی رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی۔وفاداریاں اور سیاسی جماعت تبدیل کرنے والے ارکان اسمبلی کے خلاف بھی اس وقت تک نااہلی کی کارروائی نہیں ہوسکتی جب تک کہ ان کی سابقہ جماعت کا سربراہ ان کے خلاف کارروائی کا آغاز نہ کرے ۔الیکشن کمشن اور سپیکر اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ از خود ایسے کسی رکن کے خلاف نوٹس لینے اور کارروائی کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔اگر کوئی شخص اپنی سیاسی جماعت کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیتا ہے یا پھر وہ کسی دیگر پارلیمانی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلیتا ہے تو وہ ایوان کی رکنیت کے لئے نااہل ہوسکتا ہے ،اس کی سابق پارٹی کا سربراہ (جو پارٹی رکن اسمبلی نے چھوڑی ہے )تحریری طورپر سپیکر یا چیئرمین اور چیف الیکشن کمشنر کو ریفرنس بھیجے گا لیکن اس سے قبل ضروری ہے کہ وہ متعلقہ رکن کو شوکاز نوٹس جاری کرے ۔سپیکر اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ پر لازم ہے کہ وہ آرٹیکل 63(اے)3کے تحت دو یوم کے اندر نااہلی کا یہ ریفرنس چیف الیکشن کمشنر کو بھیجے گا ،اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو آئینی طور پر چیف الیکشن کمشنر کو بھیجا گیا تصور کیا جائے گا۔اگرالیکشن کمشن ریفرنس کی توثیق کردے تو متعلقہ رکن اسمبلی ایوان کی نشست سے محروم ہوجائے گا اور اس کی نشست خالی ہوجائے گی ۔الیکشن کمشن کے فیصلے کے خلاف 30یوم کے اندر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے ۔آئین میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ ایسی اپیل کا 90روز میں فیصلہ کرے گی ۔اس آرٹیکل میں یہ دلچسپ بات بھی موجود ہے کہ کسی اسمبلی کے سپیکر یا چیئرمین سینیٹ پر نااہلی کے آرٹیکل63(اے)کا اطلاق نہیں ہوگا۔پارٹی پالیسی سے انحراف پر دیگر قابل گرفت اقدامات میں وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے انتخاب اوران کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے موقع پر کسی رکن کا پارٹی پالیسی سے انحراف کرنا شامل ہے ۔اسی طرح بجٹ یا آئین میں ترمیم کے مسودہ پر اگر کوئی رکن اسمبلی اپنی پارٹی پالیسی سے انحراف کرتا ہے تو اس کے خلاف نااہلی کی کارروائی ہوسکتی ہے۔سینیٹ کے ارکان اورچیئرمین یا پھر سپیکر اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے آئین ایوان کے ممبران پر پارٹی پالیسی کی پابندی کی کوئی شرط عائد نہیں کرتا ،اس لئے اگر سینیٹ کے انتخابات میں کسی ایم پی اے نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر کسی امیدوار کو ووٹ دیا ہے تو اس کے خلاف مذکورہ آرٹیکل کے تحت نااہلی کی کارروائی نہیں ہوسکتی۔

مزید : تجزیہ