کوہاٹ میں تمام مقدمات کا ریکارڈ کمپیوٹر ائزڈ کردیا گیا ،ڈی پی او عباس مجید مروت

کوہاٹ میں تمام مقدمات کا ریکارڈ کمپیوٹر ائزڈ کردیا گیا ،ڈی پی او عباس مجید ...

کوہاٹ (بیورورپورٹ)کوہاٹ کے ضلعی پولیس سربراہ عباس مجید خان مروت نے کہا ہے کہ جامع اصلاحات کے ذریعے مقدمات کاتمام ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کردیا گیا ہے ۔مفاد عامہ کیلئے اٹھائے گئے قابل عمل اقدامات کے تحت پولیس اسسٹنس لائنز(PAL) کی خدمات سے ہزاروں شہری مستفید ہورہے ہیں جبکہ محکمہ کے اندر خود احتسابی کا نظام متعارف کرتے ہوئے پولیس کو عوام کے سامنے جوابدہ بنادیا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پولیس اسسٹنس لائینز اور پولیس ایکسس سروس کے دفتر کا دورہ کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈی ایس پی سٹی رضا محمد ،زیر تربیت اے ایس پی ناصر محمود اور انچارج پال آفس انسپکٹر آصف شریف بھی انکے ہمراہ تھے۔ضلعی پولیس سربراہ نے ون ونڈو آپریشن کے تحت ایک ہی چھت کے نیچے شہریوں کو پولیس کیساتھ وابستہ معاملات میں تمام سہویات بہم فراہم کرنے والے مختلف کاؤنٹرز کا معائنہ کرتے ہوئے متعلقہ پولیس ملازمین سے انکی خدمات کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔ضلعی پولیس سربراہ کوپولیس اسسٹنس لائینز کی خدمات کے سلسلے میں ماہانہ کارکردگی کے حوالے سے بتایا گیا کہ پولیس اسسٹنس لائینز سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران 2850افراد نے شخصی کردار کی اسناد وصول کیں،کرایہ کے گھروں میں مقیم 1060افراد کے کوائف کی چھان بین کرتے ہوئے انکا تمام ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کردیا گیا،شہریوں کی طرف سے گمشدہ اشیاء کی 1257رپورٹیں درج کی گئیں جبکہ مختلف قسم کی 17گاڑیوں کے کاغذات کی چھان بین کا عمل مکمل کیا گیا اسی طرح سرکاری و نجی اداروں میں ملازمت حاصل کرنے کیلئے درخواست دہندہ سینکڑوں امیدواروں کی مطلوبہ مراحل کے تحت چھان بین مکمل کرتے ہوئے انہیں تصدیقی سرٹیفیکیٹس جاری کئے گئے۔ضلع پولیس سربراہ کو مزیدبتایا گیا کہ پولیس اسسٹنس لائینز کی عوام دوست حکمت عملی کے تحت دو گمشدہ بچوں کو والدین کے حوالے کیا گیا قانونی مشاورت،قومی شناختی دستاویزات و ڈرائیونگ لائسنس اور گاڑیوں کی رجسٹریشن کاغذات کی تصدیق کی مد میں مجموعی طور پر 10افراد کو مطلوبہ سہولیات فراہم کی گئیں۔اس موقع پر ضلعی پولیس سربراہ عباس مجید خان مروت نے مفاد عامہ کے تحت اٹھائے گئے نتیجہ خیز اقدامات کے حوالے سے بتایا کہ جامع اصلاحات کے تحت دیوانی و فوجداری مقدمات کا تمام ریکارڈ خود کار نظام سے منسلک کیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں اب تک مجموعی طور پر 60ہزار مقدمات کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈکیا جاچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس ایکٹ 2017کے نفاذ کے تحت محکمہ کے اندر خود احتسابی کا ایسا شفاف طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جسمیں پولیس کو عوام کے سامنے براہ راست جوابدہ بنادیا گیا ہے ۔ضلعی پولیس سربراہ عباس مجید خان مروت کا کہنا تھاکہ پولیس اور عوام کے مابین فاصلے ختم کرنے کیلئے پولیس ایکسس سروس (PAS)کے ذریعے پولیس کے متعلق موصولہ متعدد عوامی شکایات کا فوری ازالہ یقینی بناکر شہریوں کو اطمینان بخش ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر