کابل پھر دھماکوں سے لرزا ٹھا، 12افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

کابل پھر دھماکوں سے لرزا ٹھا، 12افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)افغانستان کے دارالحکومت کابل میں افغان رہنماء عبدالعلی مزاری کی برسی کی تقریب کے دوران متعدد دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 12افراد جاں بحق جبکہ افغان صدارتی امیدوار عبدالطیف سمیت درجنوں زخمی ہو گئے، متعد د زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جس سے جانی نقصان میں اضافے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ برسی کی تقریب میں افغا نستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سمیت حکومت کی اہم شخصیات موجود تھیں،دریں اثناء کابل پولیس ڈسٹرکٹ 13میں 10 دھما کے سنے گئے ، دھماکو ں کے بعد علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اوردیگر میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کابل میں افغان رہنماء عبدالعلی مزاری کی برسی کی تقریب کے دوران اچانک زود دھماکے ہوئے جن میں 12 افراد جاں بحق جبکہ افغان صدارتی امیدوار عبداللطیف سمیت متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ گزشتہ سا ل بھی عبدالعلی مزاری کی برسی پر دھماکا ہوا تھا۔افغان حکام کے مطابق تقریب کی لائیو نشریات کے دوران محمد یونس قانونی نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا 'پْر سکون رہیں، دھماکا یہاں سے دور فاصلے پر ہوا ہے اور اس کے کچھ ہی دیر بعد دوسرے دھماکے کی آواز سنی گئی، جس کے بعد تقریب میں افراتفری پھیل گئی اور لوگوں نے جانیں بچانے کیلئے خارجی راستے کی جانب بھاگنا شروع کردیا۔واقعے کے بعد افغان وزیر خارجہ صلح الد ین ربانی جو تقریب میں موجود تھے نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا کہ دہشت گردوں نے برسی کی تقر یب میں راکٹوں سے حملہ کیا۔وزیر صحت محب اللہ کا کہنا تھا ہسپتال سے ملنے والی ابتدائی معلومات کے مطابق حملے میں 3 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے ہیں، لیکن یہ تعداد مصدقہ نہیں۔افغان وزارت داخلہ کے نائب ترجمان نصرت رحیمی کا کہنا تھا دھماکے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے ، دھماکا مارٹر شیل کی وجہ سے ہوا جبکہ ایک فرد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے،تاہم ترجمان نے ہلاکتوں سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب نہیں دیا ۔ بعد ازاں پاکستان میں دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا پاکستان، افغا نستا ن میں ہونیوالے راکٹ حملے کی مذمت کرتا ہے۔خیال رہے کابل میں جس تقریب میں دھماکے ہوئے، یہ 1995 میں جاں بحق ہونیوا لے اور ہزارہ اقلیت سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما عبدالعلی مزاری کی برسی کی تقریب تھی جو طالبان حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔

کابل دھماکے

قندوز(مانیٹرنگ ڈیسک )افغانستان کے شمالی صوبے قندوز میں طالبان اور سرکاری فورسز کے درمیان جھڑپوں میں7سکیورٹی اہلکار اور 8 ا نتہا پسند ہلاک ہوگئے۔مقامی سرکاری ذرائع کے مطابق یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب طالبان کے ایک گروپ نے کلے زل ضلع میں ایک انتظامی عمارت کے باہر قائم چیک پوسٹ پر راکٹوں اور گرنیڈز سے حملہ کردیا۔حملہ اس قدر شدید تھا کہ سکیورٹی فورسز کے 7اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ جوابی کاروائی میں8 طالبان انتہاپسند بھی مارے گئے، سرکاری ذرائع کے مطابق فریقین میں جھڑپوں کے دورا ن 8سکیورٹی اہلکار اور دس انتہاپسند زخمی بھی ہوئے۔فریقین میں فائرنگ کا سلسلہ پانچ گھنٹے تک جاری رہا۔ہلاک ہونیوالے انتہاپسندوں کا تعلق طالبان کے سارا کیٹا یا سرخ یونٹ سے بتایا جاتاہے۔ یہ طالبان کی خصوصی فورس ہے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے کی ذ مہ داری قبول کرتے ہوئے بتایا سکیورٹی فورسز کے دو درجن اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ مجاہدین نے بڑی مقدار میں اسلحے اور گولہ بارود پر قبضہ کیا ہے ،اس لڑائی میں صرف دوطالبان مارے گئے ہیں۔

افغانستان جھڑپ

مزید : صفحہ اول