خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے او آئی سی سی آئی کی اہم کاوش

خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے او آئی سی سی آئی کی اہم کاوش
خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے او آئی سی سی آئی کی اہم کاوش

  

کراچی (پروموشنل ریلیز )پاکستان میں خواتین کی تعداد تقریباً نصف (%48)فی صد ہے لیکن پھر بھی ہمارا ملک گلوبل جینڈر اکیویلٹی انڈیکس میں 149ممالک میں سے 148ویں نمبر پر ہے ،ہم گزشتہ سات سالوں سے مسلسل اس پوزیشن پر ہیں۔یہ انڈیکس خواتین کی بہت سے اہم عوامل میں شمولیت کو جانچتا ہے جن میں ایجو کیشن ،سیاسی آزادی ،صحت کی دیکھ بھال کے حوالے سے برابری اور مختلف کاموں میں شمولیت کو دیکھا جاتا ہے ۔ترقی ظاہر کر نے والے دیگر اکنامک انڈیکٹرز ،تعلیم ،صحت ،سیاسی طاقت اور اقتصادی شراکت داری شامل ہوتی ہے۔2018کی گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ کے مطابق پاکستان اقتصادی شراکت اور مواقع میں 146ویں ، تعلیم میں 139 ، صحت میں 145اور سیاسی طاقت میں 97ویں نمبر پرآیا۔

خواتین کو دقیانوسی ثقافت کے باعث پسماندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،در حقیقت معاشرے کے تمام طبقات میں خواتین کو ترقی کے بہت کم مواقع میسر آتے ہیں اور ورک فورس میں شمولیت کے موقع بھی کم ملتے ہیں ،اعداد و شمار کے مطابق ورک پلیس پر 25فیصد خواتین میں سے تقرباً 2فیصد خواتین کو لیڈرشپ کا کردار ادا کرنے کے لیے ترقی دی جاتی ہے ۔خواتین کے لیے ورک پلیس پر غیر موزوں پالیسیاں خواتین ورکرز کی محنت کو بگاڑ دیتی ہیں ۔مناسب انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی ،جنسی ہراسگی ،صحت کی حفاظت کے لیے محدود رسائی ،ترقی کے محدود وسائل اورشادی اور بچوں کی پیدائش کے بعد ورک پلیس کی جانب سے نا کافی سپورٹ جیسے مسائل خواتین کو کام چھوڑنے پر مجبور کردیتے ہیں ۔

پاکستان میں ایک با اثر بزنس فورم اوورسیز انویسٹر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی ) کے تعاون سے 2017 میں خواتین کو بااختیار بنانے( ویمن ایمپاورمنٹ) کا قدم اٹھا یا گیاتھا، 2018میں چیمبر نے صنفی برابری اور کام کی جگہوں پر بہتری کیلئے بھرپور ریسرچ کی اور پھر عملی اقدامات شروع کیے۔او آئی سی سی آئی اس ریسرچ پر کام کررہی ہے اور کام کرنیوالی خواتین کی طرف سے ملنے والے ردعمل کی بنیاد پر خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق ایک وائیٹ پیپر جاری کیاجائے گا جس میں خواتین کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کیلئے تجاویز دی جائیں گی ، اس وائیٹ پیپر کا مقصد حکومت پاکستان کی ایک ایسے ریگولیٹری انفراسٹرکچر کے نفاذ میں مدد کرنا ہے جس سے پاکستان کے کارپوریٹ اور بزنس سیکٹر میں صنفی برابری اور خواتین کوبااختیار بنانے میں پیش رفت ہو۔ایکسپرٹس ،انڈسٹری لیڈرز ،مقامی اور بین الاقوامی بہترین پریکٹسز پر نظر ثانی کرکے بہت زیادہ مشاورت کے بعد یہ سفارشات تیار کی گئیں۔او آئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل عبد العلیم کے سا تھ مل کر صدر شازیہ یہ مہم چلا رہی ہیںجس میں پاکستان کی کچھ بڑی کمپنیوں اور سول سوسائٹی کا الحاق بھی ہے ۔

مزید : قومی