سانحہ ماڈل ٹاؤن ، شہباز شریف کی بغیر حاضری بیان ریکارڈ کرانیکی استدعا مسترد

سانحہ ماڈل ٹاؤن ، شہباز شریف کی بغیر حاضری بیان ریکارڈ کرانیکی استدعا مسترد

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تفتیش کیلئے قائم جے آئی ٹی نے ن لیگ کے رہنماؤں سے تفتیش کی تاہم شہباز شریف کو بغیر حاضری بیان ریکارڈ کرانے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں مسلم ن کے رہنما خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ اور پرویز رشید پہلی بار پیش ہوئے اور اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔اسلام آباد میں آئی جی موٹر وے اے ڈی خواجہ کی سربراہی میں سانحہ ماڈل ٹاؤن جے آئی ٹی کا اجلاس ہوا۔جے آئی ٹی نے خواجہ آصف سے تفتیش کرتے ہوئے سانحہ ماڈل ٹاون سے متعلق سوالات پوچھے۔ ذرائع کے مطابق خواجہ آصف سے تفتیش کا سلسلہ ایک گھنٹے سے جاری رہا۔ مسلم لیگ ن نے جے آئی ٹی کی تشکیل پر اعتراض اٹھاتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا تحریری بیان جمع کرایا۔جے آئی ٹی ممبران نے خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ اور پرویز رشید سے سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق سوالات کیے ۔جبکہ شہباز شریف کے تحریری بیان کا بھی جائزہ لیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں لیگی رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جے آئی ٹی کی تشکیل خلاف قانون اور سیاسی انتقام ہے۔ذرائع کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تفتیش کیلئے قائم جے آئی ٹی نے شہباز شریف کو بغیر حاضری بیان ریکارڈ کرانے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔اپوزیشن لیڈر کے وکیل نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ شہباز شریف بیمار ہیں، حاضری سے استثنیٰ دیا جائے جس پر انہیں کہا گیا کہ جب طبعیت ٹھیک ہوتو آجائیں، انہیں خود پیش ہونا پڑے گا۔ دنیا نیوز ذرائع کے مطابق شہباز شریف کی آئندہ ہفتے دوبارہ طلبی کا امکان ہے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )مسلم لیگ ن نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کیلئے بننے والی جے آئی ٹی کی قانونی حیثیت کو چیلنج کردیا،شہباز شریف، خواجہ آصف، پرویز رشید اور رانا ثناء اللہ نے جے آئی ٹی کو بیان ریکارڈ کرا دیئے،کہتے ہیں معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے ۔ جمعرات کوسانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی جے آئی ٹی کا اجلاس موٹر وے پولیس ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت جے آئی ٹی کے سربراہ آئی جی موٹر وے پولیس اے ڈی خواجہ نے کی۔اجلاس میں لیگی رہنما خواجہ آصف، پرویز رشید اور رانا ثناء اللہ پیش ہوئے جبکہ سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے وکلاء نے تحریری جواب جمع کرایا۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے جے آئی ٹی پر اعتراض کیا اورکہاکہ قانون کے مطابق عدالت میں فرد جرم لگ جائے تومقدمے کی تحقیقات نہیں کرائی جا سکتیں معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیرسماعت ہے جے آئی ٹی نے ایک سوچوبیس کی طلبی اور13 افراد نہیں بلایا گیا جے آئی ٹی عمران خان اورطاہرالقادری کے سیاسی گٹھ جوڑکا شاخسانہ ہے۔

رانا ثناء اللہ

مزید : صفحہ اول