لاہورآرٹس کونسل اور پی این سی اے کے زیراہتمامپروگرام ’’کلچرل کارواں‘‘

لاہورآرٹس کونسل اور پی این سی اے کے زیراہتمامپروگرام ’’کلچرل کارواں‘‘

حسن عباس زیدی

لاہورآرٹس کونسل الحمراء اور پی این سی اے(پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس) کے زیراہتمام ’’کلچرل کارواں‘‘ کے نام سے پروگرام منعقد ہوا جس میں نمائش،فلم سکریننگ اور کلچرل شو کا انعقاد کیا گیا۔ایگزیکٹوڈائریکٹر لاہورآرٹس کونسل کیپٹن(ر)عطاء محمد خان نے کلچرل کارواں کے انعقاد کے حوالے سے کہاکہ اس شو میں پاک چین کلچر کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے جس سے دوطرفہ ہم آہنگی کے فروغ میں مدد ملے گی ۔انھوں نے مزید کہاکہ لاہورآرٹس کونسل اورچائینہ کلچر سنٹر کاباہمی اشتراک قابل ستائش ہے جس کی جتنی بھی پذیرائی کی جائے کم ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پی این سی اے سید جمال شاہ نے اس شو کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دوطرفہ (پاک چین) ثقافتی روایات کو یکجا کرکے عوام کے سامنے پیش کیاہے،جس سے مثبت اثرات عوام تک منتقل ہوں گے اور عوامی سطح پر افرادکو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملے گا۔تمام آرٹسٹوں جن میں چین کے آرٹسٹ بھی شامل تھے ،کے کام پر مبنی فن پارے کی نمائش بھی لگائی گئی ۔شو میں ناظرین کو کم دورانیے کی فلمیں بھی دیکھائی گئیں ۔ثقافتی ڈانس پرفارمنس ہوئی ۔نامور پاکستانی گلوکاروں بابر نیازی،جاوید نیازی اور سائیں خاور نے اپنے فن کا جادو جگایا۔اس موقع پر کلچرل کارواں میں پاک چین ثقافتی اقدار،رسم و رواج اور باہمی دوستی کی تصاویر پر مبنی تصاویر کتاب کی تقریب پذیرائی بھی ہوئی جسے لوگوں کی بڑی تعداد نے بہت پسند کیا۔اس پروگرام کی کامیابی میں ڈائریکٹر آرٹس اینڈ کلچر لاہور آرٹس کونسل ذوالفقار علی زلفی اور ڈائر یکٹر شاکر علی میوزیم آمنہ پٹودی کی خصوصی کاو شیں شامل ملتھیں۔ایسے پروگراموں کے انعقاد سے ہمیں ملکی اور غیر ملکی ثقافت کو جاننے کا موقع ملتا ہے ۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے مختلف مہمانوں کا کہنا تھا کہ ثقافت قوم کے مجموعی رویوں کو ظاہر کرتی ہے۔ امن و انصاف پر مبنی ثقافتی روایات ہمیشہ پروان چڑھتی رہتی ہیں۔جو معاشرہ نا انصافی اور معاشرتی عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے اس میں غیر ملکی ثقافتوں کو جذب کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔جب ہندوستان کے گھٹن زدہ اور عدم مساوات پر مبنی ہندو معاشرے میں مسلمانوں کی آمد ہوئی تو صدیوں سے ظلم وزیادتی کے شکار چھوٹی ذات کے ہندو مسلمانوں کے اخلاق اور انصاف پروری سے متاثر ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ایک وقت آیا کہ پورے ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہو گئی۔مسلمان حکمرانوں نے اسلامی معاشرتی اقدار کی سرپرستی کی ہندوستان میں ایک مظبوط اسلامی معاشرہ قائم ہوگیا اور ہندو رعایا نے بھی مسلمان حکمرانوں کی خوشنودی کے لئے اسلامی طرز زندگی کو اختیار کیا۔ہندوؤں نے شاہی ملازمت کے لئے عربی اور فارسی زبانیں سیکھیں۔ اٹھارہویں صدی کے اوائل میں ہندؤں میں یہ شعور بیدار ہوا کہ اگر مسلمانوں کا راستہ نہ روکا گیا توایک وقت آئے گا کہ ہندوستان سے ہندوازم کا نام ونشان مٹ جائے گا۔اس وقت مسلمان زوال کا شکار تھے اور انگریز ہندوؤں کی سرپرستی کر رہے تھے۔شدھی اور سنگھٹن جیسی تحریکیں شروع کی گئیں اور ہندو مسلم تصادم کی صورت حال پیدا ہو گئی۔انہی حالات کے پیش نظر مسلمانوں نے اس بات کا ادراک کر لیا کہ اگر حقیقی اسلامی معاشرے کا قیام اوراسلامی معاشرتی اقدار کو پروان چڑھانا ہے تو ہندوؤں سے الگ ایک ملک کا حصول اب ضروری ہے۔دو قومی نظریہ اور پاکستان کا قیام اسی سوچ کا نتیجہ تھا۔اکھنڈبھارت کا راگ الاپنے والے انتہا پسند ہندوؤں کو پاکستان کسی صورت میں گوارہ نہ تھااسی مقصد کے حصول کے لئے ابتدا میں جنگوں کا سہارا لیا گیا۔جب منہ توڑ جواب ملا تو حکمت عملی تبدیل کر لی گئی اور پاکستان پر ثقافتی یلغار کر دی گئی۔قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد تک پاکستان میں ہندوستانی فلموں کی نمائش جاری رہی پھر جلد ہی پاکستان میں صاف ستھری معاشرتی اور اسلامی اقدار پر مبنی فلمیں بننا شروع ہو گئیں اور ہندوستانی فلموں کی نمائش پر پابندی لگا دی گئی۔پی ٹی وی پر شاہکار ڈرامے تخلیق کئے جانے لگے اور پوری دنیا میں ان ڈراموں کا ڈنکا بجنے لگا۔ان حالات میں تو پاکستانی معاشرہ کسی حد تک غیر ملکی یلغار سے بچا رہا لیکن ڈش اور کیبل کے ساتھ ہی سینکڑوں ہندوستانی چینلز کو موقع مل گیا اور ہندوؤں کو اپنے مذموم مقاصد کے کے حصول میں آسانی پیدا ہو گئی۔ان چینلز پر نام نہاد ہندوستانی ثقافت اور مذہب کا پرچار اس تسلسل سے کیا جانے لگا کہ اس کے منفی اثرات پاکستانی معاشرے پر واضح نظر آنے لگے ہیں۔ان کی نقالی کرتے ہوئے بعض پاکستانی چینلز نے بھی انڈین کمرشل اور ڈراموں کو دکھانا شروع کر دیا ہے۔اس ثقافتی یلغار کی وجہ سے پاکستان کی قومی اور اسلامی اقدار کو بہت نقصان ہو رہا ہے۔پاکستانی عوام میں انڈین لباس اور زبان مقبول ہو رہی ہے۔انڈین ڈراموں کی تقریباً ہر قسط میں کوئی نہ کوئی ہندو تہوار منایا جاتا ہے،ڈراموں میں ان کی مذہبی رسومات کو دکھایا جاتاہے۔جن پاکستانی گھروں سے تلاوت قرآن کی صدائیں بلند ہونی چاہئیں تھی ان گھروں میں سے شب وروز انڈین گانوں اور بھجن کی آواز سنائی دیتی ہے۔یہی وہ ہتھیار ہے جس کو استعمال کرنے کے لیئے کسی فوج کی ضرورت نہیں اور اس ہتھیار کو بڑی خوبصورتی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔اس وقت پاکستانی معاشرہ پوری طرح اس غیر ملکی ثقافتی یلغار کے نرغے میں ہے۔اب تو ترکی کی یورپ زدہ معاشرت پر مبنی ڈرامہ سیریلز بھی دکھائے جانے لگے ہیں اور ان میں دکھایا جانے والا لباس اسلامی اقدار سے میل نہیں کھاتا۔کیا اسی طرح کا معاشرہ پاکستان بنانے والوں نے سوچا تھا۔ان حالات کا تقاضا ہے کہ ارباب اختیار سنجیدگی سے اس یلغار کو روکنے کے اقدامات کریں۔مہمانوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ انڈین فلموں کی پاکستانی سینماؤں میں نمائش پر پابندی لگائی جائے۔انڈین ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے ڈرامے اور دوسرے رقص وموسیقی کے پروگرامز بھی بند کئے جائیں۔پاکستانی چینلز کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ نہ تو انڈین ڈراموں کی نقالی کریں اورنہ ہی ان کے پروگرام دکھائیں۔پاکستانی فلم انڈسٹری کی سرپرستی کی جائے تاکہ صاف ستھری پاکستانی معاشرتی اور اسلامی اقدار پر مبنی فلمیں بنائی جائیں۔پی ٹی وی اور دوسرے پاکستانی چینلز کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ پھرسے معیاری ڈرامے اور پروگرام تیار کریں تاکہ آنے والی نسلوں تک یہ پیغام پہنچ سکے۔اس پروگرام کے انعقاد پر لاہورآرٹس کونسل الحمراء اور پی این سی اے(پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس) کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔

مزید : ایڈیشن 2