خودغرضی اور فضول تنازعات؟

خودغرضی اور فضول تنازعات؟
 خودغرضی اور فضول تنازعات؟

  



معروضی حالات کو دیکھیں تو آج جو کچھ ملک میں ہو رہا ہے، یہ خودغرضی کے سوا کچھ نہیں کہ ہر کوئی اپنی اپنی کہہ رہا ہے، کسی کو ملک اور قوم کی فکر نہیں، ہر کوئی پہلے آپ کی بجائے پہلے میں کے فارمولے کے تحت زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ سڑک پر کوئی کسی کو راستہ دینا گوارا نہیں کرتا، ملکی حالات اور درپیش خطرات کو نظر انداز کرکے ہر روز کوئی نیا تنازعہ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ یہ سطور گواہ ہیں کہ میں نے ہمیشہ ملکی اور قومی مفاد کو پیش نظر رکھا اور تنقید کی تو بھی پس منطر میں یہی تقاضا تھا اسی لئے کوشش یہ ہوتی ہے کہ متنازعہ مسائل سے پہلو بچا لیا جائے، سیاسی قائدین سے ہمیشہ یہ درخواست کی کہ وہ قومی مسائل پر قومی اتفاق رائے پیدا کریں۔ سیاست کو سیاست کی جگہ رہنے دیں، جو اپنا حق جانتے ہیں، اسی کو دوسرے کے لئے بھی محفوظ سمجھیں، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو پا رہا، بھارت کے جوروستم جاری ہیں، فلسطین اور برما (روہنگیا) کے مسلمانوں پر تو گزری وہ گزر ہی رہی تھی کہ کشمیر اور بھارت میں مقیم مسلمانوں پر نئی قیامت ڈھائی گئی اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

بدقسمتی سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی اور ہماری کیفیت یہ ہے کہ برادر ملک ترکی کے صدر اور ایران کے روحانی پیشوا نے بھارتی مسلمانوں کی حمایت کی تو ہم شکریہ ادا کرتے نہیں تھک رہے۔ جبکہ اسلامی کانفرنس کے وفد نے پاکستان اور کنٹرول لائن کا دورہ کرنے کے باوجود توقعات کے مطابق ردعمل ظاہر نہیں کیا اور یہ کہہ کر تسلی دے دی کہ جلد ہی تنازعہ کشمیر پر اسلامی کانفرنس کے کشمیر گروپ کا اجلاس بلایا جائے گا، تاہم ابھی تک ہم منتظر ہیں کہ یہ حضرات و ممالک بھارتی مسلمانوں کے قتل عام پر بھی کچھ کہیں اور کارروائی کریں، ان حالات میں جب میں اپنے اندرونی جھگڑوں اور تنازعات کو دیکھتا ہوں تو دل جل جاتا ہے۔ طبیعت پر اضمحلال طاری ہوتا اور کئی بار بولنے تک کو جی نہیں چاہتا، اردگرد بھی دکھ ہی بکھرے ہوئے ہیں، خود پر اور ساتھیوں، دوستوں پر معاشی تنگ دستی کے بادل چھائے ہوئے ہیں، ملک کے اندر غیر ضروری مسائل اور تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔

گزشتہ روز(جمعہ) نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد کا رخ کیا تو خطیب محترم بھی تنازعہ پر ہی بات کرنے پر مجبور تھے۔ انہوں نے بھی اس نئے اور فضول نعرہ کی مذمت میں زور بیان صرف کیا ”میرا جسم، میری مرضی“ اور عورت مارچ کے حوالے سے تنقیدی تقریری کی(یہ مارچ آج ہونا ہے)محترم خطیب صاحب نے اس کے علاوہ جو بات کی میرے نزدیک اس سے بھی اہم تھی، انہوں نے کرونا وائرس کے خوف سے مسجد نبوی اور حرم کعبہ کی بندش اور عمرہ کے ویزے منسوخ کرکے سعودی عرب میں موجود زائرین کو واپس بھجوانے کے فیصلے پر تنقید کی، میرے نزدیک اس میں جو اہم بات تھی وہ ان کا دین کی رو سے موقف ہے، ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین تو وہ مقدس و مکرم مقام ہیں جہاں مسلمان اپنے اور اپنے بچوں اور ملک و قوم کے لئے دعا مانگنے جاتے ہیں اور یہاں موت کا خوف طاری ہو گیا اور حرمین خالی کرا لئے گئے ہیں، حالانکہ رسول اکرمؐ کا فرمان اور ذات باری کا فیصلہ ہے کہ موت کا ایک دن معین ہے۔

جو ٹل ہی نہیں سکتا اور بقول حضرت علی المرتضیٰؓ موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے، لہٰذا یہ کوئی مناسب اقدام نہیں، میں خود بھی اس کی تائید کرتا ہوں کہ موت تو وقت پر ہی ائے گی اللہ سے دعا کرنا چاہیے کہ یہ آسان ہو، البتہ جہاں تک حفاظتی اقدامات کا تعلق ہے تو عرض یہ ہے کہ اس کے لئے بھی ہمارے رسول محترمؐ نے فرمایا ہوا ہے کہ اس کے لئے تردد کرو، دعاؤں کے ساتھ دواؤں کا بھی اہتمام کرو، اس طرح میں اپنے پاکستان کی حکومت اور انتظامیہ کے اقدامات کی تعریف کروں گا کہ یہاں موثر حفاظتی اقدامات کر لئے گئے اور اللہ کا کرم ہے، یہ وائرس بہت ہی محدود رہا جن چھ افراد میں ثابت ہوا، ان میں سے بھی ایک مریض صحت یاب ہو گیا۔ یہ اللہ کا کرم ہے، یوں بھی پاکستانی قوم زیادہ بے فکروں کی ہے کہ کرونا کابھی اتنا خوف نہیں، جتنا دنیا میں ہے۔ اللہ سے ہر وقت کرم کی دعا کرنا چاہیے۔

بات تو کرنا تھی اس تنازعہ کی جو یا تو جان بوجھ کر پیدا کیا گیا یا پھر زیادہ ہی آزادی کے مظاہرے کی ضرورت محسوس کر لی گئی۔ شائد یہ اثر تحریک انصاف کا ہو کہ جہاں مخلوط اجتماعات فراخدلی سے منعقد ہوئے اور ہوتے ہیں، تاہم اب تو خود تحریک انصاف والے بھی اس قدر آزاد روی کے قائل نہیں، یہ تنازعہ ہے، ”میرا جسم، میری مرضی“ کے فضول قسم کے نعرے کا، اس پر بہت طویل بحث چھڑ گئی، عورت مارچ اور یہ نعرہ گڈ مڈ ہو کر رہ گیا، ایک طرف خواتین کے حقوق کی بات ہے تو دوسری طرف اس نعرے نے تنازعہ پیدا کر دیا ہے، جو بادی النظر میں بھی ہماری روایات، معاشرت اور دین سے بھی متصادم نظر آتا ہے، حالانکہ عورت کے عالمی دن کے حوالے سے جو مطالبات سامنے آ رہے ہیں، ان میں کوئی حرج بھی نہیں دکھائی دیتا لیکن بحث ہے کہ چلی جا رہی ہے، اس مسئلہ کو بھی عدالت تک لے جایا گیا اور وہاں سے بھی فیصلہ منطقی اعتبارسے ہوا۔ اس لئے عورت مارچ والوں کو بھی اقدار اور معاشرت کی تو پیروی کرنا چاہیے، چاہے یہ دین کو ملّا کا مذہب کہہ کر تضحیک کی کوشش کریں۔

یہ واقعی مغرب زدگی ہے،جس قسم کا لباس آج ہماری بچیاں اور خواتین پہن کر باہر نکلتی ہیں، یہ تو کئی سال پہلے مغرب ہی میں رائج ہوئے اور یہ پوری ستر پوشی کے ضمن میں بھی نہیں آتا، میں اکثر خواتین کو سیر صبح کرتے دیکھتا ہوں، ان میں سے کچھ برقع میں ہوتی اور اکثر چادر سے ستر پوشی کرکے آئی ہوتی ہیں، تاہم جو خواتین عبایہ اوڑھ کر آتی ہیں ان کا احترام کرنے کو جی چاہتا ہے۔ میں نے اکا دکا ایسی خواتین کو بھی دیکھا ہے جو تنگ جین کے باوجود خود کو پوری طرح ڈھانپنے کے لئے چادر استعمال کرتی ہیں، اگر کبھی پشاور کا گزر ہو تو وہاں چادر سے لپیٹ کر جسم کو ڈھانپنا بہت مرغوب اور بہتر نظر آتا ہے۔ بہرحال قرآن مجید فرقان حمید خود خواتین کے حقوق اور ان کی توقیر کا ذکر کرتا ہے اور قرآن کی دو سورتوں میں تفصیل موجود ہے۔ مغرب زدہ خواتین سورۃ البقر اور سورۃ النساء کا ترجمہ پڑھ لیں خواہ انگریزی والا ہی ہو، بہتر یہ ہے کہ تنازعات سے بچا جائے۔ میری خواہش اور درخواست ہے۔

مزید : رائے /کالم