امریکہ کی ’’پرائیویٹ ڈپلومیسی‘‘ کے بعد؟

امریکہ کی ’’پرائیویٹ ڈپلومیسی‘‘ کے بعد؟

امریکہ نے پاک بھارت کشیدگی میں کمی کے لئے ’’پرائیویٹ ڈپلومیسی‘‘ کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے رابطوں کے بعد پاک بھارت کشیدگی میں کمی ہوئی ہے۔ پاکستان اور بھارت میں امریکی سفارت خانے دونوں ممالک سے رابطے میں ہیں۔ محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان رابرٹ پلاڈنیو نے کہا کہ دونوں ممالک کو کشیدگی کم کرنے کے لئے براہِ راست رابطوں کا سلسلہ بھی شروع کرنا چاہئے،دونوں ممالک میں کوئی بھی فوجی کارروائی بگاڑ کا سبب بنے گی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ کشیدگی میں کمی کے لئے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بروقت اور درست فیصلوں سے جنگ کا خطرہ ٹل گیا،کشیدگی پہلے سے کم،لیکن خطرہ اب بھی برقرار ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی فیصلہ عالمی دباؤ کے پیشِ نظر نہیں کیا جا رہا، کالعدم تنظیموں پر پابندی مُلک کا اندرونی معاملہ ہے۔ دُنیا پر واضح کر چکے ہیں کہ وہ فیصلہ کریں گے، جو ملکی مفاد میں ہو گا۔وزیراعظم نے اِن خیالات کا اظہار حکمران اور اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔

یہ درست ہے کہ امریکہ اور دوسری عالمی طاقتوں کی کوششوں اور بقول وزیراعظم بروقت اور درست فیصلوں سے بھارت کے ساتھ کشیدگی میں کمی آئی ہے،لیکن ہمسایہ مُلک کو اپنے جوشِ جنون کے ہاتھوں جو خفت اُٹھانا پڑی، خصوصاً ائر فورس کے دو طیاروں کو گرانے اور ایک پائلٹ کی گرفتاری (بعدازاں رہائی) سے عالمی طاقتوں کے سامنے جس طرح کی سُبکی کا سامنا کرنا پڑا اسی کا نتیجہ ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ میں فرانسیسی رافیل طیاروں کی خریداری کے معاملے پر بحث ہو رہی ہے، جس کی خفیہ دستاویزات چوری ہو گئی ہیں اور بھارتی حکومت کی جانب سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ رافیل طیاروں کے بغیر پاکستان کا مقابلہ مشکل ہے، جبکہ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اگر معاملہ کرپشن کا ہو تو کیا ثبوت نہ دیکھیں،اپوزیشن جماعت کانگرس نے اِن طیاروں کی خریداری میں کرپشن کا معاملہ بڑی شدت سے اُٹھارکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک اس سودے کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی۔

بھارت طویل عرصے سے اپنے ہاں اسلحے کی انبار لگاتا رہا ہے اور دُنیا بھر میں اس کا شمار سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والے ممالک میں ہوتا ہے،لیکن ابھی جنگ شروع ہی نہیں ہوئی اور پاکستان کی فضائی حدود کی ایک ہی بار خلاف ورزی کا خمیازہ اسے جس شکل میں بھگتنا پڑا ہے اس نے سارا بھارتی غرور خاک میں ملا دیا ہے اور پندار کا صنم کدہ ویرن کر دیا ہے اب اگر رافیل طیارے خریدے جاتے ہیں تو اربوں ڈالر کے اس سودے میں صنعت کار امبانی سمیت کون کون ہاتھ رنگے گا یہ تو بھارت کی حکومت جانے یا اس کی اپوزیشن،لیکن کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ بھارت اپنے تمام تر وسائل اسلحے کی بھٹیوں میں جھونکنے کی بجائے اپنے عوام کی حالت بہتر بنانے پر بھی توجہ دے، جہاں 50فیصد سے زیادہ آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور کروڑوں لوگوں کو پوری خوراک میسر ہے نہ پورا لباس، ممبئی کے فٹ پاتھ گواہ ہیں کہ کروڑوں لوگ محض دھوتی اور بنیان میں فٹ پاتھوں پر زندگیاں گزار کر اگلے جہان پدھار جاتے ہیں۔خطے میں اسلحے کی اِسی دوڑ کا نتیجہ ہے کہ ہر قسم کے وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود یہاں غربت نے مضبوطی سے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر ہی بنیادی وج�ۂ نزاع ہے، یہ کوئی زمین کے ٹکڑے کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ کروڑوں کشمیریوں کی آزادی کا معاملہ ہے جو صرف یہ حق مانگ رہے ہیں کہ اُنہیں اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے،جس کے لئے بھارت تیار نہیں ہو رہا اور اسی ایک حق کو دبانے کے لئے اس نے اسلحے کی بھٹیاں دہکا رکھی ہیں،جن سے نہ تو پاکستان کو دبایا جا سکتا ہے اور نہ ہی کشمیریوں کا حقِ خود ارادیت چھینا جا سکتا ہے اِس لئے کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ بھارت امریکہ کی بات مان کر ہی کشیدگی میں کمی پر آمادہ ہو جائے اور اب بھی اشتعال انگیزیوں سے باز آ جائے،اس مرتبہ تو امریکہ کی پرائیویٹ ڈپلومیسی کام دکھا گئی ہے اور بلاشبہ مائیک پومپیو کی سفارتی مہارتوں کو اس عرصے میں انتہائی بلندی پر دیکھا گیا،لیکن محض امریکی کاوشیں کب تک جنگ کو روکے رکھیں گی، یہ تو خود دونوں ممالک کا اپنا فیصلہ ہے کہ وہ مسلسل لڑتے رہنا چاہتے ہیں یا پھر اپنے عوام کی زندگیوں کو بدلنے کے لئے بھی کچھ کرنا چاہتے ہیں،اس کے لئے بہترین طرزِ عمل تو یہ ہو گا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ بات چیت پر نہ صرف آمادہ ہو،بلکہ مسئلہ کشمیرر سمیت تمام حل طلب مسائل پر مذاکرات کا آغاز کرے۔یہی ایک راستہ ہے جس پر چل کر نہ صرف جنگ کو مستقل طور پر روکا جا سکتا ہے،بلکہ آئندہ کے لئے بہتر تعلقات کی راہ بھی نکالی جا سکتی ہے۔

مسئلہ کشمیر کے حل میں جتنی تاخیر ہو گی معاملات اتنے ہی گھمبیر ہوتے چلے جائیں گے،اِس لئے اس سوچ کو خیر باد کہنا ہو گا کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ معاملہ خودبخود دب جائے گا اور تعلقات معمول پر آ جائیں گے۔ستر سال میں یہ بات بار بار ثابت ہو چکی ہے کہ یہ مسئلہ نہ تو ختم ہو سکتا ہے نہ اس سے صرفِ نظر کر کے آگے بڑھا جا سکتا ہے، بھارت نے کشمیر میں قوت کا بے محابا استعمال کر کے بھی دیکھ لیا، نہتے کشمیریوں کی تحریک مزاحمت نے اس کی سینا کے چھکے چھڑا دیئے ہیں،اِس لئے عقل و دانش کا تقاضا تو یہی ہے کہ خطے کے اربوں لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لئے جنگ کا ماحول ختم کیا جائے اور امن کی بات کی جائے، تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔اگر بھارتی قیادت نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو عمران خان کے ’’درست اور بروقت‘‘ فیصلے بھی مستقل طور پرکشیدگی میں خاطر خواہ کمی نہیں کر سکیں گے۔

مزید : رائے /اداریہ