پولٹری فیڈ کی گندم کا آٹا، کھلی منڈی میں فروخت

پولٹری فیڈ کی گندم کا آٹا، کھلی منڈی میں فروخت

پاکستان میں منافع حاصل کرنے کے لئے کیسے کیسے طریقے اختیار کئے جاتے ہیں،اِس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے، جب کوئی الگ ہی نوعیت کا کیس سامنے آئے۔ راولپنڈی ڈویژن میں محکمہ خوراک نے دو فلور ملوں کو غیر قانونی طور پرآٹا پیسنے کی وجہ سے سربمہر کیا ہے۔ مل مالکان نے اس پر احتجاج کیا اور کہا ہے کہ نوٹس دیئے بغیر مل سربمہر کرنا غیرقانونی اور زیادتی ہے۔اِن ملوں کو اِس لئے بند کیا گیا کہ پاسکو کی طرف سے پولٹری کی صنعت کے لئے رعایتی نرخوں پر گندم مہیا کی گئی کہ خوراک کے حوالے سے شہریوں کو صحت مند اور اچھے نرخوں پر مرغی کا گوشت میسر ہو،لیکن یہ گندم مرغیوں کے فیڈ کے لئے استعمال کرنے کی بجائے اُن ملوں میں پہنچائی گئی اور یہاں اِس کو پیس کر آٹا بازار میں فروخت کیا جا رہا تھا۔یوں شہریوں کے فائدے کے لئے دی جانے والی رعایت کو غیر قانونی طور پر منافع کے لئے استعمال کیا جا رہا تھا۔یہ اللہ ہی کا کرم ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے ملک میں گندم کی فصل بہتر ہو رہی ہے اور سرکاری گوداموں میں محفوظ ذخائر سے کہیں زیادہ گندم موجود ہے اس گندم کو فلور ملز کے مطالبے پر برآمد کرنے کی بھی اجازت دی جاتی رہی ہے، حال ہی میں پانچ سے دس لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ فلور مل مالکان یہ مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں کہ محکمہ ان کو گندم مہیا کرے اور یہ اجازت بھی دے کہ اسے پیس کر آٹا برآمد کیا جائے۔ آٹے کا بڑا گاہک افغانستان ہے جہاں آٹا سمگل ہو کر جاتا ہے۔اِس سلسلے میں تو مذاکرات تاحال کامیاب نہیں ہوئے تاہم یہ انکشاف ہو اکہ جو گندم (تھوڑی پرانی) پولٹری کو فیڈ کے لئے دی جا رہی ہے ،اِسی کو پیس کر آٹا بنایا اور فروخت کیا جا رہا ہے۔یہ واقعی قابلِ اعتراض بات ہے اور منافع کے لالچ میں ایسی گندم کا آٹا عام بازار میں فروخت کرنا انسانی صحت کے لئے بھی مضر ہے،کیونکہ پولٹری فیڈ کے لئے گندم بھی سستے داموں فروخت بھی اسی لئے کی جا رہی ہے کہ انسانوں کے لئے اس کے مفید ہونے پر شبہ ہے۔ ملز مالکان کا یہ فعل اپنی جگہ پولٹری فیڈ بنانے والے بھی اس میں برابر کے شریک ہیں اور کارروائی سب کے خلاف ہونی چاہئے۔ تاہم پاسکو اور محکمہ زراعت کو فلور ملز مالکان کی جائز بات کو بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ گندم برآمد کرنے کی بجائے ان کو مہیا کی جائے تاکہ وہ آٹا بنا کر برآمد کریں اور آٹے کی سمگلنگ کا بھی خاتمہ ہو، پاسکو اور محکمہ خوراک کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ تاہم اگر کوئی تحفظات ہیں تو مذاکرات سے دور کئے اور معاملے کو حل کیا جائے۔ پاسکو کو تو ہر حال میں فاضل گندم فروخت کرنی ہے وہ چاہے برآمد ہو یا اس کا آٹا بنا کر برآمد کیا جائے۔ گندم بھی تو ٹنڈر کے بعد فلور مل والے ہی خرید کر برآمد کرتے ہیں۔حکومت کو چاہئے کہ اس پورے مسئلہ پر تفصیل سے بحث اور مذاکرات کر کے فیصلہ کرے جو ملکی اور عوامی مفاد میں ہو۔

مزید : رائے /اداریہ