4شہروں میں انسداد تشدد مرکز برائے خواتین قائم کرنیکا منصوبہ

  4شہروں میں انسداد تشدد مرکز برائے خواتین قائم کرنیکا منصوبہ

  



ملتان(سپیشل رپورٹر)خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے گزشتہ روز انسداد تشدد مرکز برائے خواتین میں سیمینار منعقد ہوا جس میں وزیر توانائی پنجاب ڈاکٹراختر ملک،چئیرپرسن پنجاب وومن پروٹیکشن اتھارٹی کنیز فاطمہ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ممبرصوبائی(بقیہ نمبر37صفحہ12پر)

اسمبلی سبین گل،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمدطیب خان، اسسٹنٹ کمشنر سٹی عابدہ فرید،ڈی جی وومن پروٹیکشن اتھارٹی ارشادوحید،ضلعی صدر پی ٹی آئی خالد جاوید وڑائچ،منیجرانسداد تشدد مرکز برائے خواتین ثناء جاوید اور سائکالوجسٹ منیزہ بٹ بھی سیمینار میں موجود تھی۔سیمینار میں خواتین کی بھرپور شرکت کی۔وزیرتوانائی پنجاب ڈاکٹراختر ملک نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت خواتین کو زندگی کے تمام شعبوں میں پروموٹ کرنے پر توجہ دے رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے خواتین کیکردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔اسلام نے مرد اور خواتین کے حقوق اور کردار کا تعین کر دیا ہے۔اسلامی معاشرے میں جو حقوق خواتین کو حاصل ہیں وہ کسی دوسرے معاشرے میں حاصل نہیں۔چئیرپرسن وومن پروٹیکشن اتھارٹی پنجاب کنیز فاطمہ نے کہا کہ انسداد تشدد مرکز برائے خواتین ایشا کا سب سے بہترین سنٹر ہے۔حکومت پنجاب نے لاہور، فیصل آباد،راولپنڈی اور بہاولپور سمیت ان چار شہروں میں انسداد تشدد مرکز برائے خواتین قائم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔خواتین میں آگاہی کے لیے انسداد تشدد مرکز بارے مہم شروع کی جارہی ہے۔چئیرپرسن نے کہا کہ فاطمہ جناح ہمارے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ہر شعبہ میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کردار ادا کر رہی ہیں۔پاکستان کی خواتین میں بہت ٹیلنٹ موجود ہے۔ ممبر صوبائی اسمبلی و ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب سبین گل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے تمام قوانین موجود ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کو اس بارے آگاہی دی جائے۔انہوں نے کہا کہ خواتین اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلانے پرخصوصی توجہ دیں۔انہوں نے انسداد تشدد مرکز برائے خواتین کو درپیش مالی دشواریوں کی نشاندہی بھی کی اور چئرپرسن وومن پروٹیکشن اتھارٹی کو فنڈز دلانے کے لیے کردار ادا کرنے کے کہا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد طیب خان نے کہا کہ قیام پاکستان سے تعمیر پاکستان تک خواتین کا بہت بڑا کردار ہے۔وارثت بارے حکومت نے انتظامیہ کو وسیع اختیارات دئے ہیں۔وارثت کے حق سے محروم کی جانے والی خواتین ڈپٹی کمشنر آفس رابطہ کریں۔اسسٹنٹ کمشنر سٹی عابدہ فرید نے خطاب میں کہا کہ انسداد تشد مرکز برائے خواتین ون ونڈو آپریشن کی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو معاشی آزادی حاصل کرنیکی ضرورت ہے جس کے لیے خواتین کو مواقع فراہم کئے جانے چاہیں۔ضلعی صدر پی ٹی آئی خالد جاوید وڑائچ نے کہا کہ پاکستان کی خواتین میں بہت ٹیلنٹ ہے۔ڈی جی وومن پروٹیکشن اتھارٹی ارشاد وحید نے کہا کہ مذہب اسلام میں خواتین کو بے پناہ حقوق حاصل ہیں۔خواتین کو حقوق دلانے کیلیے مرد کا کردار بہت اہم ہے۔سیمنار کے اختتام پر کیک بھی کاٹا گیا۔اس موقع پر مرکز میں خدمات سرانجام دینے والے ملازمین میں تعریفی سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کئے گئے۔وزیر توانائی پنجاب ڈاکٹراختر نے مرکز کا معائنہ بھی کیا۔انہیں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اب تک 4 ہزار خواتین انسداد تشدد مرکز برائے خواتین رابطہ کر چکی ہیں اور مرکز میں قائم پولیس اسٹیشن میں 98 مقدمات درج کئے گئے ہیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر