تیرا پنڈہ تیری کھرک

تیرا پنڈہ تیری کھرک
 تیرا پنڈہ تیری کھرک

  



میں تو سمجھتا تھا کہ بابا بوٹا ہی گالاں کڈتا ہے لیکن قربان جاؤں اپنی دھرتی کے کیسے کیسے پڑھے لکھے بوٹے عطا کئے جو آن سکرین کمال کی گالاں کڈتے ہیں اور خود کو دانشور بھی قرار دیتے ہیں۔ سلام ہے ان کی جرات پر۔ جب آپ کی دلیل کمزور ہو جاتی ہے تو لہجہ بلند ہو جاتا ہے ادھر تو خلیل کی دلیل کمزور ہو نہ ہو غلاظت کی غلیل پر گالاں ہوتی ہیں کہ شرفا اپنا ٹی وی ہی بند کرلیں۔ بھیا میرے دانشور کا تو پتہ ہی اس کے غصے سے چلتا ہے۔ ورنہ دانشور اور بابا بوٹے میں فرق کیا رہتا ہے۔ واہ بہادر شاہ ظفر نے کیا خوب کہا……

ظفر آدمی اس کو نہ جانیئے گا

سو وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا

جسے عیش میں یاد خدا نہ رہے

جسے طیش میں خوف خدا نہ رہے

میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں میاں خلیل کے موقف سے مکمل متفق ہوں لیکن ان کے اظہار گفتگو سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ سوچنا وی ناں، میری طرف سے میاں خلیل گالیوں کی جتنی مرضی فاختائیں اڑائیں، ہم کن لپیٹ کے نکل چکے ہیں۔ ماشاء اللہ میں سمجھتا تھا کہ میاں خلیل اخلاق کے میدان میں ہمارے ساتھ چل چھیاں چھیاں گاتے پھر رہے ہیں، لیکن انہوں نے تو انہونے تو کم چک دیا۔ سنتا سنگھ پیزا لینے گیا۔ کاؤنٹر پر کھڑے لڑکے نے پوچھا سردار جی پیزے کے چار پیس کروں یا آٹھ۔ سنتا سنگھ بولا چارہی کردو ہن اٹھ پیس کون کھائے گا۔ ماروی سرمد کھے کھانا چاہتی تھی تو کھانے دیں۔ کھے کھائے ہماری طرف سے خصماں نوں کھائے۔ آٹھ پیس اور چار پیس کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے، لیکن میاں خلیل الرحمن اگر یہ اپی سوڈ نہ کرتے تو پھر یہ ایشو پورے پاکستان کا ایشو کیسے بنتا۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ ملی بھگت تھی۔وچوں وچ کوئی کم پڑا ہے۔ ایسا ٹوپی ڈرامہ ہوا کہ پورے پاکستان کو ٹوپی پہنا دی اور پھر رہی سہی کسر راندۂ درگاہ، شوبز کے بعد سیاسی میدان میں لور لور پھرنے والے عامر لیاقت نے پوری کردی۔ ان کے تو ماتھے پہ لکھا ہے ضد نہ کر سوہنیا عامر تے آپ بڑا ضدی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گند گالی گلوچ میں اب بھی وہ نمبر ون ہیں۔ سپرون مولا جٹ ہیں۔ اندازہ کریں ہماری قوم کی بدقسمتی کا نہ تعلیم ایک نمبر نہ دانشور اور عالم۔ میاں جو جتنا بڑا بھانڈ اتنابڑا ہیرو ہے اور رہ جاتے ہیں ہم جیسے جنہیں آپ تین میں گنتے ہیں نہ تیرا میں۔ سنتا سنگھ سڑک پر کھڑا اپنے ٹفن کو غور سے دیکھ رہا تھا کسی نے پوچھا سردار جی کیا دیکھ رہے ہیں وہ بولا ٹفن دیکھ رہا ہوں اگر یہ بھرا ہوا ہے تو میں دفتر جا رہا ہوں اور اگر خالی ہے تے فیر گھر چلاں واں۔ کیا یادداشت کیا مثانہ، سب کمزور۔قوم کو یاد ہی نہیں رہتا ہے کب کس نے کیا کیا۔ کب کس نے کیا کہا۔ ہمارے معصوم سابق وزیراعظم شاہد خاقان کہہ رہے تھے کہ ہمیں ایک بار موقع دیں ہم کراچی کو چمکا دیں ے۔ خیر وہ اب شکر دوپیر پپلی دے تھلے بیانات کی ونگاں چھنکائیں۔ فی الحال وہ ونگاں ہی چھنکا سکتے ہیں کراچی نہیں چمکا سکتے، ماضی میں وہ یہ خدمات انجام دے چکے ہیں۔ معاف کیجئے ہم آپ سے کم نہیں یعنی تسی سیر اوتے اسی سوا سیر، یادداشت آپکی کمزور ہے تو ہماری بھی کمزور ہے اور دوسری کمزوری یادداشت کی وجہ سے یاد نہیں آرہی۔ ہم بات کر رہے تھے ماروی سرمد اور میاں خلیل کی، حیران ہوں ملک میں غربت بھوک ننگ بے روزگاری بے چینی بڑھ رہی ہے اور چند ممی ڈیڈی طلاق یافتائیں غیر ملکی ڈالروں کی لے پر میرا جسم میری مرضی کرتی پھر رہی ہیں اور ہمارا میڈیا بھی ایک غیر محسوس انداز میں انہیں سپورٹ کر رہا ہے۔

سنتا سنگھ بتا رہا تھاکہ اس کی بیوی کی کمر میں کھرک ہوئی تو وہ بولی سردار جی ذرا کھرکنا، سنتا بولا تیرا جسم تیری مرضی ہے تو فیر کھرک وی تیری اے۔ اب خود بتائیں ہم کیوں ایسی خواتین کی کھرک دور کریں، بھائی میں سیدھا سادھا مسلمان ہوں، آپ کا جسم آپ کی مرضی پر مجھے کوئی اعتراض نہیں، لیکن اگر میرے بس میں تو ہو میں ان چند جسمانی طور پہ خود کفیل عورتوں پر ملک کی سیدھی سادھی خواتین کو اکسانے کا پرچہ کرا دوں۔ پھر سوچتا ہوں کہ میں بھی بس سیدھا سیدھا عمران خان ہوں،مجرموں لٹیروں ذخیرہ اندوزں کو سزا دینے کا سوچ سکتا ہوں بڑھک مار سکتا ہوں لیکن انہیں سزا نہیں دلوا سکتا۔ کاش اس ملک کا آئین، ادارے،قوانین میرے ہوتے تو میں بھی اعتماد سے کہتا میرا ملک میری مرضی، یورپ میں مسلم خواتین کا حجاب زبردستی اتارنے والوں کو بتاتا کہ جو بے حیائی تم ڈالروں کی مد میں ہمارے معاشرے میں میرا جسم میری مرضی کے نام پر پھیلانا چاہتے ہو اس نعرے کی تھوڑی سی اپنے ملک میں حیا کرلو۔یورپ کا سب سے بڑا مسلۂ ناجائز اولادیں میرا جسم میری مرضی کا ہی نتیجہ ہے۔

امان اللہ خان صاحب چلے گئے، وہ اس کثافت بھرے معاشرے میں مسکراہٹ کا استعارہ تھے۔ یہ معاشرہ اور اس کے کرتا دھرتاؤں کا بس چلے تو ان کلبلاتے کیڑوں کی سانسیں تک چھین لیں انکے چہروں سے مسکراہٹیں نوچ لیں، ایسے قحط الرجال میں امان اللہ خان صاحب اللہ کی عظیم نعمت تھے۔ نجانے کیوں اس معاشرے سے رحمتیں آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہیں، میں اس سوسائٹی کے مالکوں اور ان کے کن ٹٹوں سے جنہوں نے اس عظیم فنکار کو وہاں دفن ہونے سے روکا،متفق ہوں کہ امان اللہ صاحب کو وہاں دفن نہیں کیا جانا چاہئے تھا۔ اس دھرتی پہ بس تگڑوں سرمایہ داروں ملاوٹ کرنے والے ذخیرہ اندوز قبضہ گروپ منشیات فروشوں کا حق ہے۔ ایک محبت کے مسکراہٹ کے امام کا یہاں کیا کام، یہاں فیاض الحسن چوہان کا ذکر نہ کرنا صحافتی بددیانتی ہوگا۔ انہوں نے ایک رہنما کا کردار بتایا۔انکی دبنگ انٹری اور اخلاقی سٹینڈ کو ہمارا سلام ہے۔سٹیج کے بڑے ہیرو کی تدفین میں انہونے ہیرو والا رول ادا کیا۔

مزید : رائے /کالم