کچھ تو تھا جس کی پردہ داری تھی!

کچھ تو تھا جس کی پردہ داری تھی!
کچھ تو تھا جس کی پردہ داری تھی!

  

جب 26 فروری کو انڈین ایئر فورس نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بالا کوٹ پر بمباری کی تھی تو میرے ذہن میں جو پہلا سوال ابھرا تھا وہ یہ تھا کہ 14 فروری کو پلواما پر حملے کو تو 12 دن گزر چکے ہیں، اب دو ہفتوں کے بعد انڈیا کو کیوں معلوم ہوا ہے کہ CPRF کی کانوائی پر جیش محمد کی ’’ایماء‘‘ پر حملہ کیا گیا تھا۔

میں نے اس روز اپنے کالم میں یہ عرض کیا تھا کہ انڈیا کی یہ جرأت نہیں کہ وہ لائن آف کنٹرول عبور کرے اور اپنی ننگی جارحیت کا ثبوت دے۔ اس کی پشت پر یقیناایک بڑی طاقت ہے اور وہ طاقت امریکہ ہے۔ ان 12 دنوں (14 فروری تا 26 فروری) امریکہ نے اپنے ان سیاروں کی تصاویر کا مطالعہ کیا ہوگا اور اس مطالعے کی بناء پر اس نتیجے پر پہنچا ہوگا کہ پلواما کے حملے اور بالا کوٹ کے جیش محمد کے ہیڈ کوارٹر میں کوئی نہ کوئی لنک موجود ہے۔

آپ کو خوب معلوم ہے کہ CIA انڈو پاک فلیش پوائنٹ کی مانیٹرنگ میں کسی تساہل سے کام نہیں لیتی۔ جہاں تک میں سمجھا ہوں، شمالی کوریا کے بعد انڈوپاک جوہری جنگ کا دوسرا اہم فلیش پوائنٹ کشمیر ہے شمالی کوریا میں بھی اصل مسئلہ تیسری عالمی جنگ کا ہے اور کشمیر کا یہ مسئلہ بھی اپنے اندر تیسری عالمی جنگ کے جراثیم رکھتا ہے اور گزشتہ ہفتے تو دنیا کو معلوم ہوچکا ہے کہ کشمیر، شمالی کوریا سے بھی زیادہ بڑا اور خطرناک فلیش پوائنٹ ہے۔

امریکہ کی شہ پا کر انڈیا نے پاکستانی سرحدی حدود کی جو خلاف ورزی کی وہ اس کی حد درجہ اندھا دھند (Reckless) اپروچ کی غماز تھی۔ انڈیا کا (اور امریکہ کا بھی) خیال یہ تھا کہ اگرچہ بالا کوٹ میں جیش محمد کا ایک ذیلی ہیڈ کوارٹر موجود ہے لیکن پاکستان اس جارحانہ ایکشن کو پی جائے گا۔

لیکن یہی انڈیا کی بلنڈر تھی جس نے دنیا کو قیامت کے دہانے پر پہنچا دیا تھا اور جب 27 فروری کو پاکستان نے انڈیا (اور امریکہ) کو یہ باور کروایا کہ نہ صرف پاک افواج بلکہ ساری پاکستانی قوم جاگ رہی ہے اور جوابی وار کرنے کی اہل ہے تو سب کے سر گریبان میں چلے گئے۔

تاہم جس چیز نے مجھے انڈیا کی سیاسی اور عسکری لیڈر شپ کے ذہنی افلاس کا ثبوت دیا وہ 27 فروری کے پاکستانی ردعمل کے بعد اس کی لیڈر شپ کے اگلے اقدامات تھے۔

مثلاً اس نے اپنی فضائیہ کو پاکستانی ریسپانس کے بعد کسی فوری جوابی رسپانس سے تو اگرچہ باز رکھا لیکن گراؤنڈ اور نیول فورسز کو سٹینڈ ڈاؤن کرنے کی بجائے بین الاقوامی سرحدوں کے مزید قریب لا کر صف بند کر دیا۔ سیالکوٹ سے شروع کریں تو سرکریک تک کے انڈو پاک بارڈر پر بہاولپور کا علاقہ انڈین آرمر کی جولانگاہ کے لئے موزوں ترین علاقہ ہے اس کے علاوہ پاکستان کا ساحلی علاقہ ہے جو گوادر سے لے کر کراچی تک پھیلا ہوا ہے۔

اس میں انڈیا نے اپنی بحریہ کو جنگی ٹاسک دے دیئے، لیکن ان دونوں محاذوں (زمینی اور سمندری) پر ایک بار پھر افواج پاکستان نے اپنی بیداری کا ثبوت دیا۔ کلواری (Kalvari) کلاس کی وہ انڈین آبدوز جس کو اگلے روز ہماری بحریہ نے اپنی سمندری حدود میں داخل ہونے سے پہلے ’پکڑ‘ لیا اس امر کی مزید تصدیق تھی کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا فی الفور توڑ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔۔۔ ان حقائق کا شعور لاریب انڈیا کو نہیں تھا اور جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے (یا اس کے ساتھ اسرائیل کا بھی) تو وہ شائد یہ معلوم کرنے کی کوشش میں تھا کہ انڈین جارحانہ اقدامات کے جواب میں پاکستان کے مدافعانہ اقدامات کس سکیل کے ہیں۔ پاک بحریہ کے P-3C اورین طیارے نے کلواری کلاس (جو قبل ازیں سندھو گوش اور اس سے بھی پہلے سکارپین کلاس کہلاتی تھی) کی اس آبدوز کا بروقت سراغ لگایا، اپنے خصوصی اقتصادی زون (EEZ) میں اس کو رجسٹر کیا اور اس کا وہ ثبوت فراہم کیا، جو بین الاقوامی روایات میں تسلیم کیا جاتا ہے لیکن پاکستان ملٹری کی طرف سے یہ سارے اقدامات مدافعانہ (Defensive) رہے۔ جوابِ جارحیت کی اہلیت تھی، لیکن ہم نے یہ آپشن بوجوہ استعمال نہ کی۔

دوسری طرف ہمارے سیاسی اکابرین نے بھی بروقت انڈیا کو یہ پیغام پہنچایا کہ مسئلہ کشمیر کے سوال پر کوئی اپوزیشن اور کوئی حکومتی پارٹی نہیں، سب ایک ہیں۔ ہمارے میڈیا اور انڈین میڈیا کا فرق دیکھنا ہو تو یہ دیکھئے کہ گلوبل میڈیا نے پاکستانی میڈیا پر اعتبار کیا اور انڈین میڈیا پر نہ صرف اعتبار نہ کیا، بلکہ اس کے استدلال کے بر عکس پاکستانی موقف کو سراہا اور اس کی تائید کی۔۔۔ یہ ایک نئی انہونی تھی!۔۔۔

جو بات میں قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ انڈیا نے تو اپنے شعور کے فقدان (Recklessness) کا ثبوت دے دیا تھا اور نہ صرف اس خطے کو بلکہ ساری دنیا کو جوہری قیامت کے دہانے پر پہنچا دیا تھا، لیکن ہمیں پھر بھی امریکہ کی اہمیت کا احساس کرنا چاہئے۔۔۔ اس نے اس جنگ کی ہلہ شیری کا آغاز کیا تھا تو اسی نے اس کے انجام کی طرف جانے کی راہیں اور راستے بھی کھول دیئے مستقبل یہ بتائے گا کہ اس سٹینڈ آف کو ہولناک جنگ میں تبدیل کرنے کے آگے امریکہ نے کس طرح بند باندھا۔

وہ پہلے بھی 1962ء کے کیوبا بحران میں یہی کچھ کر چکا تھا اور اس سے بھی پہلے 1950-53ء کی کوریا وار میں اپنے جنرل میکارتھر کی بار بار سفارش پر اپنے اس ’’عقاب جنرل‘‘ کو سیک کر چکا تھا۔ اس کی سفارش یہ تھی کہ اگر 1951ء میں 8 ویں امریکن آرمی کو بچانا ہے تو چین کی PLA (پیپلز لبریشن آرمی) کے خلاف جوہری حملہ کر دینا چاہئے۔۔۔ کوئی مانے یا نہ مانے، امریکہ نے گزشتہ ہفتے اپنی بیک ڈور سفارت کاری کے ذریعے اس قیامت کو بھی فی الحال روک دیا ہے جس کو اس نے خود ہی شروع کرنے کا اشارہ دیا تھا اور اس سے بھی بڑا کریڈٹ پاکستان کی موجودہ حکومت (اور پاکستانی قوم) کو دیا جانا چاہئے جس نے یکے بعد دیگرے ایسے کئی اقدامات کئے جو اس پاک بھارت سٹینڈ آف کوسٹینڈ ڈاؤن کی طرف لے گئے اور لے جا رہے ہیں۔

یکم مارچ کو جب بھارتی حملے کا خطرہ تھا اور پاکستان نے اپنے گھوڑوں کی کاٹھیوں پر زین کس لی تھی تو اس سے اگلے روز حکومت نے ’’اچانک‘‘ جیش محمد کے ہیڈ کوارٹر اور ایک بڑی مسجد کو (بہاولپور میں) اپنی تحویل میں لے لیا۔ میرا خیال اس وقت بھی یہی تھا کہ حکومت کے اس کریک ڈاؤن کا تعلق، پلواما حملے اور موجودہ سٹینڈ آف کے ساتھ بہت گہرا ہے اور اب جوں جوں دن گزرتے جا رہے ہیں میرا یہ ’’خیال‘‘ مزید پختہ ہوتا جا رہا ہے۔

آج (7 مارچ بروز جمعرات) کے ایک پاکستانی انگریزی معاصر (ڈان) کو دیکھئے۔۔۔ اس کے صفحہ اول پر دو تصویریں چھپی ہوئی ہیں۔ ایک تصویر ایک سکول کے شٹر کی ہے جس کو باقاعدہ سربمہر دکھایا گیا ہے اور اس کے نیچے جو کیپشن لگا ہوا ہے وہ یہ ہے: ’’آئی۔8 اسلام آباد کے ایک تعلیمی ادارے کے گیٹ کو سیل کر دیا گیا ہے۔‘‘ ۔۔۔اور اس تصویر کے پہلو میں ایک دوسری تصویر بھی ہے جس میں ایک مسجد (مسجد قبہ) کے داخلی دروازے پر پولیس کا ایک سپاہی کھڑا ہے۔

مسجد کے درو بام نمایاں ہیں اور کسی کو کوئی شک نہیں ہو سکتا کہ یہ مسجد نہیں، کوئی اور عمارت ہے۔ ان تصویروں کے عنوانات میں یہ ذکر بالخصوص کیا گیا ہے کہ یہ دونوں عمارتیں (مدرسہ اور مسجد) جماعت الدعوہ کی زیر نگرانی چل رہی تھیں جن کو حکومت نے اب اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔۔۔ اسی اخبار کی شہ سرخی ہے کہ ’’امریکی سفارتکاری کے طفیل جنگ ٹل گئی ہے اور جنگ کے اس ٹالے جانے کے عمل میں چین، روس اور سعودی عرب نے بھی جنگ کی صورتِ حال کو مدھم (Defuse) کرنے میں ایک اہم رول ادا کیا ہے۔‘‘

اس خبر کی تفصیلات جو مختلف اخباروں میں چھپ کر آج سامنے آئی ہیں وہ یہ ہیں کہ وزیر اعظم پاکستان نے کہا ہے کہ جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے جبکہ ان کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین مقننہ کا خیال ہے کہ سرحدوں پر خطرات اب بھی موجود ہیں۔

کہا گیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان (NAP) کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جیش محمد، جماعت الدعوہ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن اور دوسری کالعدم مذہبی اور فلاحی تنظیموں کے دفاتر پر چھاپے مار کر نہ صرف یہ کہ ان کے سرکردہ رہنماؤں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے،بلکہ ان تنظیموں کے اثاثوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ ان اقدامات کی تفصیل یہ ہے:

-1 100 سے زیادہ رہنما گرفتار کر لئے گئے ہیں۔

-2 200 سے زیادہ ان مساجد، مدارس اور دفاتر کو سربمہر کر دیا ہے جو یہ تنظیمیں چلا رہی تھیں۔

-3 جماعت الدعوہ کے 44 رہنماؤں کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

-4 جیش محمد کے چیف مسعود اظہر اور ان کے بیٹے اور بھائی کو بھی پکڑ لیا گیا ہے۔

-5 پنجاب حکومت نے 160 دینی مدارس، 32 سکولوں، 2 کالجوں، 4 ہسپتالوں، 178 ایمبولینسوں اور 153 ڈسپنسریوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

-6 سندھ حکومت نے کراچی اور صوبے کے دوسرے اضلاع میں ان 5 مدارس، مساجد، ہسپتالوں وغیرہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے،جو جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے زیر انتظام چل رہے تھے۔

-7 خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھی اس طرح کا کریک ڈاؤن کیا گیا ہے۔

درج بالا اداروں کو محکمہ اوقاف، محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ مساجد کے آئمہ کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں میڈیا پر جو تفصیلات دی گئی ہیں یا دی جا رہی ہیں وہ اور بھی حیران کن اور پریشان کن ہیں۔

یہ سینکڑوں ہزاروں تعلیمی اور فلاحی ادارے کس طرح چل رہے تھے۔ مانا کہ قوم میں مخیر حضرات کی کمی نہیں لیکن کیا ان امرا و رؤسا کا فوکس صرف مذہبی اداروں پر ہی ہے۔ ذہن پر زور دیئجے اور یہ تفصیل معلوم کیجئے کہ ان ممالک کے مخیر حضرات کیا کرتے ہیں۔

ان کی تفصیلات قارئین کے سامنے رکھنے کے لئے کئی کالم درکار ہوں گے چند اور سوال بھی آپ کی توجہ چاہتے ہیں۔۔۔ مثلاً کیا نیشنل ایکشن پلان 26 فروری 2019ء کو معرضِ قیام میں لایا گیا تھا؟۔۔۔ یہ NAP تو 2014ء میں وجود میں آیا تھا، اس پر عمل کیوں نہ ہوا۔۔۔ گزشتہ حکومت نے اس سے اغماز کیوں برتا؟۔۔۔ کیا مصلحتین تھیں جو اس پلان کے نفاذ کی راہ میں حائل ہوئیں۔۔۔؟ اب ایک دم یہ خفتہ پلان بیدار کیوں ہو گیا ہے؟۔۔۔ اس بیداری کا حکم کہاں سے آیا ہے؟۔۔۔ پی ٹی آئی حکومت کو تو عنانِ اقتدار سنبھالے 6 ماہ ہو چکے ہیں۔

کیا وزیر اعظم اس بات سے بے خبر تھے کہ NAP کا نفاذ گزشتہ حکومت نے اگر نہیں کیا تھا تو اس کی وجوہات کیا تھیں؟۔۔۔ آج اور اب اس کے نفاذ میں جو جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں کیا وہ حکومت کے اضطراری افعال کے غماز نہیں۔۔۔؟ اگر ہیں تو یہ کیوں کہا جا رہا ہے کہ اس کریک ڈاؤن کا تعلق پاک بھارت سٹینڈ آف سے نہیں؟

ایک اور حقیقت بھی آپ کے نوٹس میں لانی ضروری سمجھتا ہوں کہ اس کریک ڈاؤن کی تفاصیل کیا پاکستانی عوام کے لئے ہیں یا کیا ان کاروئے سخن امریکہ، چین، روس اور سعودی عرب کی طرف ہے؟ کیا جنگ کا خطرہ ٹالنے میں اس کریک ڈاؤن کا بھی کوئی رول ہے؟۔۔۔ذرا اس پر مزید غور کیجئے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اس جوہری فلیشن پوائنٹ کو Defuse کرنے میں پاکستان، اس کے دوستوں بلکہ اس کے دشمنوں نے بھی ایک کردار ادا کیا ہے!

مزید : رائے /کالم