خواتین کا عالمی دن

خواتین کا عالمی دن
خواتین کا عالمی دن

  

آج8مارچ ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے آج کے روز کو خواتین کے عالمی دن کا درجہ دیا گیا۔خواتین کے نام پر کام کرنے والی تنظیمیں جلسے جلوس کریں گی۔ سیاسی جماعتیں بھی اخبارات اور چینلوں پر بیانات دے کر اپنا حصہ ڈالیں گی۔

دن گزر جائے گا اور صورت حال وہیں کی وہیں رہے گی۔خواتین جن مسائل کا شکار ہیں، وہ شکار ہی رہیں گی۔ انہیں در پیش مسائل کا دائمی حل تلاش کیا جاے گا،نہ ہی انہیں مسائل سے چھٹکارا دلانے کی سنجیدہ کوشش کی جاتی ہے۔

خواتین دھکے ہی کھاتی رہتی ہیں۔کوئی بیوہ ہیں،کوئی شادی شدہ ہیں،گھریلو ناچاقی کی وجہ سے شوہر سے علیحدہ کر دیا ہے، بچوں کو خرچہ نہیں ادا کرتے ہیں اور نہ ہی ضروریات کے دیگر اخراجات دیتے ہیں۔ ناچاقی کی وجہ کچھ ہی کیوں نہ ہو، جس خاتون سے شادی کی گئی ہے، اس کا خرچہ تو شوہر کو ہی برداشت کرنا چاہئے۔ ایسی خواتین ایک وقت کی روٹی کی محتاج ہوتی ہیں۔ ان کی مدد کرنے والے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ بعض لوگ تو دل کھول کر مدد کرتے ہیں، اگر خواتین ان کے رابطے میں آ جائیں،لیکن یہ تو مسائل کا دائمی حل نہیں ہے۔

تھر پارکر کے علاقے اسلام کوٹ میں رہائش رکھنے والی ایک خاتون ’’ح خ ‘‘ حیدرآباد آئیں اور امداد کے لئے پریس کلب سے رجوع کیا۔لوگوں نے انفرادی طور پر ان کی مدد تو کر دی،لیکن بچوں کی روٹی کا مستقل بندوبست تو نہیں ہوا۔ یہ تعلیم یافتہ خاتون ہیں،جن کے شوہر نے دوسری شادی کر لی ہے اور انہیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔ اس شوہر سے ان کے بچے بھی ہیں۔

وہ کرایہ کے ایک کمرے میں ان بچوں کے ساتھ سر چھپا کر بیٹھی ہوئی ہیں۔ جب بھوک نے پریشان کیا تو حیدرآباد پہنچ گئیں۔ انہیں سردست یہ پریشانی لاحق ہے کہ کسی شخص نے انہیں راشن دلایا تھا،اب وہ رقم کا تقاضہ کرتا ہے۔ سترہ ہزار روپے کی رقم کہاں سے ادا ہو، ان کے پاس تو ایک وقت کے لئے کھانے کو کچھ نہیں ہے۔

اول تو سیاسی جماعتوں کو خواتین کو درپیش اس قسم کے مسائل کے حل کے لئے ا پنی خواتین نمائندے نامزد کرنا چاہئیں، جو خلوص اور ایمانداری کے ساتھ خواتین کی مدد کر سکیں۔

اسی طرح تمام ہی غیر سرکاری تنظیموں کو ضرورت مند خواتین کی داد رسی کرنے کے لئے حکمت عملی تیار کرنا چاہئے۔ بعض غیر سرکاری فلاحی ادارے خواتین اور ضرورت مندوں میں ہر ماہ راشن فراہم کرتے تھے ، وہ اس وجہ سے بند ہوگئے کہ حکومت نے کالعدم غیر سرکاری تنظیموں کو کام کرنے ہی سے روک دیا ہے۔

تھر پارکر میں فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور دیگر تنظیموں کے دفاتر وغیرہ کو حکومت کے فیصلے کی روشنی میں سرکاری اہل کاروں نے اپنے کنٹرول میں تو لے لیا ہے، لیکن ان کے کام کو جاری رکھنے کی کوئی حکمت عملی ہی تیار نہیں کی گئی ہے۔ اس وجہ سے بھی ضرورت مند افراد خصوصاً خواتین مشکل کا شکار ہو گئی ہیں۔

وفاقی اور صوبائی حکومتیں جہاں دیگر مسائل سے نمٹ رہی ہیں، وہاں ضروری ہے کہ چاروں صوبوں اور اضلاع میں وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے بااختیار نمائندے موجود ہوں ، جن کی ذمہ داری ہی ایسی خواتین کی فوری طور پر داد رسی کرنا ہو۔ خواتین سے تعلق رکھنے والے دفاتر تو موجود ہیں،لیکن پاکستان میں سرکاری دفاتر میں کام کرنے کی رفتار انتہائی سست ہوتی ہے۔

کو ئی روٹی کو ترس رہا ہو، اور دفاتر میں کاغذ ایک ٹیبل سے دوسری اور ایک دفتر سے دوسرے دفتر میں گھمایا جا رہا ہو تو ایسی داد رسی سے کیا فائدہ؟ وزیراعظم عمران خان کے قائم کردہ شکایتی سیل ’پاکستان سٹیزن پو رٹل‘ تک ان لوگوں کو تو رسائی حاصل نہیں ہے، جن کے پاس کمپیوٹر کی سہولت نہیں ہے اور جو تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو موقع ملنا چاہئے کہ اپنی درخواست ایو انِ وزیراعظم روانہ کریں جہاں ان درخواستوں پر بلا تاخیر غور کیا جانا چاہئے۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے خواتین کی مدد ضرور کی جاتی ہے ،لیکن اس کا طریقہ کار بھی دھکے کھلانے کے سوا کچھ اور نہیں۔اس میں دوسری کوتاہی یہ ہے کہ سارے علاقوں میں مخصوص علاقوں کی سفارشی خواتین کو چن لیا گیا ہے۔ ابتداء میں تو کار خیر کے اس کام میں بھی بدعنوانیاں عروج پر تھیں ۔ بعد میں خواتین کو بنکوں کے ذریعہ پیسے دئے جانے لگے۔

اس میں بھی ذمہ دار لوگوں نے بدعنوانیوں کے ر استے تلاش کر لئے۔ بدعنوانی سے پیسہ کمانے کی وباء اس حد تک خون میں رچ بس گئی ہے کہ لوگ یہ بھی نہیں سوچتے کہ وہ کس قسم کا پیسہ کھا رہے ہیں۔ خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کی جدوجہد اس لحاظ سے اہم ہے کہ پاکستان میں خواتین کو بیک وقت مختلف قسم کے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

عدالتوں میں انسانی حقوق کے لئے درخواستوں پر فوری غور نہیں کیا جاتا۔ ہر قسم کی سفارش سے محروم خواتین کی تو بات ہی مختلف ہے۔ ان کی ضرورتوں اور مسائل کے بارے میں کوئی سنتا ہی نہیں ہے۔

سرکاری اداروں میں وفاقی حکومت کے تحت بیت المال بھی موجود ہے ۔ ضرورت کی طلب گار تمام خواتین کو اس تک رسائی حاصل نہیں ہے، جس انسان کو آج روٹی کی ضرورت ہو تو وہ بیت المال کے حکام سے رابطہ ہی کرنے میں پھنس جاتا ہے۔ کوئی ایسا انتظام نہیں ہوتا کہ فوری داد رسی کی جا سکے۔

بیت المال کو چاہئے کہ تمام اضلاع میں مخیر حضرات کی فہرست تیار کریں تاکہ مخیر افراد سے شدید ضرورت مند خواتین کی فوری مدد کرائی جاسکے جب تک کہ سرکاری کارروائی مکمل ہو۔ ضرورت مندوں کو داد رسی کی فوری طور پر ضرورت ہوتی ہے اور اسی پر سب کو ہی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جلسے جلوس اور اخباری بیانات اپنی جگہ اہم ضرور ہیں، لیکن ان سے پیٹ نہیں بھرتا ۔ اصل بات باعزت طریقے سے پیٹ بھرنا ہے۔

مزید : رائے /کالم