یہودیوں کا وہ طاقتور گروہ جو امریکی صدر کا انتخاب کرتا ہے 

08 مارچ 2018 (15:28)

صابر ابو مریم

ایپک سے مراد امریکا میں قائم ’’امریکا اسرائیل پبلک افیئر کمیٹی‘‘ ہے جسے انگریزی میں AIPACکہتے ہیں۔ سیاسیات وبین الاقوامی تعلقات کی دنیا میں اس کمیٹی کو دنیا کی سب سے طاقتور ترین کمیٹی مانا جاتا ہے جو نہ صرف امریکا اور اسرائیل کے مابین تعلقات بنائے رکھنے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ دیگر کئی ایک اہم امور سمیت سب سے اہم ترین کام یعنی امریکی صدر کے چناؤ میں بھی یہی کمیٹی لابنگ کرتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ جس کو اس کمیٹی کی حمایت حاصل ہو جائے وہ یقینی طور پر صدر بن جاتا ہے۔

یعنی سادہ الفاظ میں یہ امریکہ میں مقیم صیہونیوں کا وہ گروہ کہ جو امریکی سیاست کو مکمل طور پر غاصب صیہونی ریاست کے مفادات کے لئے استعمال کرتا ہے۔حتیٰ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات میں ہر امید وار کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی صدارتی انتخابی مہم میں صیہونیوں کی ہمدردی و حمایت حاصل کر سکے۔ دور حاضر کے گذشتہ نصف درجن سے زائد صدور بھی اسی کمیٹی یا اس کے قیام سے قبل بھی صیہونیوں کی حمایت کے نتیجہ میں امریکی صدر کے عہدے تک پہنچے ہیں اور جو تھوڑی بہت بھی مخالفت کرتا ہے تو اس کا انجام بہت برا ہوتا ہے جیسا کہ امریکی صدور کا قتل بھی ہوا ہے۔

ایپک کے قیام کے مقاصد کے بارے میں صیہونیوں کا کہنا ہے کہ یہ کمیٹی امریکا و اسرائیل کے مابین اچھے تعلقات اور مشترکات کو اچھے اسلوب کے ساتھ انجام دینے کے لئے بنائی گئی ہے اور ان معاملات میں یہ کمیٹی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔سادہ الفاظ میں یہ کہا جائے کہ یہ ایک ایسی کمیٹی ہے کہ جس کا مقصد امریکی شہریوں کو اسرائیل کا حامی بنانا ہے تا کہ امریکی شہریوں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہ ہو۔ کیونکہ امریکہ ہی ہے کہ جو غاصب صیہونی اور جعلی ریاست اسرائیل کا مکمل طور پر سرپرست ہے اور نہ صرف اربوں ڈالرز کا اسلحہ اسرائیل کو فراہم کرتا ہے بلکہ فلسطین کے مظلوم اور نہتے عوام پر جاری صیہونی مظالم پر عالمی اداروں میں صیہونی جعلی ریاست کی مذمت کرنے کی بجائے اس پر چشم پوشی بھی کرتا ہے۔بہر حال امریکی شہریوں کے ساتھ یہ بہت بڑی نا انصافی ہے کہ ان کے ٹیکس کو اسرائیل کے لئے سرف کیا جاتا ہے اور اس ٹیکس کی رقم سے بننے والا اسلحہ اسرائیل کو فقط امداد کے نام پر دیا جاتا ہے جس کے بعد مظلوم انسانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے، جو پہلے پہل فلسطین تک محدود تھا، بعد میں عرب ممالک کے ساتھ مختلف جنگوں کی صورت میں سامنے آنا شروع ہوا ور اب دنیا بھر میں دہشت گرد گروہوں کو مدد فراہم کرنے کی صورت میں بھی سامنے آرہاہے ۔

صیہونیوں کی اس کمیٹی یعنی ایپک کے بارے میں امریکی سیاست کا ایک مایہ ناز نام پال فنڈلے اپنی کتاب میں چشم کشاء حقائق بیان کر چکا ہے جس میں ایپک کی امریکی صدارتی انتخابات سمیت سینیٹرز اور کانگریس پر کس حد تک دسترس قائم ہے اور کس طرح یہ صیہونی کمیٹی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہو کر صیہونی حمایت یافتہ امید وار وکو کامیاب کرواتی ہے ، یہ تمام حقائق انہوں نے اپنی کتاب ’’شکنجہ یہود‘‘ میں لکھے ہیں۔

صیہونیوں کی قائم کردہ ’’امریکا اسرائیل پبلک افیئر کمیٹی‘‘ سالانہ ایک کانفرنس کا انعقاد کرتی ہے جس میں امریکی و اسرائیلی اہم ترین عہدیداران خطاب کرتے ہیں جس میں جعلی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم بھی خطاب کے لئے امریکہ آتے ہیں اور سال نو کی پالیسی کا اعلان کیا جاتا ہے۔اس کمیٹی کا مرکزی دفتر واشنگٹن میں قائم ہے جبکہ اس کمیٹی میں ایسے امریکی افراد موجود ہیں کہ جو غاصب اور جعلی صیہونی ریاست اسرائیل کے حامیوں میں شمار ہوتے ہیں۔اسی طرح امریکن کانگریس کی دو تہائی اکثریت بھی اس کانفرنس کا حصہ بنتی ہے۔امریکی یونیورسٹیز کے مختلف 630کیمپسوں میں سے 3600طلباء و طالبات بھی اس کانفرنس میں شرکت کرتے ہیں،امریکہ کی تمام پچاس ریاستوں سے 283ایسے طلباء جن کو صدارتی ایوارڈ دئیے گئے ہوں وہ بھی اس کانفرنس کا حصہ ہوتے ہیں۔امریکہ میں مختلف عبادت گاہوں سے 275خصوصی مذہبی پیشواؤں (مختلف مذاہب ) کو مدعو کیا جاتا ہے اور اس کانفرنس کا حصہ ہوتے ہیں۔اورا س کے ساتھ ساتھ وہ تمام آفیشل ممبرز جو اس کمیٹی کے رکن ہیں وہ سب کے سب شریک ہوتے ہیں۔واضح رہے کہ حالیہ ایپک کانفرنس 4مارچ کو

شرو ع ہو کر 6مارچ تک جاری رہی ہے، اور درج بالا شخصیات و ادارے سب نے اس کانفرنس میں شرکت کی ہے۔

ایک امریکی جریدے دی ہل کے مطابق ایپک کمیٹی اور ا س کی سالانہ پالیسی کانفرنس امریکہ اور اسرائیل تعلقات کی محافظ ہے۔واشنگٹن میں ایپک سالانہ پالیسی کانفرنس امریکہ کے ذہین ترین افراد اور سیاست دانوں حتیٰ موجودہ صدر اور مستقبل میں آنے والے امریکی صدور کے لئے اہم ترین شمار کی جاتی ہے۔

Tablet Magazine, Stephanie Butnick کے مطابق ایپک پالیسی کانفرنس اور کمیٹی اوسکر ایوارڈ کی طرح ہی صیہونیوں کا سب سے بڑا اور اہم ترین اجلاس ہے جو مستقبل کے لئے اہم ترین فیصلوں کو کرنے اور ان پر عملدرآمد کے لئے حکمت عملی وضع کرتا ہے۔

joshua hersh huffington post کے مطابق ایپک کانفرنس امریکی دونوں جماعتوں اور امریکی قانون سازوں کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس کی حمایت حاصل کرلینا کسی بھی امیدوار کی کامیابی کی کنجی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ امریکی سیاست اور امریکہ کے معاشی و دیگر معاملات کو امریکہ ہی میں قائم ایک ایسا ادارہ کنٹرول کر رہاہے جس کے بنانے والے صیہونزم سے تعلق رکھتے ہیں جن کے مقاصد نہ صرف فلسطین پر قابض ہونا ہے بلکہ پوری دنیا پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتے ہیں، اگر سادہ الفاظ میں کہا جائے تو ’’امریکا اسرائیل پبلک افیئر کمیٹی‘‘ در اصل امریکی سینیٹ اور کانگریس جیسے ایوانوں سے بھی بلکہ وائٹ ہاؤس سے بھی زیادہ طاقت رکھتی ہے اور کسی بھی امریکی سیاستدان میں اس کمیٹی کے خلاف جانے کی ہمت کرنا نا ممکن سی بات ہے، کیونکہ معروف امریکی سیاست دان پال فنڈلے نے اپنی کتاب شکنجہ یہود میں نہ صرف اپنے ساتھ بیتنے والی ایپک کی داستان بیان کی ہے بلکہ بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ امریکی سیاست پر ایپک یعنی صیہونیوں کا کنٹرول ہونے کے ساتھ ساتھ امریکی سیاست دانوں کی خرید و فروخت کرنے جیسے متعدد گھناؤنے افعال یہی کمیٹی انجام دیتی ہے۔ 

ایپک کمیٹی کے تحت ہر سال منعقد ہونے والی پالیسی کانفرنس سے نیتن یاہو کا خطاب دو حصوں پر مشتمل ہے۔ خطاب کے آغاز میں امریکی حکومت اور صدر کے شکریہ اور اسرائیل کی جعلی ریاست کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت، ایٹمی طاقت اور دیگر امور میں نام نہاد حاصل ہونے والی ترقی کا ذکر اور دنیا کے لئے اسرائیل کو امن کا گہوارہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ اسی خطاب کے دوسرے حصے میں اسی نام نہاد طاقتور اسرائیل کی طاقت کا پول کھلا ہوا ہے، جس میں اسرائیلی وزیر اعظم نے ایران کی جانب سے فلسطین کے عوام کے لئے جاری مدد و نصرت کا اعتراف کیا او ر اسے غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی شکست تسلیم کیا ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں