بالاکوٹ کا نام تو بہت دن سے خبروں میں گونج رہا ہے اب آپ اس کی انتہائی دلچسپ مذہبی تاریخ جانئے

بالاکوٹ کا نام تو بہت دن سے خبروں میں گونج رہا ہے اب آپ اس کی انتہائی دلچسپ ...
بالاکوٹ کا نام تو بہت دن سے خبروں میں گونج رہا ہے اب آپ اس کی انتہائی دلچسپ مذہبی تاریخ جانئے

  

بالاکوٹ(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے شہر بالاکوٹ کا نام گزشتہ چند ہفتوں سے عالمی میڈیا پر گونج رہا ہے، جس کی وجوہات ہر شخص جانتا ہے تاہم اس شہر کی ایک مذہبی تاریخ بھی ہے جو زیادہ لوگ نہیں جانتے۔ ڈان ڈاٹ کام کے مطابق یہ تاریخ ایک مذہبی شخصیت ’بالاپیر‘ سے منسوب ہے جن کا مزار بالاکوٹ کے وسط میں واقع ہے۔ اس مزار کے پانی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس سے بیماروں کو شفا ملتی ہے، بالخصوص جذام کے مریضوں کو۔

دیگر کئی مذہبی شخصیات کی طرح بالاپیر سے بھی مسلمان اور سکھ دونوں عقیدت رکھتے ہیں اور انہیں اپنا گردانتے ہیں۔ سکھوں کا عقیدہ ہے کہ بالاپیر داصل ’بھائی بالا‘ ہے جو باباگرونانک کے دو انتہائی قریبی ساتھیوں میں سے ایک تھے۔ ان کے دوسرے قریب ترین ساتھی ’بھائی مردانہ‘تھے۔

یہ کہانی کچھ یوں شروع ہوتی ہے کہ باباگروناک، بھائی مردانہ اور بھائی بالااپنی تعلیمات کا پرچار کرنے کے لیے اس جگہ آئے۔ کچھ وقت قیام کے بعد باباگرونانک اور بھائی مردانہ آگے چلے گئے لیکن بھائی بالا وہیں مقیم رہے اور وہاں کے لوگوں میں پرچار جاری رکھا۔

آئندہ سالوں میں باباگرونانک کے پیروکاروں نے اس جگہ پر ایک مزار قائم کر دیا جس جگہ بابانانک اور ان کے دونوں ساتھی ابتدائی طور پر آ کر قیام پذیر ہوئے تھے۔ اس جگہ کو انہوں نے ’بھائی بالا کی بیٹھک‘ کا نام دیا۔ اس جگہ پر کسی وقت میں ایک چوکی ہوا کرتی تھی جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ یہ بھائی بالا کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔

بھائی مردانہ کی طرح بھائی بالا کا نام بھی باباگرونانک کے کلام میں اکثر ملتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ بھائی بالا اور بھائی مردانہ بچپن سے باباگرونانک کے ساتھی تھے۔ مردانہ کا تعلق ایک مسلمان گھرانے سے تھا جبکہ بالا ہندو خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔بابانانک سے منسوب ایک قصے میں بھائی بالا مرکزی کردار ہے۔ اس قصے میں بالا اور مردانہ باباگرونانک سے پوچھتے ہیں کہ ’کسی شخص کو باباگرونانک کا سچا پیروکار بننے کے لیے کون سا مذہب اختیار کرنا چاہیے؟‘ باباگرونانک انہیں جواب دیتے ہیں کہ ”جو ہندو ہے اسے ایک اچھا ہندو بننا چاہیے اور جو مسلمان ہے اسے ایک اچھا مسلمان بننا چاہیے۔ جو لوگ ایسا کریں گے وہ میری تعلیمات کی پیروی کریں گے۔“

بالاپیر کے اس مزار پر بھی سالانہ میلہ لگتا ہے۔ تقسیم ہند سے قبل میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے ان کے ہزاروں عقیدت منداس میلے میں شرکت کرتے ہیں۔ تقسیم کے بعد ہندواور سکھ ہجرت کرکے بھارت چلے گئے تاہم یہ مزار مسلمانوں کے لیے آج بھی عقیدت کا مقام ہے اور وہ کچھ تبدیلیوں کے ساتھ اس روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بالاکوٹ میں بالاپیر کے مزار کی دوسری طرف دریائے کنڑ کے اس پار ایک اور تاریخی مذہبی مقام ہے۔ یہ سید احمد بریلوی کا مزار ہے جو 19ویں صدی کے معروف اسلامی مبلغ تھے۔ سید احمد بریلوی اترپردیش سے آئے تھے جو اب بھارت کی ایک ریاست ہے۔ ان کی یہاں آمد کا مقصدپنجاب میں سکھ سلطنت کے خلاف جنگ لڑنا اور ایک مسلم سلطنت قائم کرنا تھا۔ تاہم مو¿رخین لکھتے ہیں کہ سکھ سلطنت کے خاتمے کے بعد وہ انگریز سامراج کے خلاف جنگ لڑنا چاہتے تھے لیکن سکھوں کے خلاف لڑائی میں ہی مقامی قبیلوں نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا اور وہ 1831ءمیں بالاکوٹ میں لڑی جانے والی جنگ میں شہید ہو گئے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس