وزراء کے بیان مشکل میں ڈال دیتے ہیں ، گندم، چینی بحران کی رپورٹ سامنے لائیں گے، ذمہ دار کتنے بھی طاقتورہوں چھوڑ وں گانہیں: عمران خان

          وزراء کے بیان مشکل میں ڈال دیتے ہیں ، گندم، چینی بحران کی رپورٹ سامنے ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ملک میں آٹا بحران سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ ایف آئی اے کی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دی گئی ہے جب کہ وفاقی حکومت نے بحران سے متعلق رپورٹ صوبوں سے بھی شیئر کر دی ہے۔ ایف آئی اے کی رپورٹ میں حالیہ آٹا بحران کو مصنوعی قرار دیا گیا اور بدانتظامی کو آٹا بحران کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں گندم کا کوئی بحران نہیں تھا، مصنوعی طور پر گندم کی قلت پیدا کی گئی، ملک میں اب بھی 2.1 ملین میٹرک ٹن گندم موجود ہے۔دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آٹے چینی بحران پر تحقیقاتی رپورٹ سامنے لائینگے، جو بھی قصور وار نکلا چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو نہیں چھوڑوں گا۔پاکستان تحریک انصاف سوشل میڈیا ارکان سے ملاقات کے دوران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صبح اٹھ کر موبائل دیکھتا ہوں تو پتا چل جاتا ہے کہ آج کس کرائسس کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کچھ نہ کرے تو اپنا کوئی وزیر ایسا بیان دے دیتا ہے کہ اسکو سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے اور یہ مشکل میں ڈال دیتا ہے، ایسے بھی وزیر ہیں جو دفتر سے زیادہ اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں بیٹھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے خلاف جان بوجھ کر جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی ہیں، سوشل میڈیا پر مثبت تنقید بالکل ہونی چاہیئے، حکومت پر اٹیک کرنے سے پہلے تصدیق کرلیں کہ خبر سچی ہے یا جھوٹی۔ اکثر ہمارے اپنے لوگ میڈیا کی فیک نیوز کے پراپیگنڈے میں آجاتے ہیں۔وزیراعظم کا مزید کہنا تھاکہ ہر وقت کرائسس کے لیے تیار رہتا ہوں، آٹے چینی بحران پر تحقیقاتی رپورٹ سامنے لائی جائے گی، جو بھی اس میں قصور وار نکلا اسکو میں نہیں چھوڑوں گا چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، مایوسی کفر ہے اچھا وقت جلد آئے گا۔گورنرہاؤس کراچی میں منعقدہ تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کراچی کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، یہ ترقی کرے گا تو پاکستان آگے بڑھے گا، سندھ میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، کراچی کی ترقی کی بھرپور کوشش کریں گے،پنجاب کے آدھے ترقیاتی فنڈز لاہور پر خرچ کردیے گئے، ہم چاہتے ہیں کہ پولیس میں کسی قسم کی مداخلت نہ ہو، خیبر پختونخوا اور پنجاب کی پولیس کو آزاد کر رہے ہیں،خود ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کیلئے آنا چاہتا تھا لیکن موسم کی خرابی کے باعث ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔وزیراعظم عمران خان نے گو کہا کہ میں کراچی کے لوگوں سے معذرت کرتا ہوں، اس لیے کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے نہیں آسکا۔انہوں نے کہا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ آنے کی وجہ ڈیڑھ سال پہلے ہماری حکومت آنے کے بعد شروع کیے گئے منصوبوں کا افتتاح کرنا تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ 'ان منصوبوں میں 3 فلائی اوور اور 2 سڑکیں ہیں، کراچی پاکستان کا وہ شہر ہے، اگر کراچی اوپر جاتا ہے تو سارا پاکستان اوپر جاتا ہے، جب کراچی کا برا وقت آتا ہے تو سارے پاکستان کو یہ متاثر کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی ترقی کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو روزگار فراہم کیا جائے، نئے بلدیاتی نظام سے بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے خیبرپختونخوا (کے پی)میں پولیس کے نظام کو ٹھیک کیا اور پنجاب میں پولیس نظام ٹھیک کررہے ہیں، ماضی میں پنجاب کے آدھے فنڈز لاہور پر خرچ کیے گئے مگر اب ہم پورے صوبے پر خرچ کررہے ہیں۔ لاہور کو ترقی ملی لیکن باقی صوبہ متاثر ہوا، میٹرو پولیٹن اپنا پیسہ خود اکٹھا کریں، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں یہی سسٹم لا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں سندھ میں بھی ایسا پولیس سسٹم آئے۔انہوں نے کہاکہ سندھ میں پولیس کی کارکردگی نہ ہونے کے باعث رینجرز کو تعینات کرنا پڑتی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بڑے شہروں کا نظام مختلف ہوتا ہے، صوبے کے ترقیاتی فنڈ سے کراچی کے مسائل حل نہیں ہوسکتے، سندھ میں تحریک انصاف کی حکومت نہ ہونے کے باوجود یہاں کے عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم سندھ کی ترقی کیلئے پوری کوشش کریں گے۔وزیراعظم عمران خان نے صوبہ پنجاب میں 10 میں سے 5 خصوصی اقتصادی زونز قائم کرنیکی منظوری دے دی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں خصوصی اقتصادی زونز بھلوال، بہاولپور، رحیم یار خان میں بنیں گے۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ سندھ میں 2 خصوصی اقتصادی زونز نوشہرو فیروز اور بھلاری میں بنیں گے جبکہ بلوچستان میں بھی 2 خصوصی اقتصادی زونز بوستان اور حب میں بنیں گے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایک خصوصی اقتصادی زون رشکئی میں بنایا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اب تک 13 خصوصی اقتصادی زونز کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ سرکاری شعبے میں 12 مزید خصوصی اقتصادی زونز کے قیام پرکام ہورہا ہے اور نجی شعبے میں 6 خصوصی اقتصادی زونز پر بھی پیشرفت جاری ہے۔

عمران خان

مزید : صفحہ اول