پنجاب میں سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے تعلیمی سیشن علیٰحدہ علیٰحدہ ہوں گے

پنجاب میں سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے تعلیمی سیشن علیٰحدہ علیٰحدہ ہوں گے

سرکاری سکولوں میں نئے تعلیمی سال کا آغاز یکم مارچ سے کر دیا گیا جبکہ نجی تعلیمی اداروں میں نئے سیشن کا آغاز یکم اپریل سے ہوگا

پہلے گورنمنٹ کا نجی تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے تعلیمی نصاب پر کوئی کنٹرول نہیں ہے، اب سیشن علیٰحدہ علیٰحدہ ہونے سے مسائل مزید بڑھیں گے،والدین کا موقف

تعلیمی سیشن کی تبدیلی تجرباتی طورپر کی گئی ہے۔ گرمیوں کی چھٹیوں کو ملحوظ خاطر رکھا گیا تاکہ سلیبس جلد کور ہو سکے، حکومتی موقف

پنجاب میں پرائیویٹ سکولز میں عرصہ سے کئی نصاب تعلیم رائج ہیں جتنے سکول اتنے نصاب پڑھائے جا رہے ہیں۔ اب پنجاب حکومت نے سرکاری تعلیمی اداروں کے معیار کو بہتر بنانے کو جواز بنا کر اور گرمیوں کی چھٹیوں سے پہلے سلیبس کور کرنے کویقینی بنانے کے لئے 2018ء کے تعلیمی سیشن کو یکم اپریل کی بجائے یکم مارچ سے شروع کر دیا ہے۔ نئے سیشن کو یکم مارچ سے شروع کرنے کے لئے گزشتہ سالوں میں جو امتحانات مارچ میں ہوتے تھے۔ ان کا انعقاد فروری میں یقینی بنایا گیا ہے اور بعض سکولز میں امتحان لئے بغیر اگلی کلاسوں میں پاس کرنے کی خبریں بھی آئی ہیں۔ افسوسناک پہلو جو سامنے آیا ہے۔ وزیر تعلیم پنجاب نے مثبت یا منفی فیصلہ یکطرفہ طور پر کیا ہے۔ پنجاب میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی تعداد سرکاری اداروں کی نسبت زیادہ ہے۔ پرائیویٹ سکولز کا تعلیمی سیشن گزشتہ سالوں والا برقرار ہے۔ کیا پرائیویٹ تعلیمی ادارے گرمیوں کی چھٹیوں سے پہلے اپنا سلیبس مکمل کر لیتے ہیں؟ کیا ہمارا معاشرہ جو پہلے ہی طبقاتی نظام میں ڈھل رہا ہے۔ افورڈ کر سکے گا سرکاری سکولوں کا سیشن اور ہو اور پرائیویٹ سکولوں کا سیشن اور ہو۔ کیا فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا ہے؟ سیشن تبدیلی سے پیدا ہونے والے اثرات پر بحث کروائی گئی ہے یا نہیں؟ اگر گورنمنٹ کی سطح پر اتنا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے تو اس کی ملکی سطح پر یا پنجاب کی سطح تشہری مہم کیوں نہیں چلائی گئی۔پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی اجارہ داری اور ہٹ دھرمی جو پہلے سے قائم ہے کئی مواقع پر حکومتی اتھارٹی کو چیلنج کیا جا چکا ہے۔ کبھی بھی پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ سردیوں اور گرمیوں کی چھٹیاں نہیں کی۔ عدالتی اور ایجوکیشن اتھارٹی کے فیس نہ بڑھانے کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا۔ حکومت عرصہ سے تعلیمی نصاب ایک کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ پرائیویٹ تعلیمی ادارے کسی نٹ میں آنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس کے باوجود پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان اور نمائندوں سے مشاورت نہ کرنا، اعتماد میں لئے بغیر سرکاری اداروں کا سیشن تبدیل کر دینا نیا پنڈورابکس کھلنے کے مترادف ہے۔ اس بڑے فیصلے سے فائدہ ہونے کی بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔اب جبکہ سرکاری تعلیمی سکولز میں یکم مارچ سے نئے سیشن کا آغاز ہو چکا ہے۔ فوری طور پر پرائیویٹ نیٹ ورک سے وابستہ مالکان اور نمائندوں کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔ اب جبکہ پنجاب حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے تو پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے مشاورت کرکے سردیوں اور گرمیوں کے شیڈول کو حتمی شکل دے لینا چاہیے۔ سب کوششیں تعلیمی نظام کو موثر بنانے اور قابل عمل بنانے کے لئے ہیں اگر مثبت نتائج نہ مل سکیں تو ایسے تجربات کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ حکومت کو دوبارہ سوچنا ہوگا۔

***

مزید : ایڈیشن 1