عصر اور ممتاز و معروف اساتذہ کی یادیں

عصر اور ممتاز و معروف اساتذہ کی یادیں

علم و آگہی

پروفیسر قاضی اکرام بشیر

* نابغۂ عصر اور ممتاز و معروف اساتذہ کی یادیں

* شعبہ تدریس، مذہب، شاعری، صحافت اور علم و ادب کے درخشندہ ستاروں کا تذکرہ

کچھ ایسے بھی اٹھ جائیں گے اس بزم سے جن کو

تم ڈھونڈنے نکلو گے مگر پا نہ سکو گے

گزشتہ ہفتے گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج چنیوٹ میں انگریزی زبان و ادب کے ہر دلعزیز استاد پروفیسر سلیم اختر سہارن کے انتقال پر ملال سے ان اساتذہ کرام کی یاد کے زخم تازہ ہوگئے ہیں جنہوں نے گزشتہ کچھ عرصے میں اس دارِ فانی کو خیر باد کہا ہے۔

درس و تدریس کا پیشہ پیغمبری پیشہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو معلمِ انسانیب بنا کر بھیجا، ہمارے یہاں مولانا محمد حسین آزادؒ ، صوفی غلام مصطفی تبسم، فیض احمد فیض، پطرس بخاری، پروفیسر سراج الدین، ڈاکٹر سید رضی واسطی، پروفیسر شاہد حسین، پروفیسر صدیق کلیم، پروفیسر فضاء الرحمن خان، پروفیسر ڈاکٹر سید نذیر احمد، پروفیسر ایم رشید، پروفیسر مرزا مقبول بیگ بدخشانی، پروفیسر ڈاکٹر ظہور الدین احمد، پروفیسر ڈاکٹر حامد خان حامد، پروفیسر ڈاکٹر آغا یمین خان، پروفیسر مرزا محمد منور، پروفیسر مرزا ریاض، پروفیسر صابر لودھی، پروفیسر سید مشکور حسین یاد، پروفیسر سید وزیرالحسن عابدی، ڈاکٹر سید محمد عبدالرشید، پروفیسر سید وقار عظیم، پروفیسر سید معین الرحمن، پروفیسر شیر محمد گریوال، پروفیسر عبداللہ جمال، پروفیسر سید حامد علی شاہ، پروفیسر چودھری عبدالقیوم، پروفیسر اعجاز، پروفیسر منظور الفرض، آسمانِ علم و ادب کے ایسے سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں درخشندہ ستارے تھے جو اپنی آب و تاب دکھا کر اچانک اس بزم ہستی سے رخصت ہوگئے لیکن مرشدوں کا یہ قافلہ نسل در نسل چلتا ہے، پروفیسر اشفاق احمد، بانو قدسیہ، مولانا جعفر قاسمی، واصف علی واصف، پروفیسر حمید احمد خان، مولانا ظفر علی خان، حمید نظامی، ڈاکٹر مجید نظامی، مولانا محمد حسین نعیمی، مولانا ادریس کاندھلوی، سید ابو الاعلیٰ مودودی الفرض شعبۂ صحافت، مذہب اور رشد و ہدایت کے کتنے ہی چراغ روشن رہنے کے بعد دور افق میں غروب ہوگئے۔

فرصت ملے تو خاک سے پوچھوں کہ اے لیئم

تونے وہ گنج ہائے گرا نمایہ کیا کئے

غالب نے کہا تھا:

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گھر کو میں

حالیہ برسوں میں گورنمنٹ کالج لاہور کے اساتذہ پروفیسر ڈاکٹر نیر حمدانی پروفیسر صابر لودھی، سید مشکور حسین یاد اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے ہیں۔ علم و فضل کی دنیا میں ان کے نام ہی کافی ہیں۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر خلیق الرحمن نے ایک نئی روایت کا آغاز کیا تھا کہ گورنمنٹ کالج کے نابغۂ روزگار اساتذہ کی تصاویر یونیورسٹی کے اشتہارات میں دینا شروع کیں اور یونیورسٹی کے اندر بھی ممتاز اولڈ راوینز کی تصاویر کے فلیکسز بنوا کر آویزاں کئے۔

حال ہی میں پنجاب سول سیکریٹریٹ کے ایک ریٹائرڈ افسر پروفیسر سید جعفر علی شاہ اور سابق سیکرٹری اطلاعات پروفیسر کراعت علی خان بھی اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے، رواں ہفتے میں چنیوٹ کے پروفیسر سلیم اختر سہارن کا انتقال ہوا وہ گزشتہ 30 سالوں سے چنیوٹ میں انگریزی زبان و ادب کے بے مثال، لیجنڈ اساتذہ میں شمار ہوتے تھے اس سے قبل حالیہ مہینوں میں گورنمنٹ کالج لاہور کے پروفیسر ڈاکٹر سید طارق زیدی جو امریکہ اور جاپان میں بھی اردو کی تدریس کرتے رہے اور مجلہ ’’راوی‘‘ کے بھی نگران رہے، اچانک راہئ ملکِ عدم ہوئے، ان کے بعد گورنمنٹ کالج آف سائنس کے پروفیسر اعجاز احمد ارشد نے اس دنیا کو خیر باد کہا، رواں ہفتے میں اقبالیات کے بہت بڑے ماہر استاد اور سر سید کیمبرج سکولز کے بانی پروفیسر ڈاکٹر نذیر قیصر کی یاد میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس سے ڈاکٹر شہزاد قیصر، شہزاد کبیر، شاہد بخاری، راقم پروفیسر قاضی اکرام بشیر، سرفراز سید، اسلم کمال اور دیگر شخصیات نے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نذیر قیصر کی علمی خدمات کو سراہا اس موقعہ پر ڈاکٹر محمد علی نے بتایا کہ ڈاکٹر نذیر قیصر کی اقبال اور رومی پر کتب ایران میں شائع ہوئی ہیں، یہاں پر جانے والوں میں عباس نجمی، سرفراز حسین مرزا، پروفیسر خواجہ سعید، پروفیسر مختار بٹ اور پروفیسر ڈاکٹر حامد خان حامد کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔ یہاں لکھتے لکھتے ڈاکٹر سید محمد عبداللہ، ڈاکٹر محمد باقر، پروفیسر عبداللہ خان، سید سجاد باقر رضوی، حفیظ تائب، منیر لاہوری، ڈاکٹر اسلم رانا، پروفیسر جعفر بلوچ، پروفیسر سید معراج نیر زیدی کے علاوہ پروفیسر محمد حنیف شاہد کے علاوہ ادارۂ ثقافت اسلامیہ اور بزم اقبال سے وابستہ شخصیات مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا محمد اسحٰق بھٹی، احمد ندیم قاسمی، شہزاد احمد شہزاد، خالد احمد، بذل حق محمود، خانصاحب قاضی فضل حق، احمد فراز، منیر نیازی، پروین شاکر کا ذکر اس لئے ضروری ہے کہ ہمارے شعرا، ادباء اور اساتذہ نے معاشرے کو علم کے زیور سے مزین کرنے میں یکساں نوعیت کی خدمات سر انجام دی ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1