سیاسی جماعتوں اور پی ٹی آئی کے منحرف رہنماؤں نے نئی حلقہ بندیاں مسترد کر دیں

سیاسی جماعتوں اور پی ٹی آئی کے منحرف رہنماؤں نے نئی حلقہ بندیاں مسترد کر دیں

نوشہرہ(بیورورپورٹ) نوشہرہ کے تمام سیاسی جماعتوں اور پی ٹی آئی کے منحرف اراکین سمیت رہنماؤں نے نوشہرہ سمیت خیبرپختونخوا میں حالیہ حلقہ بندیوں کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی سازش قرار دیتے ہوئے حلقہ بندیوں کو مسترد کردیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنی خواہش کے مطابق حلقہ بندیوں میں مداخلت کی ہے جو ناانصافی، جمہوری راستہ بند کرنے اور 2018 کے عام انتخابات سے راہ فرار اختیار کرنے کی ایک کھڑی ہے جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے وزیراعلیٰ اپنی من پسند حلقہ بندیاں کرانے کے باوجود نوشہرہ کے عوام کے غضب وغصے سے بچ نہیں سکتے آئندہ عام انتخابات میں شکست پرویز خٹک کی مقدر بن چکی ہیں ان خیالات کااظہار عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ضلع نوشہرہ کی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا حالیہ حلقہ بندیوں پر تحفظات کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری اختیار ولی خان کی رہائشگاہ نوخار ہاؤس میں آل پارٹیز کانفرنس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پی ٹی آئی کے منحرف ایم این اے سراج محمدخان، ایم پی اے قربان علی خان، عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر ملک جمعہ خان، سابق ایم پی اے پرویز احمد خان، سابق ایم پی اے اور پیپلزپارٹی کے رہنما بصیر احمدخٹک، پیپلزپارٹی کے ضلعی صدر ملک غلام حضرت، مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر صاحبزادہ حمزہ پرویز، قومی وطن پارٹی کے ولی الرحمن، جمعیت علماء اسلام کے ضلعی جنرل سیکرٹری مفتی حاکم علی حقانی، سینئرنائب امیر مفتی ڈاکٹر شوکت اللہ خٹک، جماعت اسلامی پی کے 15 نامزد امیدوار انجینئر امیرعالم خان اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما موجود تھے میاں افتخار حسین نے اپنے پریس بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک حالیہ حلقہ بندیوں پر اثر انداز ہوا ہے کیونکہ انہوں نے اپنی من پسند حلقہ بندیاں کرائی ہے اگر ضلع نوشہرہ میں آبادی زیادہ ہوچکی تھی تو نئے صوبائی وقومی حلقے بنادیتے یہ کونسا منطق ہے کہ ایک حلقے سے کسی یونین کونسل کو جداکرکے دوسرے حلقے کے ساتھ نتی کیاجائے کرایا گیا اسی مردم شماری پر اعتراضات اور تحفظات موجود ہیں لیکن پھر بھی اگر اسی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیاں کی گئی ہے تو پھر ضلع نوشہرہ میں صوبائی یا قومی حلقوں میں اضافہ کیوں نہیں ہوا انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں نوشہرہ آل پارٹیز کانفرنس میں حلقہ بندیوں پر تحفظات اور اعتراضات کیلئے 2 کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہے ایک لیگل کمیٹی دوسری احتجاجی کمیٹی ہوگی لیگل کمیٹی وکلاء کے ساتھ صلاح ومشوروں ومشاورت سے اقدامات کرے گی جبکہ دوسری کمیٹی حلقہ بندیوں کے متعلق احتجاجی پروگرام ترتیب دے گی انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں اور عوام کو اعتماد میں لئے بغیر حلقہ بندیا ں کی ہیں وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی ڈیکٹیٹ کردہ حلقہ بندیاں کسی صورت ہمیں منظور نہیں ہم ایسی حلقہ بندیاں مسترد کرتے ہیں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سینٹ انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کا دامن صاف ہے زرداری، میاں نوازشریف اور عمران خان تینوں سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی تحقیقات کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن کیا نیب کہاں سوئی ہوئی ہے ؟ نیب یہ پتہ کریں کہ جس نے ووٹ خریدا اس کے پاس پیسے کہاں سے آئیں جس نے ووٹ بیچا اس نے پیسے کہاں رکھے سینٹ انتخابات کی ہارس ٹریڈنگ پر سوموٹو ایکشن کیوں نہیں لیاجاتا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر