چارسدہ میں انجمن پٹواریان وقانون گویان کا مطالبات کیلئے مظاہرہ

چارسدہ میں انجمن پٹواریان وقانون گویان کا مطالبات کیلئے مظاہرہ

چارسدہ(بیور و رپورٹ) انجمن پٹواریان و قانون گویان نے اپ گریڈیشن سمیت دیگر مطالبات کی منظوری کے لئے تحصیل بازار میں واک اور بعد میں چارسدہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ،اس موقع پر مظاہرے میں پٹواریوں سمیت گرد اور ،تحصیلدار اور اپیکا تنظیم کی حمایت بھی شامل تھے۔اس موقع پر مظاہرین نے بینززاور پلے کارڈ ز اٹھا رکھے تھے جس پر صوبائی حکومت کے خلاف اور ان کے مطالبات کی منظوری کے نعرے درج تھے ،اس موقع پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے انجمن پٹواریان کے صدر اکبر حسین اور اپیکا کے صدر راج ولی شاہ کا کہنا تھاکہ وہ پچھلے دو ہفتوں سے اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے احتجاجی دھرنا دے رہے ہیں جبکہ اپنے مطالبات کے حوالے سے چارٹر آف ڈیمانڈ وزیراعلیٰ کو پیش کرکے اپنے مطالبات سے آگاہ کر دیا ہے جس میں پٹواریوں ،تحصیلدار نائب تحصیلدار اور گرد اور کی اپ گریڈیشن سمیت فلیڈ الاونس ،پٹوار خانہ الاونس ،اجرت نقول الاونس ،بستہ الاونس ،سٹیشنر ی الاونس ،عدالتی الاونس ،سپیشل ڈیوٹی الاونس ،ایگزیکٹوں الاونس ،حد براری الاونس اور حصہ ٹیکس الاونس سمیت پٹواریوں کو نائب قاصد و سٹیو مہیا کرنے سمیت رہائشی کالونیوں کی فراہمی کے مطالبات شامل ہیں ،اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ ہرضلع بھر میں موجود پٹواری صوبے کے تمام بجٹ کا1/2حصہ ریونیو کے مد میں صوبے کو ادا کررہاہے،پولیو مہم کے دوران تمام پٹواری ریفیوزل کو راضی کرنے سے ایمرجنسی بنیادوں پر ڈیوٹیاں انجام دے رہی ہے لیکن اس کے باوجود بھی صوبائی حکومت ریونیو سٹاف کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے ، محکمہ مال کا عملہ 24گھنٹے ڈیوٹی انجام دے رہا ہے لیکن حکومت ان کے مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں ۔اس موقع پر انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ پانچ سال قبل حکومت نے صوبے بھر کے پٹواریوں کے لئے دفتر اور یوٹیلٹی بلز کے مد میں جو رقم منظور کئے تھے وہ رقم صوبائی خزانہ سے نکالی گئے ہے جس میں چارسدہ کے پٹواریوں کے لئے 51لاکھ روپے مختص کئے گئے تھے لیکن پانچ سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود انہیں آج تک ایک روپے کی ادائیگی بھی نہیں کی گئے ہے ۔اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ کل سے اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے پشاور میں صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینگے جس میں صوبے بھر کے پٹواریاں شرکت کرینگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر