الذوالفقار کے کارکنان کو قومی دھارے میں لایا جاسکتا ہے تو کالعدم تنظیموں کو کیوں نہیں: سینیٹرسراج الحق

 الذوالفقار کے کارکنان کو قومی دھارے میں لایا جاسکتا ہے تو کالعدم تنظیموں کو ...
 الذوالفقار کے کارکنان کو قومی دھارے میں لایا جاسکتا ہے تو کالعدم تنظیموں کو کیوں نہیں: سینیٹرسراج الحق

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے کہا ہے کہ الذوالفقار کے کارکنان کو قومی دھارے میں لایا جاسکتا ہے تو کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کو کیوں نہیں؟  الذوالفقار  والے  لوگ سیاسی لیڈر بن  کر پارلیمینٹ میں آگئے اوران کو پوزیشن  مل گئی، اگریہ جائز تھا تو آج بھی  ایسے تمام عناصر کو قومی دھارے میں لائیں، کوئی  مجرم ہے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ عدالت کرے گی، جب بھی کوئی کشیدگی  پیدا ہوتی ہے تمام تر ادارے کسی مدرسے اور مسجد پر حملہ آور  ہو جاتے ہیں،پاک انڈیا کے درمیان اصل تنازعہ  کشمیر ہے، جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا دوبارہ کشیدگی پیدا  ہوگی۔

سرکاری چینل ’’پی ٹی وی‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے سینیٹرسراج الحق      نے کہا ہے کہ قومی مفاد میں پاکستان کی خاطر ہمیشہ اپوزیشن نے حکومت کا ساتھ دیا ہے ، نواز شریف کے دور میں آرمی پبلک سکول پر جب حملہ ہوا تو اس وقت بھی ساری  اپوزیشن اکٹھی تھی  اور حکومت کے اجلاس میں شریک رہی، آج بھی انڈیا کی طرف سے جب جارحیت ہوئی تو ساری اپوزیشن  نے اپنے تمام  تر سیاسی اختلافات کو  ایک طرف رکھ کر اجلاس میں شرکت کی،سب نے بھرپور  عزم پرجوش ، اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا اور آج تک وہ یکجہتی برقرار ہے،البتہ  یہ ضرور ہے کہ اس اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھنا آگے لے جانا اس کا زیادہ تر انحصار حکومت ہی پر ہے۔ انہوں نے  کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں نے نیشنل ایکشن  پلان پر  مکمل اتفاق کیا تھا لیکن اب پھر حکومت سامنے آتی بھی نہیں صاف چھپتی بھی نہیں،کبھی تیزی  دکھاتی ہے کبھی سستی کا مظاہرہ کرتی ہے لیکن امن کے قیام کیلئے ہر قدم پر پوری قوم ساتھ ہے،اس لئے کہ ایک پرامن پاکستان نہ صرف پاکستانیوں کی ضرورت ہے  بلکہ عالم اسلام اور پوری  انسانیت کی ضرور ہے،البتہ نیشنل ایکشن پلان کا یہ حصہ  کہ جب بھی کوئی کشیدگی  پیدا ہوتی ہے تمام تر ادارے کسی مدرسے اور مسجد پر حملہ آور  ہو جاتے ہیں اور دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہماری تمام تر مشکلات اور مصیبتیں اس مدرسے یا اس مسجد کی وجہ سے ہیں اس طرح اپنی مساجد یا مدارس کو بدنام کرنا  حکمرانوں کے  لئے مناسب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان  کی ایک جامع دستاویز ہے، اس میں صرف مدرسے   مسجد کی بات نہیں ہے، اس میں بنیادی طورپر یہی ہے  کہ جہاں جو تنظیم یا فرد  اسلحہ استعمال کرتا ہے یا جو کام ریاست اور حکومت کا ہے وہ خود کرنے لگ جاتا ہے اس پر پابندی ہونی چاہیے ،اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اپنے  مفادات کے تناظر میں  فیصلے اور کارروائی کرنی چاہیے ،صرف اس کو مدنظر رکھنا کہ وہ کونسا  عمل ہے جس کے نتیجے میں ہم  امریکہ کو مطمئن کرلیں یا انڈیا مطمئن  ہو جائے ہرگزملکی مفاد نہیں ہے، قرآن کریم کا واضح پیغام ہے کہ یہود  اور ان کے دوست  کبھی آپ سے راضی نہیں ہوں گے،جنگ کا فیصلہ ریاست  اور حکومت کا کام ہے،کسی فرد یا تنظیم کا کام نہیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی  کم کرانے کیلئے سعودی عرب  کے کردار کی تعریف کرتا ہوں،دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اگر کسی خراب صورتحال  سے دوچار ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف  ہندوستان اور پاکستان پر پڑیں گے  بلکہ جنوبی ایشیاء  اس کی لپیٹ میں آئے گا اس لئے بجا طورپر بہت سے ممالک  نے کشیدگی  کم کرنے میں دلچسپی  دکھائی ہے، تاہم میں یہ ضرور کہوں گا کہ  یہ سارے اقدامات عارضی ہیں اس لئے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جو اصل تنازعہ ہے وہ تو کشمیر ہے ،جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا  تو ایک دن ایک مہینہ یا ایک سال امن رہا تو اگلے سال دوبارہ کشیدگی پیدا  ہوگی،اس لئے ہر صورت دنیا   بالخصوص اقوام متحدہ کو آگے بڑھ کر اپنی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہیے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ نریندر مودی  اس وقت شدید مشکل اور دبائو سے دو چار ہیں ایک وجہ تو یہ ہے کہ  اس کے تمام اقدامات ناکام ہوگئے  اور پھر  ایکسپوز ہوگئے پھر ان کی سیاست  اس وقت تقسیم ہے ۔ پاکستان میں اپوزیشن  اور حکومت بالکل  ایک پیج پر ہے۔  فوج اور قوم ایک پیج پر ہے جبکہ انڈیا میں ایسا نہیں  ہے۔84 ہزار 471 مربع کلو میٹر کشمیر ہے  یہ رقبہ کے لحاظ سے  دنیا کے 140 ممالک سے بڑا ہے  اور اس کے چاروں  طرف جو صورتحال ہے۔ ایٹمی طاقتیں  ہیں ایک طرف روس ، چائینہ ، انڈیا اور پاکستان  ہے جب تک یہ  مسئلہ حل   نہیں  ہوتا دنیا پرامن نہیں ہوسکتی، اس وقت 28  ہزار مربع کلو میٹر  گلگت بلتستان  کے آزاد خطے کی صورت میں پاکستان کے ساتھ ہے اور 4 ہزار مربع کلو میٹر علاقہ آزاد کشمیر کی صورت میں  ہے،باقی سارا علاقہ انڈیا نے زور جبر  اور اسلحہ کی بنیاد پر قبضہ کررکھا ہےلیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ہے 71 سال گزرنے کے باوجود بھی ایک لمحہ کیلئے کشمیر قوم نے اس غلامی کو قبول نہیں کیا ہے،مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ  عرصے میں 600 سے زیادہ  جماعت اسلامی کے ارکان کو شہید کیا گیا ہے ،ابھی  جماعت اسلامی وہاں یتیم خانے  تعلیمی ادارے چل رہی ہے،فلاح وبہبود کا کام کررہی ہے، انڈیا نے ان تمام تعلیمی اداروں کو بند کیا ہے،سید علی گیلانی  ، بشیر شاہ  ،ملک یاسین ، ڈاکٹر حمید فیاض کو بند کررکھا ہے،حتیٰ آسیہ اندرابی اور ان کے شوہر ڈاکٹر عاشق حسین  31سال  سے پابند سلاسل ہیں،یہ قوم اتنی قربانی  دے رہی ہے،اس  سب کچھ کے باوجود بھی مرتے وقت  ہر نوجوان اعلان کرتا ہے کہ میں پاکستانی ہوں اور پاکستان ہمارا ہے،دنیا کی کوئی طاقت ہے اس قوم کو نہیں دبا سکے گی ۔

انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی نے یہ صحیح کہا ہے کہ اگر انڈیا نے جماعت اسلامی پر پابندی لگائی تو  آپ کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اس لئے کہ جماعت اسلامی ایک نظریہ ایک سوچ ہے ۔  آپ نظریے کو قتل نہیں  کرسکتے۔ آپ روشنی کو گرفتار نہیں  کرسکتے ۔ آپ خوشبو  کو پابند نہیں کرسکتے اس لئے جماعت اسلامی یہ پابندی لگنے کے بعد ہر نوجوان بہن بھائی کے دل میں جماعت اسلامی کیلئے ایک مرکز بن گیا ہے۔  آج سینیٹ نے بھی جماعت اسلامی پر پابندی  کیخلاف قرارداد منظور کی ہے اور پاکستا ن کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی فورم پر اس بات کو اٹھائیں  کیونکہ جماعت اسلامی ایک تنظیم ہے، وہاں قانون کے مطابق کشمیریوں کی ترجمان ہے ،آزادی کیلئے جدوجہد کررہی ہے اس پر پابندی کیوں لگائی گئی ۔

انہوں نے کہاکہ اگر  الذوالفقار کے لوگ سیاسی لیڈر بن  گئے،قومی اسمبلی میں آگئے ان کو پوزیشن  مل گئی اگر اس وقت یہ جائزہ تھا تو آج بھی یہ بہت ضروری ہے کہ ایسے تمام عناصر کو قومی دھارے میں لائیں اگر کوئی  مجرم ہے یا نہیں اس کا فیصلہ عدالت کرے،انڈیا کے اعتراض پر آپ  کسی کو مجرم نہ کہیں،اگر انڈیا نے  کہا ہے کہ حافظ سعید   مجرم ہیں  تو  آپ ایسا   نہ کہیں  کہ کسی عدالت اور کسی شہری نے تو  نہیں کہا اور اگر کسی نے ٹریفک کے کسی قانون کی بھی خلاف ورزی نہیں کی  تو آپ کیسے یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اس لئے خطرناک ہے کہ انڈیا نے اس کو خطرناک سمجھا ہے،انڈیا تو پورے پاکستان کو خطرناک کہہ رہا ہے، ہماری  فوج کو خطرناک کہہ رہا ہے اس لئے یہ مناسب  رویہ نہیں ہے  ہمیں  اپنے فیصلے اپنے مفادات میں کرنے  کی ضرورت ہے، اگر حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہمیں بیٹھنا ہے اور ان تمام لوگوں کو قومی دھارے میں لانا ہے تویہ ایک مثبت رویہ ہے۔انہوں نے کہاکہ جو لوگ حکومت میں ہیں ان کو دل بڑا کرنا چاہیے،دلیل  کی بنیاد  پر بات کرنی چاہیے،قوم  یہ  پسند نہیں کرتی کہ ایوان میں ایک دوسرے کے لئے گالیوں کا استعمال   گھونسوں اور مکوں کا استعمال ہو ، لوگ دلیل سے بات سننا چاہتے ہیں عام آدمی یہی  سوچتا ہے کہ ان ایوانوں میں میرے لئے کیا فیصلہ ہوتا ہے۔

مزید : قومی