سینیٹ، نواز شریف کو علاج کی مناسب سہولتیں فراہم نہ کرنے پر اپوزیشن کا احتجاج ، واک آؤٹ

سینیٹ، نواز شریف کو علاج کی مناسب سہولتیں فراہم نہ کرنے پر اپوزیشن کا احتجاج ...

اسلام آ باد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) ایوان بالا میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو علاج کی مناسب سہولتیں فراہم نہ کرنے پر اپوزیشن نے احتجاج اور واک آ ؤٹ کیا، ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے کہا نواز شریف کو انجائنا مرض لاحق ہے اور ان کو5مرتبہ دل کا درد ہوا، ان کیخلاف سنگدلانہ سلوک کیا جا رہا ہے،ان کو علاج کے حق ملنا چاہیے، ان کیساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ ناقابل قبول ہے ،جبکہ وزیرمملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے پیشکش کی کہ اگر اپوزیشن مطمئن نہیں کہ نواز شریف کا علاج صحیح نہیں ہو رہا تو سینیٹ کی کمیٹی تشکیل دی جائے جو جا کرنوازشریف کی علاج کا جائزہ لے اور جو سفارشات پیش کرے گی حکومت اس پر عمل کرے گی، سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ہمارا کوئی ذاتی جھگڑا نہیں وہ قابل احترام ہیں ان کے کیسوں سے ہماری حکومت کا کوئی تعلق نہیں ، وہ کرپشن کے کیسوں میں جیل ہیں،ان کے علاج میں کوئی کمی نہیں برتی جائے گی ۔جمعرات کو ایوان بالا کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی صدارت میں ہواتوقائد حزب اختلاف سینیٹرراجا ظفر الحق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کیلئے جارہا تھا اور وہاں پہنچنے سے قبل پتہ چلا کہ ملاقات نہیں ہوسکتی ان کی طبیعت ناساز ہے، یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے، 20سال سے وہ بیماری میں مبتلا ہیں ۔ برطانیہ میں آپریشن کے دوران دل کی ایک آرٹری پنکچر ہوگئی تھی اور خون رک نہیں رہا تھا۔ پھر ماہر ڈاکٹر ز کو طلب کیا گیا انہوں نے آکر خون بند کیا۔ خون تو بند ہو گیا لیکن اصل بیماری قائم رہی جو عام دل کے ڈاکٹر سے کنٹرول نہیں ہوسکتی۔ ان کو شوگر، گردہ میں پتھری سمیت مختلف بیماریاں ہیں۔ اس حوالے سے کئی میڈیکل بورڈ زبنائے گئے اورسب نے کہا ان کی مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔گزشتہ ہفتہ ان کو5دفعہ ان کو دل میں درد ہوا۔ ان کو ایسے ہسپتالوں میں لے کر جایا جاتا ہے جہاں دل کے علاج کی سہولت موجود نہیں ہوتی اور پھر ان کو کچھ دن بعد کہا جاتا ہے آ پ بہتر ہوگئے ہیں جیل جائیں۔ آ ج کروڑوں عوام ان کی طرف دیکھ رہے ہیں، ان کو علاج کے حق ملنا چاہیے، ان کیسا تھ جو کچھ ہورہا ہے ناقابل قبول ہے ہم بطور احتجاج ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہیں ، اس پر اپوزیشن ارکان ایوان سے واک آؤٹ کرگئے ۔اس موقع پر وزیر مملکت برائے پارلیما نی امور علی محمد خان کامزید کہنا تھا ریاست تمام شہریوں کو صحت کو مساوی حقوق دینے کی پابند ہے، پنجاب حکومت کا کہنا ہے وہ ٹھیک ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں ان کا کوئی مناسب علاج نہیں ہورہا تو ایوان کی کمیٹی بنائیں وہ جا کر علاج کا جائزہ لے اور سفارشات دیں اس پر عمل کریں گے ان کے علاج میں کوئی کمی نہیں برتی جائے گی۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہا عمران خان نے پنجاب حکومت کو ہدایات دی ہیں کہ ان کو علاج کی بہترین سہولیات دی جائیں، وہ جہاں سے علاج چاہتے ہیں ان کی اجازت دی جائے۔دریں اثناء سینیٹ میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی کیخلاف متفقہ طور پر قرارداد منظور کرلی گئی۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا سینیٹ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر پر پابندیوں ،کریک ڈاؤن اور انکے دفاتر سیل کئے جانے کی شدید مذمت کرتا ہے،حکومت پاکستان جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر پر پابندی کے خاتمہ، سیاسی رہنماؤں کی فوری رہائی اور کریک ڈاؤن روکنے کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائے۔ سینیٹ اجلاس میں یہ قرارداد جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے قرارداد پیش کی ۔جبکہ سینیٹ میں حکومت نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے رپورٹس کو مستردکرتے ہوئے اعلان کیا اسرائیل پاکستان کا دشمن ہے، اسکو تسلیم کرنا اور دوستی کرنے کی آئین اور دین اجازت نہیں دیتے، اسرائیل سے دوستی کرنیوالے کو دریا برد کر دیں گے،ہم نے مل کر بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ سے پاکستان پر حملے کو ناکام بنایا ہے۔ سینیٹر مشتاق احمد کے عوامی اہمیت کے معاملہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کا مزید کہنا تھا ماضی میں کسی حکومت نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی اب کوئی ایسا کر سکتا ہے،موجودہ حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی ،جو بندہ اسرائیل سے دوستی کی بات کریگا عوام حکومت اس کے پرخچے اڑا دینگے۔ اس معاملے پر میڈیا اور اپوزیشن قوم کو تقسیم نہ کریں ۔

سینیٹ

مزید : صفحہ اول