امن و امان کا قیام اور جرائم کا خاتمہ پولیس کی فرض شناسی کا نتیجہ ہے :ڈاکٹر میاں سعید

امن و امان کا قیام اور جرائم کا خاتمہ پولیس کی فرض شناسی کا نتیجہ ہے :ڈاکٹر ...

مردان (بیورورپورٹ)ضلعی پولیس سربراہ مردان ڈاکٹر میاں سعید احمدنے کہا ہے ، کہ ضلع مردان میں امن و امان کا قیام اور دیگر سماجی جرائم کے خاتمے میں کامیابی مردان پولیس کی محنت ، ایمانداری اور فرض شناسی کا نتیجہ ہے۔اسماء قتل کیس میں ملزم کی گرفتاری نے نہ صرف پولیس کا گراف بلند کیا بلکہ پورے صوبے میں ایک مثال قائم کی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان پولیس کے اعزاز میں کیمسٹ اینڈ ڈرگ ایسوسی ایشن کاٹلنگ کے زیر اہتمام منعقدہ ایک پر وقار تقریب کے دوران کیا ۔ جس میں کاٹلنگ کے تاجران، معززین علاقہ، میڈیا کے نمائندوں اورڈی ایس پی کاٹلنگ گل شید خان، ایس ایچ او تھانہ کاٹلنگ ریاض خان و دیگر پولیس افسران کے علاوہ چیئر مین ڈی آر سی کاٹلنگ گل فراز خان اور عوام الناس نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔مردان پولیس کے اعزازی تقریب کا مقصد ضلع بھر میں امن و امان کو بحال رکھنااور حالیہ اسماء قتل کیس میں کامیابی حاصل کرنے پر خراج تحسین پیش کرنا تھا۔۔ ضلعی پولیس سربراہ مردان نے مزید کہا کہ عزت اور ذلت اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے،اسماء قتل کیس میں کامیابی اللہ تعالی کے فضل و کرم اور مردان پولیس کے افسران و اہلکاروں کی انتھک محنت کی بدولت حاصل ہوئی۔کیونکہ 22کنال کی اراضی کھیتوں میں اندھے قتل کا سراغ لگانا پولیس کیلئے ایک چیلنج تھا میری پوری ٹیم نے دن رات محنت کر کے اس اندھے قتل کیس کونہ صرف ٹریس کر کے ملزم کو گرفتار کیابلکہ ضلع مردان کے غیور عوام کی عزت و آبرو کی لاج بھی رکھی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس نے ہمیشہ ملک و قوم کے تحفظ کی خاطر اپنی قیمتی جانوں کے نظرانے پیش کیے ان کی قربانیوں کو کھبی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا اور یہی وجہ ہے کہ آج محکمہ پولیس پر عوام الناس کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ ضلع بھر کے عوام اور تاجر برادری کا پولیس کی حوصلہ افزائی پر ان کا شکر گزار ہو ں۔ مردان پولیس عوام الناس کی جان و مال اور عزت و آبرو کی تحفظ کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے عوام کے تعاون کی بدولت ضلع بھر میں مثالی امن و امان قائم کیا جائیگا۔ دریں اثناء تنظیم تاجران کی جانب سے ضلعی پولیس سربراہ ڈاکٹر میاں سعید احمدکو کیمسٹ اینڈ درگ ایسو سی ایشن کاٹلنگ کے صدر جاوید احمد اور سینئر نائب صدر رشید احمد نے اعزازی تلوار اور تحائف بھی پیش کئے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر