کابل اجتماع میں حملہ،”را“ کی کارستانی؟

کابل اجتماع میں حملہ،”را“ کی کارستانی؟

  



کابل میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران ایک دلخراش واقعہ رونما ہوا،افغان جہادی رہنما عبدالعلی مزاری کی برسی کے حوالے سے اجتماع ہو رہا تھا،اس میں عبداللہ عبداللہ،حامد کرزئی اور کریم خلیلی بھی تھے،جب افغان اعلیٰ کونسل کے چیئرمین کریم خلیلی کی تقریر ہو رہی تھی تو دہشت گردوں نے مشین گنوں سے فائرنگ کر دی، مذکورہ تینوں رہنما بال بال بچے، تاہم32افراد جاں بحق اور قریباً81زخمی ہو گئے۔ یوں ایک نئی صورتِ حال بھی پیدا ہوئی، طالبان نے اِس حملے سے قطعی لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔اِس افسوسناک حملے کی خبر پر پہلی نظر تو یہی ظاہر کرتی ہے کہ ایسا طالبان کی طرف سے ہوا، لیکن طالبان کے انکار کی وجہ تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ یہ حملہ شمال والوں کے اجتماع پرکیا گیا،اس میں عبداللہ عبداللہ اور حامد کرزئی موجود تھے، جو موجودہ صدرا فغانستان اشرف غنی کے ساتھ اچھے تعلقات کے حامل نہیں ہیں،اِس لئے یہ منطقی طور پر طالبان کے بیان کے حق میں جاتا ہے کہ ان کی طرف سے حملہ نہیں ہوا، اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر ایسا کس جانب سے کیا گیا، تو مغرب والے اسے داعش کی کارستانی قرار دیں گے،جبکہ بھارت کی طرف سے الزام طالبان پر لگایا جائے گا کہ پاکستان کی شہ پر ایسا ہوا۔یہ سب عقلی طور پر نہیں مانا جا سکتا کہ پاکستان طالبان، امریکہ معاہدہ کا سہولت کار اور زبردست حامی ہے یہ تو کسی ایسی قوت کا کام ہے جو اس معاہدے اور افغانستان میں امن کی فضا کے خلاف ہے۔ایران نے اگرچہ معاہدے کو مسترد کر دیا،لیکن آج تک ایران کے خلاف افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام نہیں ہے،لہٰذا لے دے کر باقی بھارت بچتا ہے جسے اس معاہدے اور افغان امن سے دُکھ اور تکلیف ہے کہ اس نے افغانستان کے اندر اپنے قونصل خانوں کو ”را“ کے اڈے بنایا ہوا ہے، اور افغانستان میں امن کے لئے پاکستانی کردار بھی اسے گوارا نہیں،اس سلسلے میں معاہدے سے قبل اور مذاکرات کے دوران بھی خبردار کیا جاتا رہا ہے، اور معاہدے کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی نام لئے بغیر بھارت کی تکلیف کا ذکر کیا تھا، ہم سمجھتے ہیں کہ ”را“ سے کچھ بعید نہیں اور معاہدے کے فریقین کو بھی یہ بات باور کرنا چاہئے، بلکہ پاکستان کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ امریکہ، نیٹو اور عالمی طاقتوں کو بتائے کہ بھارت ایک امن دشمن ملک ہے، جو خطے کے امن کو اپنے ملک کے اندر بھی مسلمانوں پر مظالم ڈھا کر تباہ کرنے کی فکر میں ہے،اس لئے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ہم اس حملے کی بھرپور مذمت کرتے اور متاثرین سے پوری ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ