ملک کے سب سے بڑے ایڈورٹائزر انعام اکبر کی رہائی کے لئے سینیئر صحافیوں نے حکومت سے بڑا مطالبہ کر دیا

ملک کے سب سے بڑے ایڈورٹائزر انعام اکبر کی رہائی کے لئے سینیئر صحافیوں نے ...
ملک کے سب سے بڑے ایڈورٹائزر انعام اکبر کی رہائی کے لئے سینیئر صحافیوں نے حکومت سے بڑا مطالبہ کر دیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ملک بھر کے سینئر ترین صحافیوں نے کہا ہے کہ ایڈورٹائزنگ اداروں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا مقصد اخباری صنعت کا گلہ گھوٹناہے ،حکومت نیب قوانین کے سامنے بے بس نظر آتی ہے ،اگر ملک کی بڑی ایڈورٹائزنگ ایجنسیز کے ذمہ داران کو گرفتار کیا جاتا رہا تو مارکیٹ سے بزنس کون لائے گا اور اخبارات کا پیٹ کون بھرے گا ؟اخباری صنعت کو بحران سے نکالنے کیلئے سینئر صحافیوں نے ایک بار پھر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے ملک کے سب سے بڑے ایڈورٹائزر ادارے ’’میڈاس گروپ‘‘ کے چیف ایگزیکٹو انعام اکبر کو ضمانت پر رہا کر کے میرٹ پر تفتیش کی جائے ۔

 تفصیلات کے مطابق ملک کے سب سے بڑے  ایڈورٹائزر ادارے ’’میڈاس گروپ‘‘ کے چیف ایگزیکٹو انعام اکبر کی نیب کی جانب سے طویل گرفتاری پر سینئر صحافیوں نے ایک بار پھر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ انعام اکبر کو فوری ضمانت پر رہا کرکے تمام الزامات کی میرٹ پر تفتیش کی جائے اور ایسے افراد کو تفتیش میں شامل کیا جائے جو میڈیا کے معاملات کو سمجھتے ہوں کہ ایڈورٹائزنگ ایجنسیز اورمیڈیا بائینگ ہاؤسز کے معاملات کس طرح چلتے ہیں؟۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی نے انعام اکبر کی طویل گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر نیب ملک کے بڑی ایڈورٹائزنگ ایجنسیز کے ذمہ داران کو ایسے گرفتار کرلے گی تو یقینی طور ایسے اقدامات سے اخباری صنعت متاثر ہو گی،ایسے حالات میں  کون مارکیٹ سے بزنس لائے گا اور کون میڈیا کا پیٹ بھرے گا؟۔مجیب الرحمن شامی کا کہنا تھا کہ ہم نے بار بار توجہ دلائی لیکن جو نیب کے قوانین ہیں اس کے سامنے حکومت بھی بعض اوقات بے بس ہوجاتی ہے۔

معروف تجزیہ کاراوریا مقبول جان کا کہنا تھا کہ انعام اکبر کی گرفتاری ایک المیہ ہے ، اس کے بعد تو ایسا ہوگا کہ اخبار کا  اکاؤنٹنٹ یا ایچ آر کا بندہ سار ادن اے جی آفس میں بیٹھا ہو گا ،یا پھر اکاؤنٹنٹ کے پاس بیٹھا ہو گا یا پھر سیکرٹری کے پاس بیٹھا ہوگا کہ سر اس پر سائن کردیں اور مجھے چیک دے دیں۔

معروف تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ میڈیا کے ساتھ ساتھ  ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کو بھی ٹارگٹ کیا جا رہا ہے ،حکومت  نئی نوکریاں متعارف کروانے کی بجائے ایسی پالیسیاں لا رہی ہے جس سے ’’پرانی نوکریاں ‘‘ بھی ختم ہو رہی ہیں ،میڈیا سے اس مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔

معروف ٹی وی پروگرام کے میزبان اور روزنامہ ’’انصاف ‘‘ کے چیف ایڈیٹر جنید سلیم نے انعام اکبر کی گرفتاری پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اگر  سرکاری اشتہار جاری ہوئے تھے تو کس نے2 نمبری کی؟اس بات کا پتا تو 4 دن میں چل سکتا ہے, انعام اکبر کی طویل حراست سے اخباری صنعت پریشانی کا شکار دکھائی دے رہی ہے ِحکومت کو اس بارے میں سنجیدگی کے ساتھ سوچنا چاہئے اور فوری انعام اکبر کو رہا کرنا چاہئے ۔

معروف صحافی، تجزیہ کار اور یونین لیڈر عارف حمید بھٹی نے بھی انعام اکبر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہاگر یہ ایڈورٹائزر کو روک لیں گے تو ہمیں اُن سرکاری لوگوں کے آگے ڈال دیں گے جو 60 ساٹھ فیصد کمیشن لیتے ہیں،ایسی گرفتاریوں سے ادارے  بند ہونا شروع ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ انعام اکبر کو فوری رہا کیا جانا چاہئے ۔

مشہور تحقیقاتی صحافی اسد کھرل کا کہنا تھا کہ انعام اکبر  کا قصور یہ ہے کہ اُنہوں نے سابق چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کے کہنے پر ایک اشتہار روک لیا اور مزاحمت کی جس پر ان کے وارنٹ نکال دیئے،ماضی میں ہونے والے غلط کاموں کا تسلسل تحریک انصاف کی حکومت کو برقرار نہیں رکھنا چاہئے ،جسٹس (ر)جاوید اقبال کو انعام اکبر کے کیس اور گرفتاری کو از سر نو دیکھنا چاہئے ۔

مشہور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے بھی انعام اکبر کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا انڈسٹری کو کمزور کرنے کے اقدامات بڑے واضح طور پر نظر آ رہے ہیں،سرکاری و نجی اشتہارات بند ہوئے ہیں ،باہر سے پریشر آ رہا ہے اور اب بھی موجود ہے لیکن اسے مینج کرنا حکومت کا کام ہے اور اسے یہ کام کرنا چاہئے تاکہ میڈیا انڈسٹری کو بحران سے بچایا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ انعام اکبر کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے  میڈیا انڈسٹری کو طاقت دی اور اس کو ملک کی بڑی انڈسٹری بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔

نجی ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر اور سینیئر صحافی بابر ڈوگر کا کہنا تھا کہ انعام اکبر کی شکل میں  صرف ایک بندے کو وکٹمائز کیا جارہا ہے،ان کی آواز کو دبایا جا رہا ہے ،کئی مہینوں سے انہیں پابند سلاسل رکھ کر ان کے ساتھ زیادتیاں کی جا رہی ہیں ۔بابر ڈوگر کا کہنا تھا کہ انعام اکبر کا قصور کیا ہے ؟کیا باقی ایڈورٹائزنگ ایجنسیاں بھی یہی کام نہیں کرتیں جو انعام اکبر نے کیا ہے ؟تو پھر صرف ایک بندہ ہی نشانے پر کیوں ہے ؟انعام اکبر کو فوری رہا کرنا چاہئے تاکہ ایک بندے کو انصاف ملے اور میڈیا انڈسٹری بھی بحران سے نکل سکے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد