سندھ اسمبلی کا اجلاس تیسرے روز بھی ہنگامے کی نذر ہو گیا ،اپوزیشن اور حکومتی اراکین کی ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی

سندھ اسمبلی کا اجلاس تیسرے روز بھی ہنگامے کی نذر ہو گیا ،اپوزیشن اور حکومتی ...
سندھ اسمبلی کا اجلاس تیسرے روز بھی ہنگامے کی نذر ہو گیا ،اپوزیشن اور حکومتی اراکین کی ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)سندھ اسمبلی کا اجلاس تیسرے روز بھی  ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا ،اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کر کے ایوان کو مچھلی منڈی بنا دیا ،ڈپٹی سپیکر اپوزیشن اراکین کو تمیز سیکھنے کے مشورے دیتی رہیں،ایوان  میں  پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان’’ گو نیازی گو‘‘ اور ’’گو کرپشن گو ‘‘اور ’’گو زرداری گو‘‘ کے نعروں کا مقابلہ بھی ہوتا رہا۔

نجی ٹی وی کے مطابق ڈپٹی سپیکر ریحانہ لغاری کی زیرصدارت پونے دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا ،دعا ختم ہوتے ہی اپوزیشن ارکان حتجاج کے لئے ایک مرتبہ پھر اپنی نشستوں سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے ، پی ٹی آئی کے رکن خرم شیرزمان نے نکتہ اعتراض پر بولنے کی کوشش کی توڈپٹی سپیکر نے انہیں اجازت نہیں دی اور کہا کہ وقفہ سولات کے بعد بات سنی جائے گی جس پر اپوزیشن ارکان طیش میں آگئے اور انہوں نے ڈیسک بجانا شروع کردیئے ، ڈپٹی سپیکر نے اپوزیشن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے ڈکٹیٹ نہیں کراسکتے،ایوان آپکی مرضی سے نہیں چلے گا، اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے نو نو کے نعرے لگانے شروع کردیئے جس پر ڈپٹی سپیکر برہم ہوگئیں اور انہوں نے کہا کہ آپ کو ایوان میں بیٹھنے کا سلیقہ نہیں آتا؟کم از کم کچھ سیکھ کر تو آئیں۔ اپوزیشن ارکان نے ڈپٹی سپیکر کی یہ بات سنی ان سنی کردی اور انہوں نے سپیکر کی نشست کے سامنے جمع ہوکر نعرے بازی اور شروع شرابہ شروع کردیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان’’ گو نیازی گو‘‘ اور ’’گو کرپشن گو ‘‘اور ’’گو زرداری گو‘‘ کے نعروں کا مقابلہ بھی ہوتا رہا۔

اسی ماحول میں جب سپیکر آغا سراج درانی نے ایوان میں آکر اپنی نشست سنبھالی تو انہوں نے ماحول میں موجود تلخی کو کم کرنے کے لئے خواجہ اظہار الحسن کی گزشتہ اسمبلی میں بحیثیت اپوزیشن لیڈر کارکردگی کی تعریف کی اور کہا کہ میں نے گزشتہ تیس سالوں میں آپ جیسا اپوزیشن لیڈر نہیں دیکھا لیکن افسوس آپ بھی اس شور شرابے کا حصہ بن رہے ہیں۔ اپوزیشن کے شور شرابے کے دوران ہی وقفہ سوالات شروع ہوا لیکن اپوزیشن نے وقفہ سوالات میں حصہ نہیں لیا۔کافی دیر مسلسل نعرے بازی اور شور شرابے کے بعد اپوزیشن تھک گئی اور وہ سپیکر کی ڈائس کے سامبے موجود ہونے کے باوجود خاموش ہو گئے۔اس دوران اپوزیشن ارکان ایک دوسرے سے حکمت عملی تبدیل کرنے پرمشورے کرتے رہے اور ایوان میں موجود پیپلزپارٹی اراکین اپوزیشن کی خاموشی پر مسکراتے رہے ،سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات شورشرابے میں مکمل ہوا۔

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کے مسلسل احتجاج اور شورشرابے کا آج تیسرا دن تھا، ایوان کی کارروائی کے دوران کشیدہ ماحول ہی میں توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرنے کا مرحلہ آیا پیپلز پارٹی کی خاتون رکن غزالہ سیال نے اپنے ایک توجہ دلاؤ نوٹس میں کہا کہ جنگ کا ماحول ہے، خطرات کے پیش نظر ڈیزاسٹر سسٹم کی کیا تیاری ہے؟ جس کے جواب میں صوبائی وزیر توانائی امتیاز شیخ نے کہا کہ جنگ اگر ہوئی تو ہر طرح سے تیاری مکمل ہے،موجودہ حالات میں11 سے 12 اقدامات پر تیاری مکمل ہے,جنگی حالات میں ایک قدم یہ بھی تھا جو اپوزیشن نے اختیار کیا ہے, ایک جانب سرحدوں پر خطرات منڈلارہے ہیں اور دوسری جانب اپوزیشن کی پوری توجہ اس بات پر ہے کہ پی اے سی کیسے حاصل کی جائے? فیصلہ ہوگیا ہے پبلک اکاونٹس کمیٹی اپوزیشن کو ہر گز نہیں ملے گی, یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ اپوزیشن اسی تنخواہ پر کام کرتی رہے گی۔

امتیاز شیخ کے ان ریمارکس پر اپوزیشن ارکان نے جو سپیکر نشست کے سامنے موجود تھے مزید شور شرابہ شروع کردیا۔ پیپلز پارٹی کی خاتون رکن کلثوم چانڈیو نے گیس پریشر میں کمی اور قیمتوں میں اضافے پر اپنے توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے ایوان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ سندھ کے کئی علاقوں میں سر شام گیس غائب ہوجاتی ہے اور دن میں بحال ہوتی ہے۔وزیر توانائی امتیاز شیخ نے کہا کہ یہ اہم ایشو ہے لیکن اپوزیشن نے اسے بھی سیاست کی نظر کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب آدمی کی زندگی اجیرن ہے مہنگائی کا طوفان ہے ،گیس بند ہے دوسری طرف مرکزی حکومت نے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کچھ کرلے مگر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نہیں ملے گی، پہلے اپوزیشن والے منہ سے بول رہے تھے اب پتہ نہیں انکی آواز کہاں سے نکل رہی ہے۔

صوبائی وزیر تیمور تالپور نے نصرت سحر عباسی کا نام لئے بغیر کہا کہ احتجاج میں ایک ایسی خاتون بھی شریک ہیں جن کے شوہر نے پیپلز پارٹی سے نوکری لی ہے۔ پیپلز پارٹی کی خاتون رکن ہیر سو ہو نے اپنے توجہ دلاؤ نوٹس میں مشروبات، منرل واٹر میں استعمال ہونے والی پلاسٹک کی بوتلوں کی جانب توجہ دلائی اور کہا کہ یہ کینسر کا سبب بن رہی ہیں، شہر میں پولی تھن پلاسٹک کے استعمال پر پابندی ہے۔اس موقع پر تمیور تالپور نے اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ایسی چیزیں بچوں کے ہاتھ میں دینی نہیں چاہیئے جس سے نقصان ہو،ہم اپوزیشن کو پی اے سی نہیں دیں گے اس سے ان کی صحت پر خراب اثرات پڑیں گے، اپوزیشن نے رویہ جو اختیار کیا ہے اس سے پوری دنیا ان پر ہنس رہی ہے۔

اس موقع پر ایم ایم کے رکن عبدالرشید نے کہا کہ کراچی کے لوگ مسائل کا شکار ہیں مگر یہاں اپوزیشن زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگا رہی ہے،انکے ووٹروں کے مسائل بھی میں یہاں بیان کرونگا،تین سالوں میں اربوں روپے کے بجٹ لگانے کے باوجود ضلع جنوبی میں پارکوں کی حالت خراب ہے۔آپ حکومت کا محاسبہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، آپ کوکراچی کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں بلکہ پی اے سی سے محبت ہوگئی ہیں،پورے کراچی کے لوگ رو رہے ہیں، میں حکومتی بینچوں سے بھی کہتا ہوں کہ اسکا کوئی سنجیدہ حل نکالیں اورعوام کے ریلیف کے لئے کام کریں۔

وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا کہ یہ خاموش بھی ہوجائیں تب بھی انہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نہیں دینگے۔ اس موقع پر پی پی کی خواتین ارکان نے جی ڈی اے کو ٹھیکہ دو،جی ڈی اے کو نوکری دوکے نعرے لگانے شروع کردئیے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہماری حکومت لیاری سمیت کراچی میں 12بڑی سڑکیں اس سال مکمل کرے گی ،اس وقت کراچی میں 112 سکیموں پر کام جاری ہے ،کراچی کے متعدد پارک بنائے جارہے ہیں رہ جانے والے 16 پارکس پر بھی کام کا آغاز کیا جائے گا،لیاری ندی کے اندر موجود لائن کو باہر نکالنے سمیت پرانی پمپنگ سٹیشنز پر بھی اسی سال کام کا آغاز ہوگا۔اپوزیشن ارکان نے اپنے احتجاج کے دوران ایجنڈا کاپیاں پھاڑدیں اور ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

ایوان کی کارروائی کے دوران خواتین کا عالمی دن پر ہیر اسماعیل سوہو سمیت دیگر ارکان نے خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیئے قراردادپیش کی جس میں کہا گیا کہ ہم اس دن پر مادر ملت فاطمہ جناح ، مادر جمہوریت نصرت بھٹو اور شہید بینظیر سمیت خواتین کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ ایم ایم ے کے رکن عبدالرشید نے بھی خواتین کے حق میں قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ ہم پاکستان کی عالم اسلام کی بہادر خاتون عافیہ صدیقی کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں بعدازاں یہ قراردادیں منظور کرلی گئیں۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی